تازہ ترین
سری نگر میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کیخلاف مظاہرے

سری نگر میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کیخلاف مظاہرے

سری نگر:(24 اکتوبر 2018) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فورسز کے حملے میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نے وادی میں ایک جھڑپ کے دوران 2 نوجوانوں کو ہلاک کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقع کے خلاف وادی میں بھارت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔

پولیس نے بتایا کہ بھارتی فورسز نے سری نگر کے اطراف میں کشمیری حریت پسندوں کی موجودگی پر آپریشن کے لیے علاقے کو گھیرے میں لیا تھا۔واقع کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن کے دوران فوج اور مسلح افراد کے دوران مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 کشمیری نوجوان ہلاک جبکہ 4 بھارتی فوجی اور پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔

واقعہ کی رپورٹس منظر عام پر آتے ہی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے جائے وقوع کی جانب مارچ کی کوشش کی، انہیں روکنے کے لیے انڈین فورسز نے فائرنگ کی جس کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان چھڑپیں شروع ہوگئیں۔

بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے جس میں 4 کشمیری زخمی ہوگئے۔21 اکتوبر 2018 کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی میں مزید 8 کشمیری نوجوان کو قتل کردیا تھا جبکہ اس سے قبل 19 اکتوبر کو بھارتی فوج نے ضلع بارا مولا کے علاقے بونیار میں علاقے کا محاصرہ کیا تھا اورسرچ آپریشن کرتے ہوئے 4 کشمیری نوجوانوں کو قتل کردیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن گزشتہ سال بھارتی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آؤٹ کے نتیجے میں 350 اموات ہوئیں اور وادی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے

سرینگر: بھارتی فورسز کی دہشتگردی، مسلمان پی ایچ ڈی اسکالر سمیت دو شہید

مقبوضہ کشمیر میں دس کشمیریوں کی شہادت کیخلاف ہڑتال اور مارچ

Comments are closed.

Scroll To Top