تازہ ترین
ریاض: پیدائشی طور پر جڑی ہوئی پاکستانی بہنیں کامیاب آپریشن کے بعد علیحدہ

ریاض: پیدائشی طور پر جڑی ہوئی پاکستانی بہنیں کامیاب آپریشن کے بعد علیحدہ

ریاض: (12 ستمبر 2017) مالاکنڈ کی رہائشی جڑواں بہنوں فاطمہ اور مشاعل کا سعودی عرب کے ’’شاہ عبداللہ چلڈرن اسپتال‘‘ میں کامیاب آپریشن کرلیا گیا۔ ڈاکٹروں نے پیدائشی طور پر آپس میں جڑی ہوئی دونوں بہنوں کو علیحدہ کردیا۔

خیبر پختونخواہ کے علاقہ مالاکنڈ کے رہائشی نثار غنی کی جڑواں بیٹیوں کا سعودی عرب میں کامیاب آپریشن کرلیا گیا ہے۔ پیدائش کے وقت فاطمہ اور مشاعل کے جسم آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ والد نے علاج کرانا چاہا لیکن پاکستان میں تمام ڈاکٹروں نے انہیں لاعلاج قرار دے دیا۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بچیوں کے علاج معالجہ کی ذمہ داری لی  جس کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کے ’’شاہ عبداللہ چلڈرن اسپتال‘‘ میں دونوں بچیوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے نتیجے میں دونوں بہنوں کو کامیابی سے ایک دوسرے سے علیحدہ کرلیا گیا۔بچیوں کے والد نثار غنی نے سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامیاب آپریشن سے ان کی زندگی میں خوشیاں لوٹ آئی ہیں۔

شاہ عبداللہ چلڈرن اسپتال میں اب تک  ایسے 40 سے زائد کامیاب آپریشن کیے جاچکے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ایک آپریشن پر 4 لاکھ ڈالرز سے زائد لاگت آتی ہے۔ یہ اخراجات سعودی فرمانروا برداشت کرتے ہیں۔ سابق سعودی وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی قیادت میں 70 رکنی میڈیکل ٹیم اس نوعیت کا آپریشن کرتی ہے۔

سعودی سفیر کے مطابق سعودی حکومت نہ صرف ایسے بچوں کے علاج کے اخراجات برداشت کرتی ہے بلکہ علاج مکمل ہونے تک بچوں کے والدین کو سعودی عرب میں قیام و طعام کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top