تازہ ترین
شوقین مزاج ڈاکڑ اور وومن پاور

شوقین مزاج ڈاکڑ اور وومن پاور

جرم تو بہت بڑا ہے ۔کیا سوچ کے اتنی بڑی جرات کی ۔تم توایک معمولی سے ڈاکٹر تھے ۔چار بچوں کے باپ بھی تھے ۔اسپتال بہت بڑا سہی ۔تم تو ایک چھوٹے سے ڈاکٹر ہی تھے ۔نہ کوئی بڑے سرجن ،نہ کوئی نامور اسپیشلسٹ اور نہ اسپتال کے مالک ۔کنوارے ہوتے ،بینک بینلس والے ہوتے ،کسی بڑے بزنس مین کے بیٹے ہوتے ۔کسی نامور سیاسی خاندان کے چشم و چراغ ہوتے ۔کسی ارب کھرب پتی بیورکریٹ کے داماد ہوتے ۔
مطلب کچھ تو ایسے ہوتے کہ تمہارے اس شرمناک جرم کی پردہ پوشی کرنے کو دل چاہتا ۔ارے تم تو نرے ڈاکٹر ہی تھے ۔ایمرجنسی میں لمبی شفٹ کے قیدی،زندگی اور موت کے درمیان آئے ہوئے پریشان حال مریضوں کے درمیان بھاگ دوڑ کرتے ہوئے اور ایک شدیدٹینس فل ماحول میں ذاتی تسکین کو ترستے ہوئے، بہت سے ڈاکٹرز نما روبوٹس کے بیچ ، آخرتم یہ دوستی کا چکر کہاں سے پال بیٹھے ۔افسوس صد افسوس تم اپنا فرض بھول کے دل کی بات مان بیٹھے ۔نہیں ! دوست اس کی اجازت کون دے گا ۔وہ بھی ایک نامور ہستی کی چھوٹی بہن کو دوستی کا پیغام دے دیا ۔شکر کرو دوست نوکری ہی گئی ،اگر ہراسمنٹ کا کیس بھی ٹھونک دیا جاتا تو جانے کتنے برس کیلئے ’اندر ‘ ہوجاتے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوتا ۔یہ تو سستے میں جان چھوٹ گئی ۔اب چاروں بچوں اور اُن کی اماں کے ساتھ ہاتھ اٹھا اٹھا کے شکر بجا لاؤ کہ سخیوں سے پالا پڑا ورنہ خود بھی رُلتے اور بیوی بچے بھی رُل جاتے ۔حیرت ہے جدید دورمیں رہتے ہوئے، ڈاکٹری پڑھ لکھ کے بھی، ایک ماڑدن اسپتال میں جاب کرتے ہوئے بھی، وومن پاور کے کراکرے وار سے ناوقف ٹھہرے۔

