تازہ ترین
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے۔۔۔

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے۔۔۔

کراچی: (6 فروری 2019) (علی اختر رضوی) تاریخ کو مسخ کرنے کا سلسلہ جو قیام پاکستان کے بعد سے شروع ہوا تھا وہ آج تک بڑی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ جاری ہے۔ اس میں پاکستان کے اخبارات مذہبی و سیاسی دانشور بھی برابر کے شریک ہیں۔ کراچی پریس کلب ملک کا ایک ایسا کلب ہے جس نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی حق و باطل کی جنگ میں صداقت کے علمبرداروں کا ساتھ دیا لیکن گزشتہ چند سالوں سے کرچی پریس کلب کی تاریخ بھی حقائق کو جھٹلانے والے دانشوروں اور صحافیوں سے محفوظ نہیں رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی پریس کلب کا باقاعدہ افتتاح قیام پاکستان کے آمر اور لاہور میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل اعظم نے کیا گیا۔ جن معزز صحافیوں نے کراچی پریس کلب کی داغ بیل ڈالی تھی ان کے تصور میں بھی یہ نہیں تھا کہ صحافت کے بھیس میں کراچی پریس کلب پر قصائیوں، نان بائیوں اور غیرپروفیشنل افراد کا تسلط ہو جائے گا۔ آج کے پریس کلب کی موجودہ صورتحال اس کا مکمل نقشہ پیش کرتی ہے۔ تقریباً تمام سینیئر صحافی کراچی پریس کلب سے اپنا عملی رابطہ ختم کر چکے ہیں، صرف وہ لوگ رہ گئے ہیں جنہوں نے صحافت کو جائز و ناجائز دونوں طریقوں سے اپنی روٹی روزی کا سہارا بنا رکھا ہے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں جہاں ایوب خان کی آمریت اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکی تھی اور وہ اپنے دور اقتدار کے دس سالہ جشن میں مصروف تھی، وہاں عوام میں ایوب خان کی حکومت کے خلاف تحریک بھی جڑیں پکڑ چکی تھی۔ اس زمانے میں مادر ملت کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی وجہ سے ایوب خان کی حکومت کے خلاف خاموش تماشائی بننے والے سیاستدان بھی متحرک ہونے شروع ہوگئے تھے۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے عوام نے ایوب خان کی آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد شروع کر رکھی تھی۔

کراچی پریس کلب میں ایئر مارشل اصغر خان کی آمد کے موقع پر سینیئر صحافیوں اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں کے ساتھ گروپ فوٹو

ایوب خان کے آخری دس برسوں کے دوران پریس کلب کے عہدے داروں پر سخت سیاسی دباؤ تھا، اس کے باوجود اس دور میں کلب میں ملک کے ممتاز سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا جاتا رہا جس میں ایئر مارشل اصغر خان، ذوالفقار علی بھٹو، راجہ صاحب محمود آباد، خان عبدالقیوم خان، حبیب جالب، مشرقی پاکستان کے محمود علی اور عبدالحمید بھاشانی کے نام قابل ذکر ہیں لیکن سیاسی رہنماؤں کو پریس کلب کی انتظامیہ نے باضابطہ طور پر کبھی مدعو نہیں کیا۔

کراچی پریس کلب میں راجہ صاحب محمود آباد سینیئر صحافیوں کے ساتھ گروپ فوٹو تصویر میں ممتاز صحافی اور ادیب ابراہیم جلیس، روزنامہ لیڈر کے ایڈیٹر سلطان احمد، اے پی پی کے مختار زمن، ڈیلی نیوز کے ایس ایم فضل، روزنامہ مشرق کے علی اختر رضوی، ممتاز کارٹونسٹ عزیز، پی پی آئی کے اقبال جعفری اور ڈان کے ہمدان امجد علی و دیگر موجود ہیں۔

سیاسی رہنماؤں کو صحافیوں سے خطاب کرنے کی دعوت اور اس کے انتظامات پر ہونے والے اخراجات علی اختر رضوی، نظام صدیقی، اقبال جعفری اور آئی اے خان برداشت کرتے تھے۔ سیاسی رہنماؤں کی کراچی پریس کلب میں آمد کا عوام میں بھی زبردست خیرمقدم کیا جاتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جس کو کراچی پریس کلب کا سنہرا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس زمانے میں تمام سینیئر صحافی دوپہر اور شام کے وقت کلب میں اپنی حاضری ضروری سمجھتے تھے جن میں ابرار صدیقی مرحوم، مختار زمن، عزیز کارٹونسٹ، سلطان احمد، ایس آر غوری، ابن الحسن، نواب انور حسین، علی کبیر، گرداس وادھونی، منطرالحسن، تکسین علیگ، اور محمد اسلم کے نام قابل ذکر ہیں ان افراد کی موجودگی کلب میں جونیئر صحافیوں کے لیئے نرسری کا کام کرتی تھی۔

