تازہ ترین
(سفر نامہ روس ( تیسری قسط

(سفر نامہ روس ( تیسری قسط

چند گز کے فاصلے پر پوشکن اسکوائر ہے جہاں بڑا سا روسی شاعر  الیگزینڈر پوشکن کا مجسمہ استادہ ہے،،، اور جب ہم یہاں سے کریملن کی جانب چلتے ہیں تو سحر طاری کرنے والی تویسکیا اسٹریٹ دیکھتی ہے ۔ یہی سٹی ماسکو ہال ہے، جس کے مخالف طرف یوری ڈولگورکوئے کا مجسمہ ہے ۔  یہاں سے آگے بڑھ کر ہمیں جلدی تھی ریڈ اسکوائر آنے کی ۔ ہم ریڈ اسکوائر اور ریڈ اسکوائر ہمارا منتظر تھا۔ اس جگہ کے چاروں جانب تاریخی عمارتیں ہیں ایک جانب سرخ کریملن فورٹ کی دیوار ساتھ ساتھ چلتی ہے تو دوسری طرف ماسکو کا لینڈ مارک سینٹ بیزل چرچ ہے، یہاں تاریخی میوزیم ہے، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز ہیں اور ہاں رنگین پیاز نما عمارت سینٹ بیزل کیتھیڈرل چرچ کے سامنے مینن اور پوسہارسکے مونومینٹ دیکھنا نہیں بھولیے گا،،،،Image result for Bolshoi Theater ان نظاروں سے محضوظ ہوتے سردی میں  ٹہٹھرتے اپنی اپنی تصاویر اتارتے ان لمحات کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے بعد ہمیں  ہمارا گائڈ اور اب نیادوست پراوین ہمیں لے کر بڑھا ایلنکا اسٹریٹ کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں ہے بولشوائے تھیٹر۔۔۔Image result for Bolshoi Theaterبالشوائے تھیٹر کی یہ عمارت خود اپنے آپ میں تاریخ سمیٹے ہوئے ہے اور یہاں کا اوپرا دنیا بھر میں مشھور ہے۔  انقلاب اکتوبر سے پہلے یہ تھیٹر ایمیریل تھیٹر کا حصہ تھا جس کے ساتھ ہی مالے تھیٹر یعنی چھوٹا تھیٹر بھی تھا  ۔  بہر کیف یہ تھیٹر بالشوائے،  دنیا کے قدیم تھیٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور جب بھی روس پر چڑھائی ہوئی سب سے پہلے اسی تھیٹر کو آگ لگا کر تباہ کیا گیا یہ کئی بار گرایا اور بنایا گیا یہاں اوپرا دیکھنے کی کوشش تو کی لیکن نا ٹکٹ دستیاب ہو سکا نا ہی وقت نے مہلت دی اور ابھی موسکو میں بہت کچھ دیکھنا باقی تھا،،،،،،Image result for Bolshoi Theaterاس کے ساتھ ہی جو سڑک ہے وہاں موجود شاپنگ پلازہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر وہاں سے خریدنے کی جرت ہم میں سے کسی ساتھی میں نہیں تھی جس کے بعد خاموشی سے باہر نکل آئے اور ہماری اس عجلت کو دیکھ کر پراوین نے ہم سے وعدہ لیا کے یہاں سے کچھ نا لیا جائے وہ ہمیں ایسی جگہ لے جائے گا جو یہاں سے سو گناہ سستی ہے سن کر یقین تو نہیں آیا مگر من و عن مان لیا کیونکہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔Image result for Metrorail Hotel in Moscow یہی سامنے ہوٹل میٹرو پول ماسکو ہے اور اس ہوٹل کی مشھور کہانی سے ہمیں پراوین نے آگاہ کیا۔  یہ ہوٹل ماسکو شہر کے درمیان میں تعمیر کیا گیا تھا 1899-1907 کے درمیان اس عمارت کی تعمیر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ جسے آرٹ نوویوا اسٹائل کہا جاتا ہے اور یہ 1917 کے انقلاب سے پہلے سب سے بڑا روس کا ہوٹل تھا  جسے بالشوائے تھیٹر کے سامنے تعمیر کیا گیا تا کہ سیاحت کے ساتھ ساتھ آرٹ کے فروغ میں بھی مدد مل سکے ۔ جب کے یہ ہوٹل بھی بالشوائے تھیٹر کی طرح  کئی بار بنا ہے اس عمارت کی خاص بات یہ ہے کہ آرکیٹیچرل آرڈر کے  حوالے سے اس میں کوئی خامی نہیں ہے 1918 میں بالشویک حکومت نے اس ہوٹل کو نیشنالائز کیا اور یوں یہ ہوٹل سیکنڈ ہاوس آف سویت بھی کہلایا یہ ہی وہ عمارت ہے جہاں لینن نے اپنی زندگی کی آخری تقریر بھی کی تھی۔ آج اس ہوٹل میں قریب کوئی 365 کمرےہیں  اور ہر کمرہ دوسرے سے جدا نظر آتا ہے۔Image result for Doma in Moscowہی آگے جاکے دوما بھی ہے یعنی روس کی ایوان زیریں جس کی بنیاد پہلی بار زار (روسی بادشاھ کا ٹائیٹل) نیکولس 2 نے 1906 میں رکھی اور 1917میں اسے تحلیل کیا گیا اور اسکے بعد1993 میں  ایک بار پھر نچلی قانون ساز اسمبلی کا درجہ پایا جس کے بعد سے آج تک یہاں قانون سازی جاری ہے۔  جب پراوین  یہاں کا قصیدہ  بیان کر چکا تو ہم آگے بڑھے ہمارے منزل تھی حلال یا پھر ویجیٹیرین کھانے کی تلاش جو یقینی طور پر پاکستانیوں اور بھارتیوں کے لیے ماسکو میں ایک مشکل کام تھا مگر اچھا ہوا کہ پراوین ہمارے ساتھ تھا جو ہمیں ایک انڈین ریسٹورنٹ لے گیا اور پیٹ پوچا کا سامان ہوا ورنہ یہاں حلال کھانا تلاش کرنا مشکل ترین عمل تھا ۔