Image result for sharmeen obaid chinoy doctor issueاس موقع پر ممتاز شاعر انور شعور کا ایک مقطع یاد آگیا ،غزل تو پوری کی پوری اپنی جگہ خوب ہے لیکن یہاں صرف مقطعے کی گنجائش بنتی ہے: ۔
شعو ر تم نے خدا جانے کیا ،کیا ہوگا
ذرا سی بات کے افسانے تھوڑی ہوتے ہیں
اب پہلے مصرعے کے آخری ٹکڑے ’کیا ،کیا ہوگا ‘ کو زور دے کر اور آواز کو پُر تجسس انداز میں کھینچ کے پڑھو تو پہلے مصرعے کی وسعت اور کار فرمائی کا کچھ ا دراک ہوگا ۔اس کے بعدایک بار پھر مصرعہ ء ثانی کو پڑھو’ذرا سی بات کے ‘ پھر پڑھیں ’ذرا سی بات کے ،اب لہجے میں طنز آمیز کیفیت کی آمیزیش کرو اور پھر پڑھو ’افسانے تھوڑی ہوتے ہیں ‘۔یعنی دوست اب تم نے نہ جانے اس دوستی کی خواہش میں ’جانے کیا ،کیا ہوگا ‘ ورنہ اس چھوٹی سی ،بے ضرر سی ،معصوم سی آرزو کے ساتھ اتنے افسانے کہاں سے جنم لیتے ۔ اورایک آسکر ونر عالمی شہرت یافتہ ڈاکو مینٹری میکر ڈائریکڑ کو اتنا سخت طیش کیوں آتا اور روشن خیال لکھاری آمنہ مفتی کو تم جیسے آوارہ مزاج ،دل کے ہاتھوں مجبور اور نتائج سے لاپروا ڈاکٹر کیلئے تمام شوقین مزاجوں کے پرزے اُڑاتے ہوئے ، یہ کیوں لکھنا پڑتا ’حذر کرو اُن کے غصے سے ،اپنی حدوں میں رہو اور ڈرو کہ ابھی دو چار ہیں ،کل کو جب ہزاروں ہو گئیں تو کہاں جاؤ گے ‘۔اس جملے کی سفاکیت پر غور کرو دوست ،اگر اس سفاکیت کو سمجھ جاؤ گے تو تما ری روح تک کانپ جائے گی ۔سوچو ایک سپر وومن کی جگہ معاشرے میں جگہ جگہ ایسی ہی سپر وومنزکی بھرمار ہوگئی تو تماسرے شوقِ فضول کا کیا بنے گا اور تم سے سیکڑوں ،لاکھوں اور کروڑو ں عاقبت نا اندیشوں کا حشر کیا ہوگا۔ (ہاہاہاہا)

خدائے سخن میر تقی میر نے کہا تھا: ۔
وصل اُس کا خدا نصیب کرے
میر ،جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ
اب اس شعر کو ٹکڑے کر کے پڑھو ’وصل اُس کا ‘ وصل تو تم سمجھتے ہی ہوگے ،چار بچوں کے باپ ہو ،ڈاکٹر بھی ہو ،’وصل ‘ اور وصال ۔قرب اور قربت ،خلوت اور تنہائی میں محبوب سے ہونے والی پُر شوق ملاقات کو یقیناًسمجھتے ہو گے ۔اب ’خدا نصیب کرے ‘ جیسے ٹکڑے کی قرآت کرو ۔اس وصل کی خواہش میں خدا کی رضا بھی شامل کر دی گئی ہے یعنی وصل میں ایک رنگِ آسمانی کی شمولیت سے ’وصل ‘ کی پاکیزگی کا امکان بھی پیدا کر دیا گیا ۔میر خدائے سخن ہیں ،معمولی سی معمولی بات اور کسی مجازی جذبے کو بھی وہ اوپر بہت اوپر تک اٹھا سکتے ہیں مگر ’میر ،جی چاہتا ہے ،کیا کیا کچھ ‘ مصرعہ ء ثانی میں بات پھر آسمان کی بلندی سے زمین تک آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور ’میر ،جی چاہتا ہے ‘ کے بعد کا ٹکڑا ’کیا کیا کچھ ‘ میں محبوب کے ساتھ خواہشات کی طویل اور اَن کہی فہرست کے ظہور کے ساتھ ،حسرتوں اور نا آسودہ آرزووں کی ایک ایسی دنیا چہرہ نمائی کرنے لگتی ہے،جس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی ۔’کیا کیا کچھ‘ اس میں واقعی بڑی وسعتیں ہیں۔اب اس ’کیا کیا کچھ ‘ کی کارفرمائیاں ہی تو ہیں کہ ’دل ہے کہ مانتا نہیں ‘ والی حالت غالب آ جاتی ہے اور بے ساختہ ’غالب ‘ یاد آجاتے ہیں اور اُن کی ایک فوٹو گرافک تھیم میں کہی گئی ،شاہ کار غزل دماغ پر دستک دینے لگتی ہے ،دماغ پر اس لیے کہ غالب دل سے زیادہ ’دماغ ‘ کو اپیل کرتے ہیں۔یہ اور بات کہ غالب کا دل بھی دماغ کا کام کرتا ہے۔