تصویر میں جناب نورالامین کراچی میں سینیئر صحافیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس موقع پر روزنامہ ڈٓان کے چیف رپورٹر حضور احمد شاہ، اے پی پی کے اقبال قریشی، سیاستدان شاہ فرید الحق، روزنامہ مشرق کے علی اختر رضوی اور دیگر موجود ہیں۔

انیس سو ستر کی صحافیوں کی ہڑتال سے جہاں صحافیوں کے مسائل میں اضافہ ہوا وہاں پر پریس کلب بھی ہڑتال کے حامی اور مخالفین کے انتہاپسندانہ رویے کا شکار ہو گیا جس کا منطقی نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ اب یہاں صحافیوں کی تربیت اور صحافت کے مسلمہ اصولوں پر کاربند رہنے کے بجائے لوٹ مار میں مصروف لفافہ بردار صحافیوں کا ایک جم غفیر ہے۔ پریس کلب کو ایک تجارتی ادارہ بنا دیا گیا ہے، اب ساری سرگرمیاں پلاٹوں اور سرکاری مراعات کے حصول پر مرکوز ہیں۔ 1970ء کی ہڑتال کے دوران صحافیوں کے درمیان اختلاف کی جو دراڑ پڑی تھی وہ اصولوں پر مبنی تھی جو بعد میں ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کے عامل صحافی کو ملازمت کے تحفظ سے لے کر دوسری ضروری سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ صحافیوں کی دونوں جماعتیں اپنے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں اور اب یہ تنظیمیں عملیطور پر اپنا وجود کھو چکی ہیں۔ سرکاری مراعات اور ذاتی مفاد کے حصول میں صحافیوں کی تمام جماعتیں بدعنوان سیاستدانوں سے کسی درجہ کم نہیں ہیں اور آج یہ تنظیمیں حکومت کے خفیہ فنڈز پر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

فیڈرل یونین آف جرنلسٹ رشید صدیقی گروپ کے اجلاس میں وفاقی وزیر محنت و اطلاعات جنرل چشتی، رشید صدیقی اور علی اکتر رضوی سے بہتر ویج بورڈ پر عملدرآمد کے مسئلے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

صحافیوں کی تنظیموں کے آپس کے اختلافات سے ویج بورڈ کا معاملہ ہو یا ملازمت کا، صحافیوں کی تنظیمیں ناکام ہوچکی ہیں۔ 1960ء کی دہائی سے قبل پریس کلب صرف صحافیوں کی علمی، تفریحی اور صحافیانہ سرگرمیوں کیلئے مخصوص تھی۔ سیاسی، سماجی اور معاشرتی جماعتوں کے رہنما خال خال ہی پریس کلب میں نظر آتے تھے۔ جس طرح آج کل پریس کلب کے باہر عوامی احتجاج کے مظاہرے یا کلب میں پریس کانفرنسز کا انعقاد ہوتا ہے، اس وقت بہت کم منعقد ہوتی تھیں۔ سیاسی جماعتین اور ان کے بڑے رہنما زیادہ تر اپنے دفاتر، اپنی رہائشگاہوں یا ہوٹلوں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے تھے۔ ایوب خان کی حکومت کے خلاف عوامی جدوجہد کا آغاز 1966ء میں شروع ہو چکا تھا۔ مشرقی پاکستان کے سیاسی رہنما، صوبہ سرحد کے خان عبدالولی خان اور بلوچستان کے غوث بخش بزنجو اکثر و بیشتر کراچی میں سیاسی اجتماعات سے خطاب کرتے تھے۔ ایئر مارشل اصغر خان اور ذوالفقار علی بھٹو بھی عوامی سیاست میں بھرپور سرگرم عمل تھے۔ اصغر خان اور ذوالفقار بھٹو مغربی پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر بن کر ابھر چکے تھے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمٰن اور عبدالحمید بھاشانی کا طوطی بولتا تھا۔ کراچی پریس کلب میں پہلی بار شہر کے چار سرگرم صحافیوں نے نجی طور پر سیاسی رہنماؤں کو پریس کلب میں خطاب کرنے کی دعوت دینے کا سلسلہ شروع کیا، اس پروگرام کو میٹ دی پریس کا نام دیا گیا۔ ان اجتماعات پر ہونے والے اخراجات رونامہ مشرق کے علی اختر رضوی، پی پی آئی کے آئی اے خان اور نوائے وقت کے نظام صدیقی برداشت کرتے تھے۔

