تازہ ترین
سیاسی چومکھی اور “نون” ساکن

سیاسی چومکھی اور “نون” ساکن

بچے تو سیاسی تھے ہی، اب خواب بھی سیاسی ہو گئے ہیں۔۔۔ دن رات ہر محفل میں ایک ہی سوال گھما پھرا کر بار بار سامنے آتا ہے کہ ملکی حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، موجودہ حکومت کتنا عرصہ نکال پائے گی، آخر بنے گا کیا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا سیدھا اور دو ٹوک جواب تو شاید ان کے پاس بھی نہیں جو کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ہلاتے ہیں اور خود کو بڑا منصوبہ ساز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان سوالات کی تکرار دماغ میں اتنی زیادہ گونجتی رہتی ہے کہ اب خواب بھی سیاسی نوعیت آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جو منظر کھلی آنکھوں دکھائی نہیں دے پا رہا وہ پوری جزئیات کے ساتھ صاف صاف دکھائی دیا۔ ویسے تو کہتے ہیں خواب کے بارے میں ہر کسی کو نہیں بتانا چاہئیے لیکن وہ شاید ذاتی نوعیت کے خواب کے بارے میں کہا گیا ہے۔ یہ خواب چونکہ ملکی اور سیاسی معاملات سے متعلق ہے تو اس حوالے سے کوئی امر مانع نظر نہیں آتا۔ عجیب سا خواب تھا ، جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفے اور گرفتاری کے لئے دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف سمیت کئی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے دھرنے میں ان کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ Image result for PTI and PATادھر پیر آف سیال شریف جناب حمید الدین سیالوی صاحب نے گوجرانوالہ کے جلسےمیں ختم نبوت کے معاملے کو لے کر لاہور کے گھیراؤ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج رانا ثناء اللہ کے استعفے اور ختم نبوت کی شقوں سے چھیڑ چھاڑ کے مرتکب افراد کی نشاندہی تک جاری رہے گا۔ میں دفتر میں اپنے تمام سینئرز کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھا یہ جمع تفریق کر رہا ہوں کہ کتنی گاڑیاں، ڈی ایس این جیز، بیگ پیک اور کیمرے دستیاب ہیں۔ دونوں دھرنوں کی کوریج کے لئے کتنی افرادی قوت درکار ہے اور دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے بہترین کوریج کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ Image result for khatm e nabuwat zindabad Islamabad Sitinابھی ہماری یہ میٹنگ جاری ہے کہ سامنے ٹی وی سکرینز پر ایک اور بریکنگ نیوز نشر ہونا شروع ہو گئی، قبائلی عوام نے گرینڈ جرگے میں فیصلہ کر لیا ہے کہ فاٹا اصلاحات نہ ہونے پر اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا۔ جرگے کو پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی حمایت بھی حاصل ہے اور دونوں جماعتوں نے قبائل کے ساتھ اسلام آباد جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک وقت میں تین مختلف دھرنے اور احتجاج، پلاننگ کے لئے بلائی گئی دفتری میٹنگ ڈسکشن فورم میں بدل گئی کہ اب مسلم لیگ ن کی حکومت اس صورتحال سے کیسے نمٹے گی؟ بعض خواب بہت طویل اور مفصل ہوتے ہیں، اس سیاسی نوعیت کے خواب میں بھی یہی صورتحال رہی۔۔۔۔ اب خواب میں ہی دھرنے شروع ہو گئے ہیں، طاہر القادری، پیر حمید الدین سیالوی اور فاٹا کے عوام نے دھرنے دے دیئے ہیںِ، اسلام آباد اور لاہور مکمل لاک ڈاؤن ہو چکے ہیں، اس بحرانی کیفیت میں حکومتی زعماء صورتحال سے نکلنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی بجائے سازش سازش کا راگ الاپنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ اسی دوران پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کے پی کے اور سندھ اسمبلی تحلیل کرنے اور قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا گیا۔ مسلم لیگ ن کو قبل از وقت انتخابات کے اعلان کے ساتھ قومی اسمبلی تحلیل کرنا پڑ گئی۔Image result for islamabad sit inعبوری حکومت تشکیل دے دی گئی، جس نے جناب ضیاء الحق مرحوم کی طرح 90دن میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ کر دیا۔ پاک چین دوستی اور تعلقات کے حوالے سے از حد سرگرم ایک نامی گرامی شخصیت کو نگران حکومت میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی۔ بظاہر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ اب انتخابات ہونے جا رہے ہیں لیکن ایک صاحب کرامت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹکا دیا کہ جناب نئی مردم شماری کے مطابق از سرِ نو حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے، اس کے بغیر انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ ایک اور عادی درخواست گزار بھی عدالت عظمیٰ جا پہنچے کہ منصفو! اگر بائیو میٹرک بنیادوں پر انتخابات نہ ہوئے تو ایک بار پھر دھاندلی کے الزام کے تحت اسی عدالت عظمیٰ کے سامنے 2014ء کا منظر دہرایا جا سکتا ہے۔ ایک اور پٹیشنر نے دستِ سوال دراز کر دیا کہ حضورِ والا! بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھیجے گئے سالانہ اربوں ڈالر تو بہت اچھے لگتے ہیں، دیارِ غیر میں بسنے والے ان غریب الوطنوں کو ووٹ کو حق کب دیں گے؟ نادرا، الیکشن کمیشن، وزارت قانون سمیت تمام متعلقہ اداروں کے حکام طلب کر لئے گئے۔ تینوں درخواستوں کو یکجا کر دیا گیا اور نئی حلقہ بندیوں کے آئینی تقاضے کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے عبوری حکومت کی مدت میں توسیع کر دی گئی۔ فیصلے کے آپریٹوو پارٹ میں یہ ہدایت بھی کر دی گئی کہ انتخابات بائیو میٹرک بنیادوں پر کرانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا انتظام بھی یقینی بنایا جائے۔ سیاسی چومکھی کے اس طویل ترین خواب میں “نون” مکمل ساکن نظر آئی۔ اگر “نون” ساکن نہ ہوتی تو شاید میرے خواب کا اختتام کچھ اور ہی ہوتا۔۔

یہ اقتدار سے واپسی کا سفر ہے،سیاست سے نہیں

فاسٹ بریکنگ اور تخت لاہور

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top