تازہ ترین
سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل رپورٹ شائع کردی گئی

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل رپورٹ شائع کردی گئی

لاہور: (05 دسمبر 2017) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل رپورٹ پنجاب حکومت کی ویب حکومت سائٹ پر اپ لوڈ کردی گئی ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی حکومتی اپیل مسترد کی اور رپورٹ کوشائع کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ نے 3 رکنی فل بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سانحہ کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی حکومتی اپیل مسترد کی اور رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے آپریشن کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن نے انکوائری کی تھی تاہم اس انکوائری رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا تھا۔بعدازاں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین نے جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس پر سماعت کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے رواں برس 21 ستمبر کو مذکورہ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

جس کے بعد پنجاب حکومت نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے گذشتہ ماہ 24 نومبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی، جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے حکومتی اپیل مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو شائع کرنے کا حکم دے دیا۔ فل بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لواحقین کو 3 روز میں کاپی فراہم کی جائے اور 30 دن کے اندر انکوائری رپورٹ سرکاری طور پر شائع کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کاٹرائل غیرجانبدارانہ اور شفاف کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ برقرار

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش

 

Comments are closed.

Scroll To Top