تازہ ترین
رخائن کا قبرستان اور جسدِ واحد کے مجاور

رخائن کا قبرستان اور جسدِ واحد کے مجاور

سترہ سال قبل میں ایک خلیجی ملک میں اخبار کے دفتر میں کام کررہا تھا جب پہلی دفعہ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کا ذکر ہوا۔ تجسس بڑھا تو اس خطے کے مسلمانوں کی تاریخ کے خدوخال کے بارے میں میسر معلومات حاصل کیں اور اس سلسلے میں عمر فاروق مودودی صاحب نے میری بہت رہنمائی کی۔ خلیجی ممالک میں ان کو اراکانی مسلمان بھی کہا جاتا ہے۔ عشروں سے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے یہ کلمہ گو آج کل اپنی جان اور عزت بچانے میں بھی ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن یہ ناکامی دراصل دنیا بھر کے مسلمانوں نے ان کے مقدر میں لکھی ہے۔ برما کے بدھ بھکشو اس کے کم ذمہ دار ہیں، ان کو اس ظلم و ستم پر اکسانے اور خونخوار بھیڑیئے سے بھی زیادہ وحشی بننے کے لئے خاموش حوصلہ افزائی کرنے والے وہ مسند نشین ہیں جو دنیا بھر میں اسلام کے ٹھیکے دار بنتے ہیں۔یہ وہ ٹھیکے دار ہیں جنہوں نے وسیع تباہی پھیلانے والے عراقی ہتھیاروں کے بارے میں بش اور بلیئر کا پروپیگنڈہ کو نہ صرف درست تسلیم کیا بلکہ سہارا بھی دیا اور محض اس لئے عراق کی بربادی میں دامے درمے شریک ہوئے کہ صدام حسین سے ذاتی حساب چکایا جا سکے۔پھر انہوں نے کرنل قذافی کی طرف سے عرب لیگ کے اجلاسوں میں تند و تیز تقاریر کا بدلہ ایسے انداز میں لیا کہ لیبیا آج بھی سلگ رہا ہے اور وہاں انسانیت سسک رہی ہے۔ آگے بڑھ کر ان قوتوں کا ساتھ دیا جن کا واحد مقصد ہی ایسی تمام ریاستوں کی تباہی تھا جو کسی بھی صورت ان کے ناجائز بچے اسرائیل کےلئے خطرہ بن سکتے تھے۔Image result for Rohingyaاور مہذب ترین لوگوں کی خوبصورت ترین سرزمین شام میں ان ٹھیکے داروں نے جو گندا کھیل کھیلا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ 1953 میں ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کے خلاف فنڈڈ بغاوت کے بارے میں سی آئی اے کا ریکارڈ اب منظر عام پر آ چکا ہے۔ ایسی ہی فنڈڈ بغاوت شام میں شروع کرائی گئی اور جس چوہدری کا جتنا بس چلا اس نے تباہی میں اپنا حصہ ڈالا۔ شام میں اسرائیلی فضائی و میزائل حملے بتا رہے ہیں کہ کون سی گندی گیم کھیلی جا رہی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔Image result for Rohingyaاسی پر بس نہیں، ایک غریب عرب ملک یمن کے داخلی سیاسی مسئلے کو محض اپنی چوہدراہٹ دکھانے کےلئے انسانی المیے میں بدل دیا گیا۔Image result for Rohingyaعراق، لیبیا، شام، یمن میں لاکھوں مسلمان صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ دسیوں لاکھ بچے اور عفت مآب مسلمان خواتین دربدر ہو گئیں۔ دوسری طرف فلسطین میں اسرائیل جب چاہیے یلغار کر دیتا ہے، پورے غزہ کو دس سال سے دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل بنا دیا گیا ہے۔ اسلام کے کسی ٹھیکیدار کی ملی غیرت نہیں جاگتی، ہاں مرنے والوں کے لئے کفن ضرور بھجوا دیتے ہیں اور زندہ رہنے کے لئے کچھ خوراک کے کینٹینر۔Image result for Rohingyaکیا ان سب ٹھیکے داروں سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ رخائن کے مسلمانوں کو بچانے کےلئے کوئی کردار ادا کریں گے، ہاں کہیں مسلمانوں کی تباہی کی داستان رقم کرانی ہو تو ان سب کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان کے اس کریہہ کردار نے ہی تو بودھ بھکشوؤں میں اتنی ہمت پیدا کی کہ جیسے چاہو روہنگیا مسلمانوں کو مارو، ان کی بستیاں تاراج کرو، کوئی ان کو بچانے والا نہیں۔ نشیمن پر اپنے ہی بجلیاں گرا رہے رہوں تو غیروں سےکیا گِلا۔Image result for Rohingyaٹھیکے داروں کی بات تو ہو گئی، اب ذرا مجاوروں کی بھی سن لیں، ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا، ہر جگہ احتجاج ہو رہا ہے، درد اور کرب بیان کیا جا رہا ہے، نوحہ خوانی ہو رہی ہے۔ یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ امت مسلمہ جسدِ واحد کی مانند ہے اور دنیا بھر کے مسلمان روہنگیا مسلمانوں سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔Related imageاچھا بھائی! مان لی آپ کی بات، پر یہ تو بتا دو، یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں خود یکجہتی کیوں نہیں ہے، یہ جگہ جگہ چند درجن افراد کے الگ الگ پرچم اور  بینر کے ساتھ مظاہرے کیوں  ہو رہے ہیں۔ سب ایک جگہ ایک ساتھ کیوں نہیں نکلتے، کیوں ہر ایک کو الگ الگ میڈیا کوریج درکار ہے، روہنگیا مسلمانوں کے درد سے زیادہ  اہم میڈیا کوریج کیوں؟ رخائن کے قبرستان کے مجاور نہ بنو، جسد واحد بن جاؤ، اپنے اندر یکجہتی پیدا کر لو، پھر نکلنا کسی مظلوم سے یکجہتی کے اظہار کے لئے۔ پھر اثر بھی ہو گا، نتیجہ بھی نکلے گا۔ صرف ٹی وی سکرینوں پر کچھ دیر الگ الگ ٹکڑیوں میں تماشا لگانا مظلوموں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

فاسٹ بریکنگ اور تخت لاہور

آئین نہیں ، اعمال کو بدلیں

 

 

Comments are closed.

Scroll To Top