تازہ ترین
زینب قتل کیس:سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس نمٹادیا

زینب قتل کیس:سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس نمٹادیا

لاہور: (10 فروری 2018) چیف جسٹس پاکستان نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے ، جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ زینب کےقاتل کو پکڑنےمیں پنجاب پولیس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نےسپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں زینب قتل کیس کی سماعت کی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس موقع پر آئی جی پنجاب کی طرف سےرپورٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں پیش کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم عمران کاریمانڈ ختم ہونے پر اسےجوڈیشل کردیاگیاجبکہ ملزم کا ڈی این اےمیچ کرگیا اوراس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے،تفتیش کسی دباؤ کے بغیرمیرٹ پر کی گئی جبکہ ٹرائل کورٹ میں جلدازجلد ٹرائل مکمل کرلیاجائےگا۔جس پرعدالت نے اطمینان کااظہارکیا، چیف جسٹس نے رپورٹ کی روشنی میں ازخود نوٹس نمٹاتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ زینب قاتل کےپکڑنے پر پنجاب پولیس نےاچھی کارگردگی کامظاہرہ کیا، اس کیس میں کسی کو شکایت ہو تو وہ درخواست دائر کرے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے مزید ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق سات روز میں فیصلہ کیا جائے۔

دوسری جناب زینب قتل کیس کی پہلی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں ہوئی ، سماعت کے موقع پر کیس کے تمام شواہد کی کاپیاں ملزم کو فراہم کردی گئیں ۔ ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زینب قتل کیس کی سماعت پیر بارہ فروری سےروازنہ کی بنیاد پر ہوگی ۔گزشتہ روز محکمہ داخلہ پنجاب نے ننھی زینب سمیت کئی بچیوں کے قاتل عمران علی کے خلاف مقدمہ جیل میں چلانے کا فیصلہ کیاتھا۔ یہ فیصلہ عمران علی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ۔

عمران علی کو کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے گا جہاں ملزم کے لئے خصوصی سیل بنادیا گیا ہے جس میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ ان کیمروں کی مدد سے عمران علی پر نظر رکھی جائے گی تاکہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھاسکے۔ دوسری جانب پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے مقدمے میں ہونے والی پیش رفت اور ملزم کی سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم 8 بچیوں اور زیادتی کے قتل میں ملوث ہے۔ جیل میں ٹرائل کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو آج 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ملزم عمران کو 6 فروری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے اسے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ عمران پر 7 زینب سمیت 8 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا الزام ہے۔ 7 سالہ زینب قصور میں اپنی خالہ کے گھر کے باہر سے 4 جنوری کو اغوا ہوگئی تھی اور 5 روز بعد اس کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ قصور میں شدید احتجاج کے بعد زینب قتل کیس میڈیا پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کو ڈی این اے میچ ہونے کے بعد حراست میں لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

زینب قتل کیس: ملزم عمران کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا

زینب کے قاتل نے ایک اور سات سالہ بچی کے قتل کا اعتراف کر لیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top