تازہ ترین
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے (حصہ دوئم)

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے (حصہ دوئم)

بھارت کا شہر امروہہ کی سرزمین نے انیسویں صدی عیسوی میں ادب، فلسفہ اور شاعری میں بڑے نامور گنجہائے گراں مایہ پیدا ہوئے ہیں۔ اس مردم خیز علاقے کو ایک ہی خاندان میں بیک وقت شاعر بے بدل فلسفی ،ادیب اور صحافی پیدا کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ امروہہ کے علمی خاندان سے تعلق رکھنے والے سید شفیق کے گھرانے میں تین صاحبزادے پیدا ہوئے سب سے بڑے انیس امروہوی، دوسرے سید محمد تقی اور تیسرے جون ایلیا، سید شفیق کے تینوں صاحبزادے بچپن ہی سے علم و ادب میں اپنی راہیں متعین کرنے لگے تھے ۔ سب سے پہلے رئیس امروہی ادب و صحافت میں قدم رنجا ہوئے اردو مختصر عرصے میں اپنی بے لاگ تحریروں کی وجہ سے اردو صحافت کا ایک روشن ستارہ بن گئے۔ روزنامہ جنگ کے دہلی سے کراچی ہجرت کرنے کے چند دنوں بعد رئیس امروہی بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ امروہہ کی مردم خیز سرزمین چھوڑ کر مملکت خدا داد پاکستان منتقل ہوگئے۔روزنامہ جنگ اور انجام کراچی سے شائع ہونے والے دو قابل ذکر اخبارات تھے ۔ رئیس امروہوی نے جنگ کے شعبہ ادارت میں شمولیت اختیار کرکے جہاں اپنی روٹی روزی کا باعزت بندوبست کرلیا وہاں اردو ادب اور صحافت کو بھی ایک نادر روزگار شاعر ادب اور حالات حاضرہ کا بناس میسر آگیا۔رئیس امروہوی اپنے مضامین اور قطعات کے حوالے سے انتہائی مختصر مدت میں نہ صرف پاکستان بلکہ جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی تھی مقبول ترین شخصیت بن چکے تھے۔ اس زمانے میں کالم نویسی میں مجید لاہوری اور قطعہ نویسی میں رئیس امروہوی کا ڈنکا بچتا تھا۔ 1950 میں لکھنو سے ہجرت کرنے کے بعد اخبارات بینی کی بچپن کی عادت سے مجبور کراچی کے شائع ہونے والے اخبارات جنگ ، انجام اور روزنامہ امروز کا پابندی کیساتھ مطالعہ کرتا تھا ۔ سچی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں جنگ اور انجام کے مقابلے میں روزنامہ امروز کا معیار زیادہ بہتر تھا۔ جنگ میں اگر رئیس امروہوی کا قطعہ اور مجید لاہوری کا کالم و اشاعت پذیر نہ ہوتا تو اخبار بے مزہ محسوس ہوتا۔رئیس امروہوی صاحب سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی اس سے متعلق قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا حالانکہ طالب علمی کے زمانے میں روزنامہ جنگ کے بزنس روڈ کے دفتر اکثر طلبہ تنظیم کی خبروں کی پریس ریلیز دینے کے لئے آمدورفت رہتی تھی۔کبھی کبھار میر خلیل الرحمٰن کی جھلک اور اس قت کے نیوز ایڈیٹر اطہر علی جو بعد میں بی بی سی لندن چلے گئے تھے دیکھنے کو ملتی تھی۔ 1967 میں روزنامہ مشرق کراچی کے اجرا کے وقت میرا تبادلہ مشرق لاہور سے کراچی ہوگیا، یہاں رپورٹر کی حیثیت سے اکثر رئیس امروہی صاحب سے دور کی علیک سلیک ہوتی رہتی تھی لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ رسمی سلام و دعا بہت جلد عقیدت مندی میں تبدیل ہوگئی۔ 1967 سے 1972 کے دوران کراچی کی سیاسی ،سماجی اور ثقافتی زندگی بڑی ہنگامہ خیز رہی، رئیس امروہوی کے اس دور کے قطعات عوام کی آواز بن کر حکمران وقت کے دماغوں کی چولیں ہلاکر رکھ دیتا تھا ۔ رئیس امروہی کے یہ قطعات اس وقت کے سیاستدانوں کی آوازوں سے زیادہ بلند آہنگ تھے۔کراچی میں ابتدا ہی سے تمام رنگ نسل اور اعتقاد کے حامل لوگوں کا مسکن رہا ہے۔ایوب خان کے دور تک شہر ہر قسم کے تعصبات اور لسانیت سے پاک تھا ۔ صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کی ناکامی پر اہلیان کراچی انتہائی دل گرفتہ تھے دوسری طرف ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب جو کراچی میں کنونشن مسلم لیگ کے چیف آرگنائرز کے عہدہ پر فائز ہوئے اپنے والد کی صدارتی انتخاب میں کامیاب کا جشن مناتے ہوئے ایک بڑے جلوس کے ساتھ لالو کھیت حالیہ لیاقت آباد سے گزرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کے جوابی مخالف نعروں سے مشتعل ہوکر ہنگامہ آرائی میں مصروف ہوگئے ، اس جھگڑے کو پہلی مرتبہ لسانیت کا رنگ دے کر اہلیان کراچی میں پختون مہاجر نفرت کا بیج بویا گیا ۔ ایوب خان کی آمریت کے خاتمے کے بعد سندھ میں ممتاز بھٹو کے دور میں ایک منظم سازش کے تحت لسانیت کو ہوادی گئی  ۔سندھ اسمبلی میں سندھی زبان کا بل پیش کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ اس کا مقصد اردو زبان کی قومی حیثیت کو ختم کرنا ہے ۔ سندھ اسمبلی میں جس دن یہ بل پیش ہونا تھا اس موقعے پر رئیس امروہوی نے اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کیا۔

