تازہ ترین
سابق وزیراعظم اور مریم نواز احتساب عدالت میں پیش

سابق وزیراعظم اور مریم نواز احتساب عدالت میں پیش

اسلام آباد: (23 فروری 2018) نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر احتساب عدالت پہنچ گئے ہیں ، جہاں ان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت جاری ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں جبکہ بیرسٹر امجد ملک اور نواز شریف کے لندن میں پرائیویٹ سیکرٹری وقار بھی لندن ہائی کمیشن میں موجود ہیں اس کے علاوہ شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کے گواہان رابرٹ ریڈلے اور راجہ اختر بھی لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پہنچ چکے ہیں۔آج کی سماعت میں وکیل صفائی خواجہ حارث ویڈیو لنک کے ذریعے گواہ رابرٹ ریڈلی پرجرح کررہے ہیں۔

کل ہونے والی سماعت میں خواجہ حارث نے رابرٹ ریڈلے سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی رائے سے پہلے تمام دستاویزات کو پڑھا اور ان سے اصل دستاویزات مانگی تھیں ، جس پر رابرٹ ریڈلے نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے دستاویزات کو تفصیل کے ساتھ پڑھا نہ ہی اصل دستاویزات سے متعلق کوئی سوال کیا ۔خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے رپورٹ میں ذکر کیا تھا کہ آپ کو اصل دستاویزات مہیا نہیں کی گئیں۔ رابرٹ ریڈلے کا کہنا تھا کہ مجھے اصل دستاویزات کی ضرورت تھی نہ ہی میں نے اس کا ذکر اپنی فرانزک رپورٹ میں کیا۔ میرا کام ان  فرانزک آڈٹ کرنا تھا۔خواجہ حارث نے گواہ سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے آپ فونٹ کے حوالے سے نوٹس دیکھ کر جواب دے رہے ہیں جس پر ریڈلے نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ میں نوٹس دیکھ کر آپ کے سوالوں کا جواب دے رہا ہوں ۔

اس موقع پر خواجہ حارث نے پوچھا کہ آپ نے نوٹس کب تیار کیے۔ کیا یہ نوٹس آپ نے جرح کے لیے تیار کیے ہیں ۔ گواہ نے جواب دیا کہ یہ بات درست ہے کہ نوٹس جرح کے لیے تیار کیے اور کل اس حوالے سے میٹنگ ہوئی اور اس حوالے سے بحث بھی ہوئی ۔

خواجہ حارث نے جب گواہ سے پوچھا کہ میٹنگ کس حوالے سے ہوئی تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال متعلقہ نہیں ہے ۔ میں یہاں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آیا ہوں ۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کل کی میٹنگ بھی پھر عدالت کے حکم پر ہی ہو گی جس پرعدالت میں قہقہے کی گونج سنائی دی 

اس موقع پر خواجہ حارث کے استفسار کیا کہ دستاویزات کے ساتھ شیڈول منسلک ہے اور گواہ کا شیڈول ساتھ نہ ہونے کا بیان غلط ہے جس پر رابرٹ ریڈلے نے کہا اگر یہ شیڈول منسلک ہے تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرا بیان غلط ہے۔ عدالت نے گواہ پر مزید جرح کیلئے سماعت آج تک ملتوی کر دی تھی ۔

یہ بھی پڑھیے

ازخود نوٹس کا فیصلہ اب عوامی عدالت کریگی، نواز شریف

الیکشن کمیشن نے نواز شریف کا نام پارٹی صدر کی حیثیت سے ہٹادیا

Comments are closed.

Scroll To Top