تازہ ترین
(سفرنامہِ روس (پہلی قسط

(سفرنامہِ روس (پہلی قسط

تحریر: آصفہ زہرہ

ستر برس کے فاصلے کے بعد پاکستان اور روس کی قربتیں بڑھنے لگی ہیں۔ اس قربت کا اصل محرک امریکہ کا بھارت کی جانب مزید جھکاؤ اور پاکستان میں چینی تعاون سے پایہ تکمیل ہوتا سی پیک  ہے۔ فاصلے مٹانے کی اس کوشش میں روس نے اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور یوں اسے بھی سی پیک میں حصہ مل گیا ہے۔عالمی نوجوان و طلبہ کانفرنس میں پاکستان کے کم و بیش ہر شہر سے نوجوان و طلبہ کو چنا گیا ہے۔ میرا ماسکو کا سفر کراچی ایئرپورٹ سے شروع ہوا جہاں داخل ہوتے ہی معلوم ہوا کہ کراچی ایئرپورٹ اتھارٹیز اب تک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو دل سے اپنا نہیں سکیں۔ جگہ جگہ بابائے قوم قائد اعظم  محمد علی جناح، صدر مملکت ممنون حسین کی تصاویر آویزاں تھیں مگر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 ماہ 10 دن بعد بھی شرف قبولیت نہیں بخشا جاسکا اور یوں آتے جاتے لوگوں کو خالی تصویر منہ چڑاتی رہی۔۔۔بہرکیف جہاز اڑان بھر ہی گیا اور یوں پہنچے ہم دیومالائی کہانیوں جیسے شہر ماسکو جو کہ موسکاوا دریا کے کنارے آباد یورپ کے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اپنے وسیع ترین رقبے کی بنیاد پر روس یوروایشیا کہلاتا ہے۔ ماسکو پہنچ کر مجھے دیوانہ بنایا ماسکو کی خوبصورت عمارتوں کے طرز تعمیر نے، مہنگی ترین کاروں اور جا بجا بکھری خوبصورتی نے۔۔۔

\

ماسکو میں میرا پہلا پڑاؤ تھا زبان زد عام ریڈ اسکوائر۔۔۔ ذرا ٹھہریے اس نام سے ہر گز اسے سرخوں سے منسوب نا سمجھا جائے۔ یہ اسکوائر اب روس کی پہچان ہے۔ یہ رنگ برننگی پیاز کی شکل کی عمارت جیسے سینٹ بیزل کیتھیڈرل چرچ کہتے ہیں۔دنیا بھر کے سیاحوں کی پہلی منزل ہوتی ہے جہاں قدم قدم پر تاریخ بکھری ہے۔یہاں کریملن فورٹ ہے، یہی ریولیوشن اسکوائر کے جہاں قومی دن پر پریڈ ہوتی ہے۔ دوما، بالشویک تھیٹر، ہوٹل میٹرو پولیٹن بھی یہیں موجود ہیں اور سب کی اپنی اہمیت ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top