تازہ ترین
سابقہ قومی اسمبلی کی پانچ سالہ کارکردگی کیسی رہی؟

سابقہ قومی اسمبلی کی پانچ سالہ کارکردگی کیسی رہی؟

اسلام آباد: (30 جولائی 2018) سابقہ قومی اسمبلی نے اپنی آئینی مدت کے دوران 156 قوانین پاس کیے جن میں 5 آئینی ترامیم بھی شامل تھیں۔ سابقہ قومی اسمبلی کے آخری برسوں میں ارکان کی ایوان میں عدم دلچسپی کے باعث قانون سازی میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

ملک کی 14ویں قومی اسمبلی نے اپنی آئینی مدت کے پانچ برسوں کے دوران 156 قوانین پاس کیے جن میں 5 آئینی ترامیم بھی شامل تھیں۔ ان آئینی ترامیم  میں سے اکیسویں اور تیئسویں ترامیم دہشتگردوں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق ہیں۔بائیسویں ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ان کے ارکان کی تقرری کا طریقہ تبدیل کردیا گیا۔ چوبیسویں ترمیم کے تحت مردم شماری کے بعد قومی اسمبلی کی نشستوں میں ردوبدل کیا گیا، جبکہ پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کا پختونخواہ میں انضمام کیا گیا۔

گذشتہ پانچ سالوں کے دوران قومی اسمبلی نے جو  قوانین منظور کیے ان میں نیکٹا، الیکشن ایکٹ، ہندو میرج بل، پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ، تحفظ پاکستان ایکٹ قابل ذکر ہیں۔ دیگر قوانین میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی فاٹا تک توسیع کا بل، گیس چوری اور ریکوری ایکٹ قابل ذکر ہیں۔حکومت کے آخری تین سالوں کے دوران ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث حکومت کو قانون سازی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً حکومت کے چھٹے بجٹ کی منظوری کے دوران بار بار کورم کی نشاندھی ہوتی رہی۔

گزشتہ اسمبلی میں تیرہ ایسے قوانین بھی شامل ہیں جو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مختلف ترامیم کے نتیجے میں مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس کو منتقل کیے گئے لیکن اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے باعث وہ منظور نہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں دہشتگردی کے واقعات میں بہتر فیصد کمی آئی،رینجرز کارکردگی رپورٹ

دوہزارسولہ کی سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کی رپورٹ جاری

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top