تازہ ترین
سفارتی فنڈز میں خوردبرد کا الزام، حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری

سفارتی فنڈز میں خوردبرد کا الزام، حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد:(05 اکتوبر 2018) امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا۔ سفارتخانہ کے فنڈزمیں خوردبردکے الزام میں حسین حقانی کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے۔

اسپیشل جج سینٹرل ارم نیازی نے حسین حقانی کے خلاف سفارتخانے کے فنڈزمیں خور برد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق حسین حقانی نے سفارتخانے کےدو ملین ڈالرفنڈزمیں خوردبرد کی۔ سابق سفیرجان بوجھ کرروپوش ہیں ۔کراچی میں ان کے گھر پراشتہار بھی چسپاں کیاگیاہے۔

عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر امریکامیں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر تے ہوئے کیس داخل دفترکردیا۔

اس سے قبل تیس  اگست کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت کیتھی۔ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے آغاز پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ امریکا حسین حقانی کو حوالے کرنے سے انکارکرتا ہے تو کیا حل ہوگا؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں امریکا کے قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کرنا ہوگا۔

ویڈیودیکھنے کیلئے پلے کابٹن دبائیں

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا ان کی عدالت میں جانے کے لیے ہمارے پاس کافی مواد موجود ہے؟ جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی عدالت میں نہیں جانا پڑے گا،انہوں نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ محکمہ خارجہ کے شعبہ باہمی تعاون مشاورت سے رابطہ کرنا پڑے گا۔

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کہ کرپشن کیس کے تحت حسین حقانی کی تحویل مانگی جائے، اس کام کے لیے نیب کا ادارہ موثر ہوگا۔جس پر سپریم کورٹ نے حسین حقانی کوواپس لانے کا معاملہ ایف آئی اے سے لے کرنیب کے سپرد کردیا اور اس حوالے نیب کو احکامات جاری کردیئے۔

عدالت عظمیٰ نے نیب کو حسین حقانی کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک ماہ میں ملزمان کی حوا لگی کا قانون پارلیمنٹ سے منظورکرایا جائے،بعدازاں سپریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل کی سماعت تین ستمبر تک ملتوی کردی۔سماعت سے قبل ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی، رپورٹ کے مطابق انٹر پول نے حسین حقانی کی امریکہ میں موجودگی کی تصدیق کی ہے، جبکہ حسین حقانی کا پاکستانی پاسپورٹ بلاک کرنے کا پراسس بھی جاری ہے، سابق پاکستانی سفیر اب بھی امریکا میں رہائش پذیر ہے۔

ویڈیودیکھنے کیلئے پلے کابٹن دبائیں

اس سے قبل نو اگست چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میمو کمیشن کیس کی سماعت کی،عدالتی معاون احمر بلال صوفی نے حسین حقانی کی واپسی کیلئے قانون کا ڈرافٹ عدالت میں پیش کیا، ڈرافٹ کے مطابق حسین حقانی کا ریڈ وارنٹ بھی انہیں امریکہ سے واپس نہیں لاسکتا،پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست پر حسین حقانی کو شاید پاکستان لانا مکمن نہیں،عدالتی معاون کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ امریکہ سے مایوسی کا اظہار کرسکتا ہے۔ سفارتخانہ فنڈز میں خوردبرد کیس ان کو واپس لانے کیلئے اہم ثابت ہو سکتا ہے جس کیلئے قانون سازی کرنا ہوگی،عدالت نے احمر بلال صوفی کو اپنی تجاویز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی گئی تھی۔
یاد رہے کہ میمو گیٹ اسکینڈل کے مرکزی کردار حسین حقانی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی گارنٹی پر ایک ہفتے کیلئے بیرون ملک گئے اور دوبارہ پاکستان واپس نہیں آئے، وہ ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں اورپاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف کام کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انٹر پول کا حسین حقانی کے خلاف کارروائی سے انکار

سابق سفیرحسین حقانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top