کھانے کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ ماسکو رہنے کے لیے مہنگا ترین شہر ہے اور ہاں ہمیں یہاں کھانا سستا لگا اور  پانی خرید کے پینا مہنگا، اس شہر میں شراب سستی مگر پانی اتنا ہی مہنگا ملتا ہے۔۔۔۔۔Image result for fsb moscow

پیٹ کی آگ بجھا کے اب آگے چلے تو پرواوین ہمیں لے کر پہنچا  لبیانکا اسکوائر جہاں مشھور زمانہ بلڈنگ ایف ایس بی ( فیڈرل سیکیورٹی سروس) ہے کبھی یہ بلڈنگ  کے جی بی ( یعنی کمیٹی فار اسٹیٹ سیکیورٹی ) کہلاتی تھی اور اس کا کام سویت یونین کے وقت میں سیاسی لیڈران اور مختلف مشنز پر معمور لوگوں کی حفاظت تھی۔ یہاں یہ بھی واضح کر دو کہ کے جی بی سے پہلے یہ چیکا کہلاتی تھی جس کا قیام بلشوویک حکومت کے پہلے دن ہی 1917 میں آیا تھا اور اس وقت اس ایجنسی کا کام ریاست کے دشمنوں کا صفایا اور ان کی تلاش و تحقیق شامل تھی مگر وقت کے ساتھ یہ ایجنسی کمیونسٹ پارٹی کا گڑھ بن کر رہ گئی اور آج  جب کے یہ بلڈنگ ایف سی بی بن گئی ہے کمیونسٹ پارٹی کے ممبران کے لیے ایسے ہی ہے جیسے ایم کیو ایم لندن کے لیے نائن زیرو وہی حیثیت اور وہ  جذباتی حیثیت  مگر قریب آنے پر ویسا ہی حشرنشر جو یہاں ہو سکتا ہے۔  خیر سرد رات میں آگے بڑھتے پہنچے اپنے ٹھکانے پر اور اگلی صبح پراووین اچھے ناشتے اور سستی خریداری کی آس دئیے رخصت ہو گیا۔۔۔

(سفرنامہِ روس (پہلی قسط

 

(سفر نامہ روس ( دوسری قسط

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top