تازہ ترین
سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کب کیا ہوا

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کب کیا ہوا

سترہ جون دو ہزار چودہ کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا،، پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق جبکہ نوے زخمی ہوئے۔۔Image result for model town incidentاسی روز ہی سانحہ کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کر لیا گیا، ایف آئی آر نمبر 2004(510)جس میں ساری ذمہ داری عوامی تحریک پر ڈالی گئی۔۔ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے بیٹے حسین محی الدین، عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈاپور، چیف سکیورٹی آفیسر سید الطاف شاہ، شیخ زاہد فیاض سمیت 56 نامزد اور 3 ہزار نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا۔۔Image result for model town incident سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کا عوامی تحریک نے بائیکاٹ کر دیا۔۔۔18جون کو وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ کو عدالت عالیہ کے جج کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کی سفارش کر دی۔ عوامی تحریک نے یک رکنی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے سانحہ کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ایسے غیر متنازع، غیر جانبداراور اچھی شہرت کے حامل ججز پر بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

راناثناءاللہ کا وزارت سے استعفیٰ،پھر واپسی 21جون2014 کو وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ سے استعفیٰ لے لیا۔۔ پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیراعظم ،وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیراعظم،وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔۔راناثناءاللہ کو جے آئی ٹی سے کلین چٹ ملنے اور جسٹس علی باقر نجفی کمیشن کے روبرو پیش ہونے کے بعد انہیں دوبارہ 14اکتوبر2014کو وزارت قانون کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔۔جسٹس علی باقر نجفی کمیشن نے9اگست2014کوتحقیقاتی رپورٹ مکمل کر کے پنجاب حکومت کو بھجوا دی۔Image result for model town incidentجوڈیشل کمیشن رپورٹ کےحصول کیلئے عدالتی جنگ5ستمبر 2014کوعوامی تحریک نے کمیشن کی رپورٹ منطرعام پر لانے کےلئے درخواست دائر کر دی۔۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے 17فروری2015کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لانے کیلئے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔مارچ2015 کو بنچ کے ممبر جسٹس عبدالستار اصغر کے ریٹائرڈ ہونے پر فل بنچ تحلیل ہو گیا۔اسی ماہ نیا بنچ تشکیل دیا گیا اس فل بنچ نے اپریل 2016میں دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس خالد محمود ریٹائرڈہونے کے باعث یہ بنچ بھی فیصلہ دیئے بغیرتحیل ہو گیا۔۔ستمبر2016میں جسٹس یاور علی کی سربراہی میں نیا فل بنچ تشکیل دیا گیا جس کی کارروائی جاری ہے اور آئندہ سماعت25ستمبر 2017کومقررکی گئی ہے۔Image result for model town incidentعوامی تحریک کا انقلاب اور قصاص مارچ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مذمت پر مبنی کل جماعتی کانفرنس19 جولائی 2014کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئی، جس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کے مستعفیٰ ہونے اور غیرجانبدار تفتیش کے مطالبہ کیا گیا۔Image result for model town incidentعوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری کی قیادت میں14اگست2014کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب احتساب اور قصاص مارچ کیا اور اسلام آباد میں دھرنا دے دیا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مداخلت پرسانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ عوامی تحریک کی درخواست پر درج کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔۔70 روز کے بعد عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے دھرنا ختم کرتے ہوئے اسے ملک بھر میں پھیلانے کا اعلان کیا۔آرمی چیف کی مداخلت پر 19جون کومنہاج القرآن کے ڈائریکٹر ایڈمن جواد حامد کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دی گئی گئی درخواست پر 28اگست کو وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، حمزہ شہباز، وفاقی وزراء میں سے خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، چودھری نثار خان، پرویز رشید، عابد شیر علی، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ، سابقہ سی سی پی او لاہور شفیق گجر، ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار، ایس پی ماڈل ٹاؤن طارق عزیز سمیت دیگر نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جس کا ایف آئی آر نمبر(696)2014ہے۔۔۔Image result for model town incidentسانحہ کےمرکزی کردارگلو بٹ گرفتاری کے بعدرہائی منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں پر ڈنڈے برسا کرشیشے توڑنے والے گلو بٹ کو19جون 2014کو گرفتار کیا گیا۔۔پولیس نے تفتیش مکمل کر کے چالان انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا۔30اکتوبر2014کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاون کے دوران گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور پتھراؤ میں ملؤث مرکزی ملزم گلو بٹ کو11 سال قید بامشقت اورایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔گلوبٹ نے اے ٹی سی کی جانب سے دی جانے والی سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔۔7مارچ2017 کولاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 3 ہفتوں کی تاخیر سے گلو بٹ کی اپیل پر رہائی کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ تعزیرات پاکستان کے تحت عام جرائم میں گلو بٹ 6 سال کی سزا کاٹ چکا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد گلو بٹ کو 7 مارچ 2017کو ہی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملی۔Image result for model town incidentماڈل ٹاؤن کیس لاہور کی3عدالتوں میں زیرسماعت سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دو ایف آئی آر درج ہونے کے باعث مقدمہ سیشن کورٹ، انسداد دہشتگردی عدالت اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔2015میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ایف آئی آر نمبر510میں طاہرالقادری سمیت45کارکنوں کو اشتہاری قرار دے دیا۔۔16مارچ 2016کو عوامی تحریک نے انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت میں وزیراعظم سمیت139افراد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔7فروری2017کو انسداد دہشتگردی عدالت نے استغاثہ سے متعلق عبوری فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم اور وزراء سمیت سیاسی شخصیات کو بے گناہ قرار دے دیا جبکہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سمیت تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا۔2اپریل 2017کو عوامی تحریک نے استغاثہ میں وزیراعظم اور وزراء کو بے گناہ ٹھہرانے کا قدام کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔۔اس وقت انسداددہشتگردی عدالت میں سانحہ کی دونوں ایف آئی آرز پر چالان پیش کیے جا چکے ہیں۔12اپریل 2017کوانسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے الزام میں گرفتارانسپکٹر عامر سلیم سمیت 4 ایلیٹ فورس اہلکاروں کی ضمانت منظور کر چکی ہے۔۔استغاثہ میں آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو انسداددہشتگردی عدالت نے طلب کیا تو ہائیکورٹ کے جسٹس یاور علی نے یہ فیصلہ معطل کر دیا جس کی آئندہ سماعت 27نومبر کو ہو گی۔۔

فیصل میر کا تیر کتنا چلے گا

گامے پہلوان کی پوتی میدان مارے گی

Comments are closed.

Scroll To Top