تازہ ترین
(سفر نامہ روس ( دوسری قسط

(سفر نامہ روس ( دوسری قسط

دریائے موسکا کے کنارے آباد ماسکو شہر بھاگتے دوڑتے لوگوں کا سمندر ہے، جہاں سب جلدی میں نظر آتے ہیں۔۔۔۔  اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یورپ کے بڑے شہروں میں شمار ہونے والے اس شہر کی آبادی جو شہر کی حدود میں رہتی ہے، وہ کم از کم 1 کروڑ 32 لاکھ ہے، جب کے شہری علاقوں میں بسنے والے  شہری بھی کم نہیں، وہ بھی تقریب 1 کروڑ 71 لاکھ سے زائد ہیں۔ یہ شہر  نا صرف روس کا دارالحکومت ہے بلکہ یہ شہر تاریخی حیثیت میں بھی یکتا ہے۔ماسکو آنے کے بعد معلوم ہوا کے صرف یہ شہر ٹھنڈا نہیں ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کے مزاج بھی سرد ہو چکے ہیں۔ ہر کوئی یہاں سے وہاں بھاگتا دوڑتا نظر آئے گا اور شاید ماسکو میں مردوخواتین کی طویل عمری میں پھرتی کا سبب بھی یہی عجلت اور پھرتی ہے۔  بھانت بھانت کے لوگ مگر بولی سب کی ایک۔۔۔ یہاں جو انگریزی جانتا ہے وہ بھی روسی زبان میں ہی بات کرے گا اور اگر آپ انگریزی میں کچھ پوچھے تو وہ نیز نایا  کہتا گزر جائے گا جس کا مطلب ہے نہیں معلوم،،، کچھ تو صرف ہاتھ کے اشارے یا سر کی جنبش سے ناں کا اشارہ کرتے گزر جاتے ہیں۔۔۔۔  ماسکو شہر جو کے 11وی صدی میں وجود میں آیا آج یورپ کا سب سے بڑا شہرہونے کا درجہ رکھتا ہے۔ ماسکو کو خاص بناتا ہے یہاں کا آرکیٹیکچر اور تاریخی عمارتوں کی موجودگی۔ جو دنیا بھر کے سیاحوں کو سحر میں جکڑے اپنے پاس بلاتی ہے اور اسی لیے ہم بھی اس شہر کے گرد گھومنے لگے اور اس کے لیے ہم نے کم وبیش ماسکو میں سفر کے تمام ہی ذریعے استعمال کر ڈالے۔

 شہر میں میٹرو۔ٹرالیز- ٹرام، ٹرین، بسوں اور ٹیکسیزکا جال بچھا ہے، یہاں سے وہاں دوڑتے بھاگتے لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس شہر کے ٹریفک جام کو دیکھ کے بار بار کراچی یاد آتا رہا کہ کیسے گھنٹوں کراچی میں ٹریفک جام میں پھنسے رہنا معمول ہے لیکن اس شہر میں ٹیکسی سے ٹرام تک بس سے میٹرو تک۔ مختلف سفری سہولیات ہیں بلکہ یہاں کا زیر زمین ماسکو میٹرو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جو سب سے زیادہ زیر زمین ہونے کی حیثیت سے دنیا کا واحد اور لاکھوں مسافروں کو روزانہ سفری سہولت دینے کے لیے مشہور دنیا کا چوتھا بڑا میٹرو سسٹم ہے، جس کے کم و بیش 200 اسٹیشن ہیں جب کہ کچھ تو اتنے خوبصورت اور دیدہ ذیب ہیں کہ دل ہی نہیں کرتا کہ اس عارضی مسافر خانے سے باہر جایا جائے اور ہمیں اس سب سے روشناس کروایا ہمارے گائڈ نے۔

ان خوبصورت میٹرو اسٹیشنز میں پولیش کوائے ریوالوسکیائے ، تگنسکایا رنگ، بیوروسکایا رنگ اور ویستاویوشنایا میٹرو اسٹیشن شامل ہیں اس ٹھنڈے مزاج کے شہر میں ہمارے گائڈ بھارتی طالب علم پراوین اور روسی شہری اولیک نے جس اپنائیت کا مظاہرہ کیا وہ مشکل سے ہی دیکھنے میں آتی ہے اور  ہمیں ایک میٹرو اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن کے ذریعے شہر گھما ڈالا۔موسکو شہر میں ہمارا پہلا پڑوا تھا زبان زد عام ریڈ اسکوائر ۔۔۔۔ ذرا ٹھہرے اس نام سے ہر گز اسے سرخوں سے منسوب نا سمجھا جائے یہ اسکوائر اب روس کی پہچان ہے۔ یہ رنگ برنگی پیاز کی شکل کی عمارت جسے سینٹ بیزل کیتھیڈرل چرچ کہتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاحوں کی پہلی منزل ہوتی ہے۔ جہاں قدم قدم پر تاریخ بکھری ہے۔ یہاں کریمین فورٹ ہے اور یہیں ریولیوشن اسکوائر ہے جہاں قومی دن پر پریڈ ہوتی ہے۔چند گز کے فاصلے پر پوشکن اسکوائر ہے جہاں بڑا سا روسی شاعر  الیگزینڈر پوشکن کا مجسمہ استادہ ہے،،، اور جب ہم یہاں سے کریملن کی جانب چلتے ہیں تو سحر طاری کرنے والی تویسکیا اسٹریٹ دیکھتی ہے ۔ یہی سٹی ماسکو ہال ہے، جس کے مخالف طرف یوری ڈولگورکوئے کا مجسمہ ہے ۔  یہاں سے آگے بڑھ کر ہمیں جلدی تھی ریڈ اسکوائر آنے کی ۔ ہم ریڈ اسکوائر اور ریڈ اسکوائر ہمارا منتظر تھا۔ اس جگہ کے چاروں جانب تاریخی عمارتیں ہیں ایک جانب سرخ کریملن فورٹ کی دیوار ساتھ ساتھ چلتی ہے تو دوسری طرف ماسکو کا لینڈ مارک سینٹ بیزل چرچ ہے، یہاں تاریخی میوزیم ہے، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز ہیں اور ہاں رنگین پیاز نما عمارت سینٹ بیزل کیتھیڈرل چرچ کے سامنے مینن اور پوسہارسکے مونومینٹ دیکھنا نہیں بھولیے گا،،،،

 

(سفرنامہِ روس (پہلی قسط

 

Comments are closed.

Scroll To Top