Image result for sharmeen obaid chinoy doctor issue

خیر! اس فوٹو گرافک تھیم والی غزل کا یوں تو ہر شعر ہی بڑا قاتل ادا ہے اور مجسم تصویر بننے کے قابل بھی ہے ،تاہم یہاں تین شعروں پر اکتفا کرتے ہیں ،باقی غزل نیٹ پر سرچ کرکے پڑھ لینادوست ،اس سچویشن میں مزا دے گی: ۔
غنچہ ء ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بُوسے کو پوچھتا ہوں میں ،منہ سے مجھے بتا کہ یوں
میں نے کہا کہ بزمِ ناز ! غیر سے چاہیے تہی
سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
بزم میں اُس کے رو بہ رو کیوں نہ خموش بیٹھیے
اُس کی خامشی میں ہے یہی مدعا کہ یوں

باقی تصویر کشی تو چھوڑیے ،غالب تو غالب ہے ،ہر شعر میں ایک نیا جہانِ معنی مہیا کر دیتا ہے ۔آئیے ! یہاں درج اس کے آخری شعر پر تھوڑی سی بات کر لیتے ہیں ۔’بزم میں اُس کے روبہ رو ،کیوں نہ خموش بیٹھیے ‘ یعنی بزم میں اور یہ بزم ،بزمِ حقیقی ہی نہیں بزمِ خیال بھی ہو سکتی ،بزمِ خواب بھی ہوسکتی ہے ۔ بزمِ امکان بھی اور بزم حسرت بھی ۔تاہم احتیاط کہیے ،حکم کہیے ،چشمِ نگراں کا پر درہ پیغام کہیے یا ایک کھلا اعلان اور کھلا نوشتہ کہ ’چپ ‘ بیٹھو ، خاموش رہو ۔یہاں بولے اور مارے گئے ،چپ توڑی اور کام سے گئے ۔اب دوست تم تو ڈاکٹر ہو یوں تو بہت سے ایم بی بی ایس ڈاکڑ بھی شعرو ادب سے شغف رکھتے ہیں اور شغف ہی کیا بعض تو خود بھی خوب جم جماکے شاعری کرتے ہیں ۔دبئی میں مقیم ’ثروت زہرا ‘ کو لے لو پوری ڈاکٹر اور پوری شاعرہ مگر دوست تم نے غالب کی یہ غزل پڑھی بھی ہوگی تو پتے کی بات گرہ سے نہ باندھی ہوگی ۔اگر باندھ لیتے تو چپ سادھ لیتے ،کچھ نہ کہتے ،مدعا سمجھتے ۔یارمقابل کی خاموشی کا مدعاتو سمجھتے لیکن تم چار بچوں کے باپ ہوتے ہوئے بھی،مقابل کی تاکید کے باوجود اپنی چپ توڑ بیٹھے ،اب نتیجہ بھگت لیا نا ۔اب بارِ دگر کہیں جاب پر لگ جاؤ اور بارِ دگر کوئی ایسی ہی دل للچادینے والی سچویشن درپش ہو تو خود کو سو بار سمجھانا اور ڈرنا اُس وقت سے کہ اُس بار جاب ہی نہیں ،عزت ہی نہیں ،’کیا کیا کچھ ‘ ہوسکتا ہے ،سوچنا اور چپ ہی رہنا ۔ اب رہی دوسری پارٹی تو اس کے لیے،اور خاص طور پر تفاخر بھرے: ۔ ٹوئیٹ کی روشنی میں جمال احسانی کا صرف ایک مصرع محض ایک لفظ کی ترمیم کے ساتھ یہاں عرض ہے
کمال اُس نے اور تم نے حد کردی
ڈاکڑ کا تو علم نہیں لیکن میں تواس کیس کے بعد وومن پاور سے بہت ڈر گیا ہوں اور کسی عشق پیشہ کا ڈرجانا،ذاتی ہی نہیں اجتماعی المیہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top