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

کیوں جان حزین جذبہ موہوم سے نکلے

کیوں نالہ دل حسرت دل مغموم سے نکلے

آنسو نہ کسی دیدہ مظلوم سے نکلے

کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

رئیس امروہوی کے اس قطعہ نے یقینا اردو سے محبت کرنے والوں کے لئے جلتی پر پٹرول کا کام کیا نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ بھی لسانیت کی لپیٹ میں آکر لہولہان ہوگیا ۔ اس واقعہ پررئیس امروہوی کے ذہن پر بہت برا اثر پڑا، وہ خاموشی کیساتھ قطع نگاری کے ساتھ ساتھ روحانیت اور فلسفے کی گتھیوں کو سلجھانے میں مصروف تھے ۔ رئیس امروہوی اپنی گوناگوں ادبی مصروفیات کے باجوود شہر میں منعقد ہونے والی صحافتی اور ادبی فکری تقریبات میں پابندی کیساتھ شرکت کرتے تھے۔ روزنامہ مشرق کے تحت منعقد ہونیوالی تقریبات میں میری دعوت پر بڑے اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے اور اختتامی تقریب تک موجود رہتے۔تقریب کے شرکا میں عموماً پاکستان کے مایہ ناز حکیم اور ہمدرد کے بانی حکیم محمد سعید، جنگ اخبار کے ایڈیٹرسید محمد تقی، بلدیہ کراچی کے ڈپٹی چیئرمین ضیااللہ مرحوم اور مشتہرین ایجنسیوں کے مالکان و دیگر عہدیدار بڑی تعداد میں شریک ہوتے ۔ جناب رئیس امروہوی کاشمار ان بزرگوں میں بھی کیا جاتا ہے جو متحدہ قومی موومنٹ کی تشکیل اور مہاجروں کے علیحدہ تشخص کو اجاگر کرنے والوں میں شامل تھے بعد میں متحدہ کے خلاف قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ اس سے نالاں ہوگئے تھے ۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی میں آزادانہ سوچ پر مبنی سانس لینا بھی دشوار تھا اس دور میں ہی جناب رئیس امروہوی نے اپنے قطعہ میں کہا تھا کہ

ملک الموت سے تکراکر رئیس

دیکھنا ہے کہ کہاں گرتے ہیں

ہم کے اس شہر کے بازاروں میں

سرہتھیلی میں لئے پھرتے ہیں

رئیس امروہوی کی ادبی اور صحافتی و سیاسی بصیرت کا اندازہ آج کے حالات سے بھی کیا جاسکتا ہے اپنے چالیس پچاس برس قبل ایک قطعے میں موجودہ دور کی مکمل عکس بندی کرکے موجودہ حکمرانوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ چھوڑا ہے

جو ہم سے طلبگار ہے تحسین و ثنا کا

وہ لائق تحسین و ثنا تو نہیں ہے

یہ ناداں AID (امداد) ہم لوگ ہیں اغیار کی جس پر

یہ قرض ہے قرض حسنہ تو نہیں ہے

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top