تازہ ترین
زبان کی پھسلن

زبان کی پھسلن

پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمارے سیاسی انتخابی منشور کے ساتھ ہے۔ تحریک انصاف کی اس اعترافی حقیقت کے بعد اب عمران خان کی دھرنوں میں اٹھنے والی امپائر کی انگلی پر سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے۔ اس سے قبل بعض وفاقی وزرا بھی اسی قسم کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ فوج اور عدلیہ حکومت کیساتھ ہے  لیکن جو لوگ پاکستان کی مسلح افواج کی ہیت ترکیبی کا معمولی بھی ادراک رکھتے ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک پروفیشنل فوج ہے جس کی وفاداریاں سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے ، وہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملکی سالمیت اور استحکام کے لئے دن رات مصروف ہیں۔ آج کل اقتدار کے اندھوں نے ملک کی جو درگت بنا رکھی ہے اس سے ہر باشعور شہری بشمول عمران خان کے پریشان ہے، پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے، کابینہ کے بعض ارکان کی نااہلی اور ماضی کے حکمرانوں کی چھوڑی ہوئی روایت کے تحت دوستوں اور یاروں کو نواز نے پر ہونے والی تنقید سے نجات حاصل کرنے کے لئے مڈٹرم انتخابات کے انعقاد کا اشارہ ان کی پریشانیوں کی نشاندہی کررہا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی اس پر مڈٹرم کرانے کا اشارہ نہیں معلوم کن مشیروں اور رہنمائوں کے مشورہ پر دیا ہے ۔ جہانگیر ترین کا دعویٰ ہے کہ مڈٹرم انتخابات میں بھی تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی جبکہ وہ خود اور ان کا بیٹا اپنے حلقہ انتخاب سے بری طرح شکست کھا چکے ہیں ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے فنڈ نہیں مانگا، یہ بات کہتے ہوئے شاید وہ جہانگیر ترین اور نعیم خان کے علاوہ فیصل آباد کے صنعتکاروں کو بھول گئے جو ان کے دھرنے کے دوران چار کروڑ روپے کا کھانا سپلائی کرنے کا برملا انکشاف کرچکے ہیں۔ جہانگیر ترین نااہلی کے باوجود آج بھی تحریک انصاف اور عمران خان کا قیمتی اثاثہ بنے ہوئے ہیں اپنی اس حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر و بیشتر وہ سرکاری اجلاس میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ موجودہ حکومت ملک کو درپیش سنگین اقتصادی آئینی اور عوام کی روزمرہ زندگی کو عذاب بنانے والے مسائل کو حل کرنے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کے بجائے اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات اور اس کے ساتھ مسلسل منہ ماری میں مصروف رہتی ہے خاص طور پر وفاق اور پنجاب کی حکومتوں کے ترجمانوں نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے درمیان لگنے والی آگ کو بجھنے نہیں دینگے بلکہ وہ اس پر پیٹرول چھڑکنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اس صورتحال پر عمران خان کے نامزد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کو مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ اپوزیشن کی تنقید پر ردعمل کا اظہار کرنے کے بجائے اپنی توجہ کام پر مرکوز رکھیں۔ ماضی کے مقابلے میں آج ملک کی عدلیہ آزاد اور خوف و خطر سے بالا ہوکر اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ اگر ہماری عدالتیں سابق وزرائے اعظم ،وزیروں اور اعلیٰ بیورو کریٹ افسران کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے تو عمران خان کے قریبی دوست و احباب میں اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی اور عدالت کے ریمارکس پر برہمی اظہار حیران کن ہے۔زلفی بخاری کیس میں چار دن قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس پر جس غم و افسوس کا اظہار کیا تھا اس کے بعد ان کی نصف گھنٹے سے زائدہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات پر ہم کسی بدگمانی کا شکار نہیں ہیں کیونکہ ہمیں یقین کامل ہے کہ ہمارے چیف جسٹس ملک کے جید عالم کی طرح کمزور نہیں ہے جو محض ایک جملے یا ارادے کے اظہار پر حکمرانوں کو سلام و سلوٹ کرنے لگے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اب تک جتنے بھی فیصلے کئے ہیں وہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیف جسٹس سے ملاقات کرنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور موجودہ وزیراعظم کی ملاقات کو کیسے ایک دوسرے سے مختلف قرار دیا  جاسکتا ہے، اگر خاقان عباسی کی ملاقات کے وقت سپریم کورٹ میں نواز شریف کے مقدمات زیر سماعت تھے تو آج عمران خان کی کابینہ کے دو اہم وزرا اور ان کے ذاتی دوستوں کے خلاف بھی مقدمات زیر سماعت ہیں۔چار دن قبل چیف جسٹس کے ریمارکس پر افسردگی کا اظہار کرنے والا وزیراعظم جب ان مقدمات کی موجودگی میں چیف جسٹس کی عوامی سطح پر تعریف و توصیف کرتا ہے تو ہم اس کو بقول ان کے وزیر فیصل واوڈا یا کے جس نے فوج کے حوالے سے عمران خان کے اس جملے کو کہ فوج پی ٹی آئی کے منشور کی حامی ہے زبان کی پھسلن  قرار دے چکے ہیں کہیں چیف جسٹس کی شان میں ادا کیے جانے والے الفاظ بھی کل زبان کی پھسلن قرار نہ پائیں۔ چند دن قبل ہمارا ملک بقول حکمرانوں کے شدید مالی بحران کا شکار تھا دوست ممالک کی طرف سے سوائے سعودی عرب کے سرتوڑ کوششوں کے باوجود خاطر خواہ مالی امداد اب تک نہیں لیکن اب وزیر خزانہ یہ نوید سنار ہے ہیں کے ملک مالی بحران سے نکل آیا ہے جبکہ ملک میں آج بھی ڈالر غیر مستحکم نظر آرہا ہے پوری قوم مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے لیکن ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ڈالر کے اوپر نیچے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ان کی یہ بات سچ بھی ہے کیونکہ جس شخص نے فاقے کا ذائقہ نہ چکھا ہو اس کے لئے پیسہ یا روٹی روزی کوئی معنی نہیں رکھتی۔فواد چوہدری خاندانی طور پر بڑے زمیندار اور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں غربت و افلاس ان کے قریب سے بھی نہیں گزری ہے ، ان کا خاندان ہر دور میں اور ہر قسم کے حکمرانوں کے دامن سے وابستہ رہا ہے ۔ ہماری آنکھوں سے پیپلزپارٹی ، جنرل مشرف ، ق لیگ اور تحریک انصاف میں فواد چوہدری  کی کارکردگی پوشیدہ نہیں ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top