تازہ ترین
شمع ظفر مہدی کا مجموعہ کلام ماہ گرفتہ

شمع ظفر مہدی کا مجموعہ کلام ماہ گرفتہ

برصغیر ہندوستان کی تقسیم نےعام شہریوں کو جہاں لا تعداد مشکلات اور مسائل سے دور چار کیا وہاں اس نے ادبی دنیا کو بھی وقتی طور پر زبردست دھچکا پہنچایا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑے پیمانے پر آبادی کے تبادلے نے دونوں ممالک کے متاثرہ عوام کی زندگیوں کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا تھا اس کے باوجود دونوں ملکوں میں ادبی سرگرمیاں کسی نہ کسی طور پر جاری رہیں۔ 1950 کی دہائی میں دونوں ملکوں میں ادبی سرگرمیاں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ جاری رہی کراچی اور دہلی میں بڑے جوش و جذبے کے ساتھ عظیم الشان مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔ نئی دہلی میں منعقدہ مشاعروں میں بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بڑے اہتمام کے ساتھ شرکت کرتے جبکہ کراچی میں مشاعرے ایوان صدر موجودہ گورنر ہائوس سے ملحقہ میدان میں منعقد ہوتے جن میں ہندوستان اور پاکستان کے ممتاز شعرا شرکت کرتے ۔ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں میں ادب شناسی کی یہ روایت ختم ہوگئی  ۔ کافی عرصہ تک کراچی کی ادبی سرگرمیاں ادب نواز حلقوں میں مقامی سطح پر منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا جس میں کراچی میں مقیم اردو شعرا اپنا کلام یا نوتنصیف مرثیے پیش کرتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہوگیا ہے۔گزشتہ دنوں ادب کے گہوارے لکھنو جانے کا اتفاق ہوا بھارت کی سرکاری زبان ہندی ہے اس کے تحت بھارت کی قومی و نجی زندگی میں مکمل طور پر ہندی زبان کی حکمرانی ہے۔ سڑکوں کے ناموں سے لے کر دکانوں کے سائن بورڈ تک ہندی زبان میں لگے تھے غرض کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوا جیسے اردو کے مسکن لکھنو سے اس کا نام و نشان مت چکا ہے لیکن قیام کے دوسرے دن اودھ کے تعلقے داروں کی قائم کردہ امیرالدولہ لائبریری جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں صرف ایک اردو اخبار دیکھ کر یقین ہوگیا کہ واقعی لکھنو میں اردو کسمپرسی کا شکار ہے ۔ میری یہ بدگمانی اس وقت دور ہوگئی جب قیصر باغ کے نیوز اسٹال پر بلامبالغہ ایک درجن سے زائد اردواخبارات رکھے ہوئے تھے یہ اخبارات جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں البتہ ان کی اردو کا معیار ہندی الفاظ کے بکثرت استعمال سے اپنی چاشنی اور خوبصورتی سے محروم ہوچکی ہے۔ اردو کے اخبارات اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے اردو شاعری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ قدیم شہر کے باسیوں نے مشاعروں سے رغبت برقرار رکھتے ہوئے بڑی پابندی کے ساتھ ہر ہفتہ مشاعرے منعقد کرکے رہتے ہیں جس میں ادبی ذوق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ لکھنو میں مرد شعرا کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی شاعری کا رجحان آج بھی قائم ہے ۔ قیام لکھنو کے دوران تعلقہ دار گھرانے سے تعلق رکھنے والی خاتون شاعرہ محترمہ شمع ظفر مہدی سے ملاقات ہوئی ان کی شاعری پڑھ اور سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کی سیکولر فضا میں آج بھی مسلمان خواتین میں مذہب اور خاندانی قدروں سے کتنا لگاو پایا جاتا ہے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کرنے والی شمع ظفر مہدی تعلقہ اودھ کے تعلقہ دار گھرانے میں پیدا ہوئیں ، بچپن ہرے بھرے گاوں کے کھیتوں کھلیانوں اور باغات میں گزرا جسکے نتیجہ میں فطرت کی سوندھی خوشبو ان کی زندگی میں رچ بس گئی۔