عبدالقادر چودھری سقوط ڈھاکا سے قبل مشرقی پاکستان کی صورتحال پر علی اختر رضوی سے خصوصی بات چیت کر رہے ہیں۔

میٹ دی پریس میں صرف پریس کلب کے ارکان کو شرکت کی اجازت دی جاتی تھی جبکہ سی آئی ڈی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے کارندوں کو کسی بھی قیمت پر داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ میٹ دی پریس کے اجتماعات می کراچی میں موجود تمام سینیئر صحافی اور مدیران اخبارات بڑی تعداد میں شرکت کرتے تھے۔ پریس کلب میں جن سیاسی رہنماؤں نے اپنی شرکت اعزاز سمجھتے ہوئے رونق بخشی ان میں ایئر مارشل اصغر خان، ذوالفقار علی بھٹو، مشرقی پاکستان سے نورالامین، خان عبدالولی خان، حبیب جالب، مشرقی پاکستان کے محمود علی، فضل القادر چودھری اور راجہ صاحب محمود آباد کے نام قابل ذکر ہیں۔ پریس کلب کو جن قومی رہنماؤں نے زینت بخشی اس میں سب سے نمایاں شخصیت قائداعظم کے دست راست اور اتالیق راجہ صاحب محمود آباد تھے جنہوں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد اپنی تمام دولت نوزائیدہ مملکت کے سپرد کر دی۔ خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد راجہ صاحب ملک میں شروع ہونے والی اقتدار کی جنگ سے انتہائی دلبرداشتہ ہو کر عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ وہ چند ماہ تک پاکستان میں قیام کے بعد لندن چلے گئے جہاں انہوں نے مالی مشکلات کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا نہیں کیا۔ پاکستان کا حکمران طبقہ راجہ صاحب محمود آباد کے ملک کے حالات پر تبصروں اور تنقید کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے لیکن وہ جب بھی لندن سے پاکستان تشریف لاتے تو کراچی کے عوام ان کا پرجوش استقبال کرتے تھے۔ راجہ صاحب پاکستان میں سوشلزم کے سرگرم پرچارک تھے، کراچی پریس کلب میں ان کی آمد کا صحافیوں کے تمام حلقوں نے پرجوش خیر مقدم کیا۔ ان کا میٹ دی پریس میں خطاب اس وقت کے پاکستان کے حالات کا بے لاگ تجزیہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست میں کرشمہ ساز شخصیت کے مالک ایوب خان کے کافی عرصے تک رفیق اور سیاسی مشیر رہے۔ اعلان تاشقند کے بعد دونوں کے اختلاف شدت اختیار کر گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں پہلی مرتبہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف آواز اٹھائی۔ لاہور میں اعلان تاشقند کے خلاف لاہور یونیورسٹی کے طالبعلموں کی جدوجہد نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کل کا لاابالی وزیر عوام کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ کالا باغ جیسے سخت منتظم کی موجودگی میں ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی تشکیل کا اعلان کیا، ذوالفقار علی بھٹو اس حقیقت کا بخوبی احساس رکھتے تھے کہ عوام میں مقبولیت کو برقرار رکھنے کیلئے صحافیوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار رکھے جائیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی ان منتخب سیاسی رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے میٹ دی پریس میں کراچی پریس کلب کے ارکان سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ وہ کراچی میں  اپنے قیام کے دوران صحافیوں سے لازمی طور پر ملاقاتیں کرتے یا پریس کانفرنسز سے خطاب کرتے تھے۔

خواجہ خیرالدین عوامی نیشنل پارٹی کے سیکریٹر جنرل جناب محمود الحق عثمانی اور عزیز احمد کے ساتھ پریس کلب میں اپنی آپ بیتی سنا رہے ہیں۔

