تازہ ترین
زمبابوے، فوج کی بغاوت کی تردید، جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں

زمبابوے، فوج کی بغاوت کی تردید، جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں

ہرارے: (16 نومبر 2017) جنوبی افریقی ملک زمبابوے میں بغاوت کے بعد پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں پر فوج کا قبضہ برقرار ہے۔ صدر رابرٹ موگابے گھر میں نظربند ہیں جبکہ فوج نے بغاوت کی تردید کی ہے اور کہاہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے صبر و تحمل کی اپیل کی ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق زمبابوے کی فوج نے صدر رابرٹ موگابے کے رہائش کو گھیرے میں اور پارلیمنٹ، ریڈیو، ٹی وی ودیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ بدھ کے روز کیا تھا اور دارالحکومت ہرارے میں فوج کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ فوج کے ترجمان نے ہرارے سے جاری ایک بیان میں صدر کے خلاف بغاوت کی ترید کی اور کہاکہ زمبابوے کے صدررابرٹ موگابے محفوظ ہیں۔فوج صرف جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔زمبابوے کی حزب اختلاف نے مطالبہ کیاکہ وہ ملک میں اقتدار کی منتقلی پرامن چاہتے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق رابرٹ موگابے کی اہلیہ گریس موگابے صدر بننا چاہتی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ موگابے نے فوج کے حامی نائب صدر مننگگاکو ہٹا دیا تھا۔وہ اقتدار سے ہٹائے جانے کےبعد جنوبی افریقہ چلے گئے تھے اور دو روز پہلے ہی جوہانسبرگ سے واپس آئے تھے۔ مننگگا کو ہٹائے جانے پرفوج نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور آرمی چیف نے زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کو مستعفی ہونے کیلئے چوبیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ مہلت ختم ہونے پر فوج نے کارروائی کی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، امریکی محکمہ خارجہ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے صبر و تحمل کی اپیل کی۔جبکہ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زومانے رابرٹ موگابے سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے اقتدار کی پرامن منتقلی پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

 

زمبابوے کی فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا

زمبابوے کرکٹ ٹیم دوبارہ پاکستان آنے کو تیار

Comments are closed.

Scroll To Top