تازہ ترین
زبان کو لگام دو

زبان کو لگام دو

ڈی چوک اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنماوں نے بد کلامی اور غیر مہذب زبان  استعمال کرنے کی جو فصل بوئی تھی وہ اس کے اقتدار میں آنے کے بعد پک چکی ہے ۔ فیاض الحسن چوہان، فیصل واوڈا ،فواد چوہدری اور مراد سعید کی شکل میں تحریک انصاف اس کو کاٹ رہی ہے ۔ ہماری سیاسی تاریخ میں بد زبانی اور بد کلامی کو سب سے زیادہ بڑھاوا 2013 اور 2018 کے عام انتخابات کی مہم کے دوران ملا جس میں سیاسی رہنماوں نے ایک دوسرے کے دامن کو تار تار کرکے رکھ دیا توقع تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور کارکن انتخابی رنجشوں کو فراموش کرکے اپنے سیاسی اور اخلاقی رویوں کو تبدیل کریں گے لیکن عوام یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تحریک انصاف کے چند زبان دراز اور خوشامد پسند رہنماوں کی بد کلامی میں مذید اضافہ ہوگیا اور انکا رویہ بھی قابل اعتراض ہوتا گیا۔ بعض وزرا نے بھی اپنی وزارت کے بنیادی فرائض کی انجام دہی کے بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو تیز قینچی کی طرح چلتی زبان کی زد میں لینا شروع کریا۔ خوشامدی وزرا میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ وہ رکن قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہوکر وزیر بھی بن جائیں گے۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات و کلچر فیاض الحسن، فیصل واوڈا ،مراد سعید اور اسی قبیل کے دوسرے ارکان اسمبلی مقتدر حلقوں میں اپنے نمبر بڑھوانے کے چکر میں بازاری زبان استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ خوشامد کا بھی ریکارڈ توڑ دیں گے خاص طور سے ایسے الفاظ و جملے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے جن سے پاکستان کے عوام کے مذہبی عقائد کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہو۔خوشامدی شخص کوئی بھی لفظ بغیر سوچے سمجھے نہیں بولتا ۔ فیصل واوڈا جیسا پڑھا لکھا خود ساختہ دانشور یہ نہیں کہہ سکتا کہ عقائد کے مسئلے پر اسکی زبان پھسل گئی تھی ۔ فیصل واوڈا کی بد زبانی کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جساکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں پہلی بار اپوزیشن اور حکمران جماعت کے ارکان متحد ہوکر سراپا احتجاج نظر آئے ۔ قومی اسمبلی کے ارکان فیصل واوڈا کی برطرفی کے مطالبے پر مسلسل تین گھنٹے تک جاری رہنے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دستبرداری سے انکاری رہے اس صورتحال سے حکومت کو نکالنے کے لیے اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ فیصل واوڈا کی وجہ سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جہاں تک فیاض الحسن کا تعلق ہے تاریخ بتاتی ہے کہ جماعت اسلامی سے منحرف ہوکر جب بھی کوئی رہنما دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہوتا ہے تو وہ اپنی زبان و کلام کا کنٹرول کھو دیتا ہے۔Image result for faisal wadaفیاض الحسن چوہان سیاستدانوں کے ساتھ صحافیوں ،فلمی اداکاراوں اور ثقافتی مراکز کو بھی اپنی زبان کے تیر و نشتر کا نشانہ بناکر معافیاں مانگنے کی بھی شہرت رکھتے ہیں ، ایسے لوگ اپنی زبان چلاتے وقت بھول جاتے ہیں کہ انکا یہ نسخہ زیادہ عرصے تک بازار میں نہیں بکے گا ۔ عمران خان کل تک فیاض الحسن چوہان کو اپنا چیتا قرار دیتے تھے  اس کو انہوں نے کان سے پکڑ کر سڑک پر کھڑا کرکے نشان عبرت بنادیا ہے ۔ فیاض الحسن چوہان اور فیصل واوڈا کے حالات و واقعات وفاقی کابینہ کے بعد دوسرے وزرا کے لیے بھی عبرت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے چوہان کے خلاف اب جو کارروائی کی ہے تو بعض وفاقی وزرا کی وجہ سے انکو جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ نہ ہوتا ۔ یہ وزرا ایک دوسرے کو بھری پارلیمنٹ میں جھوٹا قرار دے کر نا صرف عمران خان بلکہ حکومت کا مذاق اڑانے کے بھی مرتکب ہوچکے ہیں ۔ چوہان کو پنجاب کی صوبائی کابینہ سے نکال باہر کرکے وزیر اعظم نے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔عمران خان کے اس اقدام سے پاکستان کی ہندو برادری کا پاکستان پر اعتماد ،یقین اور وفاداری کا جذبہ یقینا مزید مستحکم ہوا ہے ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان میں آباد اقلیتوں کے متعلق واضح طور پر کہا ہے کہ مملکت خدا داد پاکستان میں بسنے والے تمام شہریوں کو بلاتفریق مذہب ،رنگ و نسل اور فرقے کے برابر کے حقوق حاصل ہونگے ۔ خدا کے فضل سے پاکستان کی اقلیتیں ملک کے عام شہری کے مقابلے میں ہمیشہ محفوظ اور پر امن رہیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960ء سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top