تازہ ترین
سانپ اور نیولا

سانپ اور نیولا

تحریک انصاف کے بانی پاکستان کے وزیراعظم عمران اور ان کی کابینہ کے اقوال زریں یقیناً ملک کی سیاسی تاریخ کو مسخ کرنے میں سابق حکمرانوں اور سیاسی رہنمائوں کے مقابلے میں نمایاں نظر آئے گی۔ ہمارے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھٹو کو سیاست میں ایوب خان لائے اور نواز شریف کو ضیا الحق، یقیناً ایسا ہی ہوتا رہا ہے لیکن وہ خود اپنے متعلق بھی فرما دیتےکہ ان کو انتخابات یا ریفرنڈم میں کامیابی کا گر کس نے سکھایا۔ کیا یہ غلط ہے کہ سابق جنرل پرویز مشرف کے نام نہاد ریفرنڈم میں جن میں عوام نے نہیں ان دیکھے فرشتوں نے حصہ لیا عمران خان اس میں برابر کے شریک تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں جمہوریت کے نام پر برسراقتدار آنے والے ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف یا عمران خان صاحب ہوں یہ سب کے سب آمرکی نرسریوں میں پروان چڑھے ہیں۔ عمران خان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 26 جنوری کو بڑے واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ فیصلہ کن قوتوں کو نواز شریف اور آصف علی زرداری قبول نہیں ہے۔اپنے اس فیصلے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی غرض سے فیصلہ کن قوتیں موجودہ حکمرانوں کی انگلیاں پکڑے ملک ملک امداد کے نام پر قرضے حاصل کرتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ سیاست میں جوڑ توڑ کے ماہر زیرک سیاستدان چوہدری شجاعت حسین نے بھی موجودہ حکومت میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات اور کوششوں کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان معاہدے جنرل قمر باجوہ کی دانشمندانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ مشرف، ایوب اور ضیا سے بدتر حکمران تھا اس نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے کراچی کی سڑکوں کو خون سے نہلادیا ۔ بھٹو کا ابتدائی سیاسی سفر ایوب خان کے سائے میں گزرا تو تحریک انصاف کے چیئرمین کو انتخابات میں کامیابی کا ہنر خلائی مخلوق کی مدد سے حاصل ہوا۔ وزیراعظم پاکستان کو شکوہ ہے کہ ان کو پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جاتا ، کتنا ہی اچھا ہوتا کہ وہ یہ بھی بتا  دیتے کہ وہ سابقہ اور موجودہ اسمبلیوں کے اجلاسوں میں کتنی مرتبہ شریک ہوئے۔ انہوں نے سابقہ اسمبلی کا تو بائیکاٹ کررکھا تھا اور موجودہ اسمبلی اجلاسوں میں ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ میانوالی میں نمل یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک بار پھر عوام کو پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی پوشیدہ انتظامی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار پنجاب کے بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہونگے۔ عثمان بزدار کو صوبے کا وزیراعلیٰ مقرر ہوئے چھ ماہ ہوچکے ہیں اس مدت میں سوائے انسپکٹرجنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کے تقرر و تبادلے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ تمام تقرریاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔Image result for cm punjab usman buzdarوزیراعظم کے مشیر اور دیرینہ ساتھی نعیم الحق نے حکومت کے ناقدین پر الزام لگایا ہے کہ وہ مرکزی حکومت اور اتحادیوں کے درمیان اختلافات اور تقسیم کے خواہاں ہیں بقول نعیم خان کے متحدہ قومی موومنٹ ہماری اہم اور مضبوط اتحادی ہے ، مرکزی حکومت کے قیام میں متحدہ کا اہم کردار ہے۔ یقیناً یہ سچ ہے لیکن ماضی کی جن حکومتوں پر آج نعیم الحق اور ان کے دیگر ساتھی دن رات لعنت و ملامت کرتے رہتے ہیں ان کے اقتدار میں متحدہ برابر کی شریک رہی ہے۔ پی پی پی کی شہید رہنما محترمہ بینظیر بھٹو کو نائن زیرو پر دوپٹہ پہنا کر بہن بنانے والے الطاف حسین نے کیا سلوک کیا  اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر بے گناہ شہریوں اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو کس جماعت کے مسلح دہشتگردوں نے بندوق کی گولیوں سے بھونا تھا۔متحدہ کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ وفاق اور صوبہ سندھ کی حکومتوں میں ہر حیثیت میں شامل رہنا چاہتی ہے، آج کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کا جو جنگل کھڑا ہے اسکی ذمے دار ایم کیو ایم ہے ۔ سندھ اور وفاق کے مالی وسائل کو لوٹنے والوں میں آصف علی زرداری، نواز شریف، الطاف حسین اور اس کے حامی برابر کے شریک ہیں۔ متحدہ نے ہمیشہ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی سیاسی کا تعین کیا ہے اس لیے اس کی حمایت یا مخالفت پر یقین کرنا سراب سے کم نہیں ہے ۔ آزمانا ہے تو ذرا قومی اسمبلی میں موجودہ متحدہ کے حامیوں کی طنابیں کس کر دیکھیں متحدہ کی حمایت شاخ نازک کی طرح ہے جو موجودہ احتسابی دور کی معمولی سی سرزنش برداشت نہیں کرسکے گی ۔ سانپ اور نیولے کا کھیل متحدہ ماضی میں دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی کھلتی رہی ہے ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top