تازہ ترین
روہنگیا مسلمانوں کو جبراً واپس میانمار نہیں بھیجا جائے گا، بنگلادیش

روہنگیا مسلمانوں کو جبراً واپس میانمار نہیں بھیجا جائے گا، بنگلادیش

ڈھاکا:(15 نومبر 2018) بنگلادیش کے کمشنر برائے امدادو بحالی عبدالکلام کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو جبراً میانمار واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

روہنگیا مسلمانوں کیلئے بنگلادیش کے کمشنر برائے امداد وبحالی عبدالکلام نے ایک انٹریو میں کہا کہ بنگلادیشی کیمپوں میں موجود کسی بھی روہنگیا مسلمان کو زبردستی میانمار واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ یہ واپسی میانمار حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد ہی عمل میں لائی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالکلام کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں مظالم کا سامنا کرنا پڑا لہذا ان کیلئے واپسی کا عمل آسان نہیں ہوگا تاہم ہمیں امید ہے کہ میانمار کی حکومت معاہدے پر قائم رہتے ہوئے ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے گی۔

اس سے قبل بنگلا دیش اور میانمار کی حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ابتدائی طور پر 2 ہزار 260 مسلمانوں کو واپس میانمار بھیجا جائے گا تاہم اقوام متحدہ نے اس جبری بے دخلی کو انسانی حقوق کیخلاف ورزی قرار دیتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی کا عمل روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

صہیونی مظالم کیخلاف بھوک ہڑتال کرنے والا فلسطینی شہری اسرائیلی جیل سے رہا

کیلیفورنیا کے جنگلات میں آگ، 59 ہلاک، 130 لاپتہ

Comments are closed.

Scroll To Top