زمین کی آب و ہوا جذب ہوگئی ہم میں

حصار ذات میں موجود سارے موسم ہیں

ابتدائی تعلیم چونکہ لکھنو میں حاصل کی تھی اس لئے شمع ظفر مہدی میں ادبی ذوق بھی دن بدن نکھرتا گیا، تعلیم سے فارغ ہوتے ہی ان کی شادی ردولی کے ممتاز ادبی گھرانے جعفر مہدی کے صاحبزادے کے ساتھ ہوگئی۔ سسرال کا ماحول بھی شاعرانہ فضا سے معمور تھا اس لئے شمع کو پانی ادبی پیاس بجھانے کا نادر موقع ملا۔ اپنے ادبی سفر کا آغاز مختصر افسانہ نویسی سے کیا ، الہ آباد ریڈیو اسٹیشن کے تحت منعقدہ ادبی پروگرامز میں اپنے افسانے سناکر ہزاروں سامعین سے داد وصول کرتی۔ شادی کے بعد اپنے شوہر کیساتھ سعودی عرب چلی گئیں عرب کے ریگزاروں میں انہوں نے ادبی ذوق اور شوق کو ماند نہ ہونے دیا۔سعودی عرب میں مقیم اردو ادب کے شائقین کی علمی پیاس بجھانے کے لئے اپنے مرحوم شوہر ظفر مہدی کے تعاون سے مشاعروں اور افسانوں کی تقریبات منعقد کرتی رہیں ۔ جدہ کے ماحول نے شمع کی شاعری پر بھی اپنا خوب اثر ڈالا یہاں رہ کران کا زیادہ رجحان غزل گوئی کے بجائے نعت ، حمد اور منقبت لکھنے پر رہا۔ شمع ظفر مہدی نے اپنے خوبصورت کلام کا مجموعہ ماہ گرفتہ کے عنوان سے شائع کیا ہے بقول ممتاز شاعر سید قمر حیدر قمر ‘‘شمع ایسی سخن ور ہیں جو شعر میں لفظ نہیں پھول ٹانکنے کا ہنر جانتی ہیں پھول جو رنگ خوشبو تازگی نزاکت اور تکمیلیت کا زندہ مجسمہ ہے’’ ان کا مجموعہ کلام مطالعہ کرتے وقت ناظر کو اپنے سخن کے رنگ میں اسیر کرلیتا ہے۔ نعت کا یہ شعر انسان کی کم مائیگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے

زائر ہے یہ زمیں رسالت مآب کی

ذروں میں اس کے سیکڑوں مہتاب اور ہیں

آنے کو یہ سنہ سمجھیں کہ رسائی بھی ہوگئی

اس شہر علم کے لئے کچھ باب اور ہیں

نعت کے بعد شمع کا رنگ تغزل بھی اپنے اندر بڑی آہنگ رکھتا ہے۔

چاندنی رات ٹھر جائے تو پھر نیند کہاں

چاند آنکھوں میں اتر آئے تو پھر نیند کہاں

ایک اور شعر میں کہتی ہیں

جس ستارے پہ جمی رہتی تھیں آنکھیں شب بھر

وہ ستارے میرے گھر آئے تو پھر نیند کہاں

غزل کے یہ اشعار آج کے پاک بھارت حالات پر بھی پوری طرح منطبق ہوتے ہیں

زرد پنے ہوا سے گرتے ہیں

جانے والے کہاں ٹھہرتے ہیں

کیسا بدلا ہے شہر کا موسم

اپنے سائے سے لوگ ڈرتے ہیں

ایک اور جگہ فرماتی ہیں کہ

لوگ جب روشنی میں آئے تھے

ان کے قد سے دراز سائے تھے

ایسی تنہا نہ تھی یہ ہجرت بھی

اپنی زنجیر ساتھ لائے تھے

آخر میں شمع کے مجموعہ کلام پر خود ان کے اس شعر پر تبصرہ ختم کرتا ہوں کہ

شدید دھوپ کا مجھ پر اثر نہیں ہوتا

کہ میرے ساتھ میرا سبز گاوں رہتا ہے

Comments are closed.

Scroll To Top