عبدالقادر چودھری مشرقی پاکستان کے نڈر بہادر اور اپنے نظریات پر قائم رہنے والے سیاسی رہنما ایوب خان کے زبردست حامی رہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے لیکن شیخ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت کے پیش کردہ چھ نکات کے زبردست مخالف تھے۔ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک متحدہ پاکستان کے حامی رہے۔ عوامی لیگ اور مکتی باہنی نہ صرف ان کے بلکہ اہل خاندان کے خون کے پیاسے تھے۔ گزشتہ دنوں عبدالقادر چودھری کے صاحبزادے کو بنگلا دیش کی عدالت نے پاک افواج اور متحدہ پاکستان کی حمایت کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

مشرقی پاکستان کے محمود علی کی علی اختر رضوی سے خصوصی بات چیت۔

خواجہ خیرالدین ڈھاکا میں اپنے اثاثے اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے دست راست خواجہ خیرالدین بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے کراچی میں مہاجرت کی زندگی بسر کی۔ وہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو کو بھی قرار دیتے تھے جس کا اظہار وہ اکثر وہ بیشتر سیاسی اجتماعات میں کرتے رہتے تھے جس کے نتیجے میں ان کو سبھٹو حکومت کے انتقام کا نشانہ بننا پڑا۔

ضروری وضاحت

انیس سو ساٹھ کی دہائی کے دوران پریس کلب کی تعمیر و ترقی اور اس کے سماجی و ثقافتی مقام کو بلند کرنے میں راقم الحروف کی بھی حقیر کوششیں شامل رہی ہیں۔ صحافت کے میدان میں اسٹاف رپورٹر سے ایڈیٹر اور جنرل منیجر کے عہدے پر فائر ہونے کے باوجود پریس کلب سے اپنا رشتہ نہیں توڑا، بے نظیر دور حکومت میں پریس کلب کے عہدیداروں نے جن میں برنا گروپ کے حامیوں کی اکثریت تھی اپنے مخالفین کو پریس کلب کی رکنیت سے فارغ کرنے کی خفیہ مہم شروع کی۔ اس کے نیتجے میں ڈان کے چیف رپورٹر اور ملک کے سینیئر صحافی حضور احمد شاہ کے ساتھ میری رکنیت منسوخ کر کے مجھے ایسوسی ایٹ رکن بنا دیا گیا لیکن جب میں جنرل منیجر کے عہدہ سے سبکدوش ہو کر صرف ایڈیٹر رہ گیا تو میں نے اپنی سابقہ کونسل رکنیت کو بحال کرنے کی درخواست دی۔ اس زمانے میں یوسف خان کلب کے مرکزی عہدیدار تھے، وہ متعدد بار سینیئر ارکان کی موجودگی میں میری رکنیت کی بحالی کی یقین دہانی کراتے رہے لیکن وہ آج تک بحال نہ ہوسکی اور میرا واحد قصور یہ تھا کہ میں نے برنا گروپ کی خواہشات کے خلاف مارننگ نیوز کی سودے کار ایجنٹ یونین کی نیشنل پریس کلب کے ساتھ مارننگ نیوز کے ملازمین کی خواہشات کے مطابق گولڈن شیک ہینڈ کا معاہدہ کرایا۔ انیس سو بانوے کے بعد سے آج تک میری رکنیت کی درخواست کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا، میں نے بھی اس کا خیال دل سے نکال دیا، میرے کیس سے ملتا جلتا معاملہ ڈان کے چیف رپورٹر جناب حضور احمد شاہ مرحوم کا بھی تھا لیکن ان کی رکنیت کراچی پریس کلب بحال کردی گئی تھی لیکن میں نے ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ پریس کلب سے عام صحافیوں کو گزشتہ تیس برسوں کے دوران پلاٹ الاٹ ہونے کے وہ بھی مخصوص لابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔ الحمداللہ میں نے آج تک پریس کلب کے توسط یا حکومت سے کوئی پلاٹ حاصل نہیں کیا۔ یہ سطور محض اس لیے تحریر کی ہی کہ ماضی کے مقابلے میں آج پریس کلب ماضی کے مقابلے میں مالی لحاظ سے مستحکم ہے لیکن اس کا فائدہ عام رکن کو کم عہدیداروں کو زیادہ ہے۔ رکنیت سے محروم صحافی اپنی محرومیوں کا شکوہ احتجاج کی شکل میں اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں لیکن جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں نے انیس سو بانوے سے تادم تحریر آج تک پریس کلب کی حدود میں قدم نہیں رکھا اور نہ آئندہ رکھنے کا ارادہ ہے۔

 

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960ء سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top