تازہ ترین
زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:(04دسمبر،2018) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے مشیر اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر وکیل زلفی بخاری نے کہا کہ زلفی بخاری کو نیب نے شوکاز نوٹس جاری کیا۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وہ خط کہاں ہے جس میں زلفی بخاری کا نام ای سی میں ڈالاگیا،اس پر حکومت نے خط پر کیا ایکشن لیا ؟جس پر عدالت میں موجود وزارت داخلہ حکام نے بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالا تھا۔عدالت نے کہا کہ ابھی کورٹ کیا کرے کابینہ ڈویژن کے فیصلے کا انتظارکریں ؟،بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،جو کچھ دیر میں سنایا جائے

اس سے قبل سولہ نومبر کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن کے ساتھ پیش ہوئے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ملکی اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے، یہ معاملات دوستی پر نہیں قومی مفاد پر چلیں گے۔ چیف جسٹس نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویہ پر سخت برہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے، سپریم کورٹ کے دوست نہیں، اٹارنی جنرل زلفی بخاری کو ان کے رویہ کے بارے میں آگاہ کریں۔وکیل زلفی بخاری اعتزاز احسن نے کہا کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں، وزیراعظم عوام کا ٹرسٹی ہے، وزیر اپنی من اور منشا کے مطابق معاملات نہی چلائے گا بلکہ ہم طے کرینگے کے معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں کہ نہیں، اعلیٰ عہدوں پر اقربا پروری نظر نہیں آنی چاہیے اور نہ ہی بندر بانٹ ہو۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کا کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا، کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی، اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے، زلفی بخاری کابینہ کے رکن نہیں، اوورسیز پاکستان کے لیے دہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزہ ہو تو آسانی رہتی ہے، وزیراعظم تو باراک اوباما سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے زلفی بخاری کا تمام بائیو ڈیٹا، تقرر کاعمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل بارہ نومبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے زلفی بخاری کی دُہری شہریت کے کیس میں وزیراعظم عمران خان کو بھی نوٹس جاری کیا تھا،سماعت کے آغاز میں وکیل درخواست گزار ظفر اقبال نے مؤقف اپنایا کہ خصوصی معاون کا کوئی عہدہ ہی نہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خصوصی معاون کا عہدہ کیسے وفاقی وزیر یا وزیرمملکت کے زمرے میں آتا ہے؟آپ کہتے ہیں کہ زلفی بخاری دہری شہریت رکھتا ہے، دہری شہریت والا رکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا اس لیے وزیر بھی نہیں بن سکتا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مشیروں کے عہدے اس لیے بنائے گئے کہ جو لوگ رکن پارلیمنٹیرین نہیں بن سکتے وہ مشیر لگ سکیں، آئین کے مطابق دہری شہریت والا وزیر نہیں لگ سکتا، سوال یہ ہے کہ کیا معاون خصوصی بھی نہیں لگ سکتا؟،چیف جسٹس پاکستان نے ذلفی بخاری کے وکیل سے کہا کہ آپ پہلے ہائی کورٹ جاسکتے ہیں۔یاد رہے کہ آٹھ اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا، زلفی بخاری کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں ڈالا گیا،نگران وزیر داخلہ اعظم خان کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے بھی نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

ذرائع کے مطابق نیب میں زلفی بخاری کے خلاف انکوائری چل رہی ہے،ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دیگر افراد کی معاونت سے برٹش ورجن آئی لینڈز پر آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں، جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور وہ منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل پچیس جون کو زلفی بخاری نیب کے روبرو پیش ہوئے، ٹیم نے زلفی بخاری سے چھ آف شور کمپنیوں سے متعلق ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور سوال نامہ ان کے حوالے کیا۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

سوالنامے میں زلفی بخاری سے آف شور کمپنیوں کے ذرائع آمدن پوچھے گئے، آف شور کمپنیاں کیسے بنائی گئی، فنڈز کہاں سے لائے گئے ؟ زلفی بخاری نے جواب دینے کے لیے دو ہفتے کا وقت مانگا مگر نیب نے ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں زلفی بخاری کا کہنا تھا بلیک لسٹ کا کوئی قانون موجود نہیں، مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا نام بلیک لسٹ میں ہے،اس معاملے پر ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ انہوں نے میرا نام کیوں ڈالا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی چھ آف شور کمپنیاں تھیں جس کے حوالے سے نیب کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہے تاہم مجھ پر کرپشن کا الزام غلط ہے،میں نے نیب کے ساتھ ہر لحاظ سے تعاون کیا ہے۔

یاد رہے کہ تیرہ جون کو نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی تھی۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

 گیارہ جون کو زلفی بخاری تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ہمراہ چارٹرڈ پرواز سے ادائیگی عمرہ کیلئے روانہ ہونے کیلئے بے نظیر ایئرپورٹ پہنچے جہاں کلیئرنس کے دوران امیگریشن حکام نے زلفی بخاری کو سفر کرنے سے روکتے ہوئے اپنی تحویل میں لے لیا اور بتایا کہ نیب کی طرف سے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب جانے سے روکے جانے کےبعد زلفی بخاری نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے کافی تگ و دو کی اور وہ عمرے پر جانے کی اجازت لینے میں کامیاب ہوگئے تھے،ذرائع کاکہناہے کہ وزارت داخلہ نے زلفی بخاری کو عمرے پر جانے کے لئے صرف چھ دن کی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

زلفی بخاری ای سی ایل کیس:وزارت داخلہ سے تحریری جواب طلب

میرا نام کبھی بھی ای سی ایل میں نہیں تھا ایئرپورٹ پہنچ کر پتہ چلا، زلفی بخاری

Comments are closed.

Scroll To Top