تازہ ترین
دیامربھاشاڈیم فنڈ کا نام تبدیل

دیامربھاشاڈیم فنڈ کا نام تبدیل

اسلام آباد: (24 ستمبر 2018)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیم فنڈ کا نام تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ہے، عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ دیامربھاشاڈیم کے فنڈزکانیانام سپریم کورٹ وزیراعظم ڈیم فنڈزہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے ڈیم فنڈ کے نام کی تبدیلی سے متعلق اسٹیٹ بینک کی درخواست کی سماعت کی،نمائندہ اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ فنڈزکاپہلے نام سپریم کورٹ دیامربھاشاڈیم فنڈزتھا، وزارت خارجہ نے نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم نے فنڈزکانام بدلنے کیلئے مجھ سے اجازت لی تھی،وزیراعظم نے کہاتھا فنڈزکو جوائن کرناچاہتے ہیں، وزیراعظم کامقام ہے،ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نام بدلنے کی بینچ سے اجازت نہیں لی گئی تھی،ہم نے کہافنڈزآنے چاہئیں،نام بےشک کوئی بھی ہو،ہماراکوئی اناکامسئلہ نہیں ہے۔جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ اکاؤنٹ کانام تبدیل کرنے سے کچھ مشکلات آئیں گی،اشتہارات میں اب فنڈزکانام تبدیل کرنا پڑے گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرانے اشتہارات ایسے ہی چلنے دیں،نئے اشتہارات میں فنڈزکانام تبدیل کرلیاجائے۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیم فنڈزکے عطیات کوٹیکس سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل سات ستمبر کو وزیراعظم عمران خان نے پانی کی کمی کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم ڈیم فنڈ کو چیف جسٹس ڈیم فنڈ کے ساتھ ملانے اور تمام پاکستانیوں بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں سے اس فنڈ میں رقم جمع کرانے کی اپیل کی تھی۔

وزیراعظم نے قوم کے نام خصوصی پیغام میں کہا تھا  کہ آج پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ گردشی قرضوں کا مسئلہ ہے اور توانائی کا مسئلہ بھی درپیش ہے مگر میری نظر میں پانی کا مسئلہ سب سے بڑا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہر پاکستانی کے حصے میں 5 ہزار 600 کیوبک میٹر پانی آتا تھا جبکہ آج ایک پاکستانی کے حصے میں صرف ایک ہزار کیوبک میٹر پانی رہ گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت 190 کیلئے پانی جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ مصر ایک ہزار دن کیلئے اور پوری دنیا کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی محفوظ مقدار 120 دن سمجھی جاتی ہے مگر ہمارے پاس صرف 30 دن کا پانی ہے اس لیے ڈیم بنانا ناگزیر ہے اور اب اگر ڈیم بنانے شروع نہ کیے تو آنے والی نسلوں کیلئے ایسے مسائل کا پہاڑ چھوڑ کر جارہے ہیں جس پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔

عمران خان نے کہا کہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں سال سات کے بعد یعنی 2025ء میں خشک سالی شروع ہو جائے گی اور اناج اگانے کیلئے پانی نہیں ہوگا جس کا مطلب ہے کہ ہمارے لوگوں کیلئے اناج نہیں ہو گا۔ خدانخواستہ یہاں قحط پڑ سکتا ہے لہٰذا آج سے ہم نے ڈیم بنانا شروع کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو داد دیتا ہوں حالانکہ یہ ان کا کام نہیں کیونکہ یہ مسئلہ ابھی سے شروع نہیں ہوا اور پچھلے کئی سالوں سے نظر آرہا تھا۔ اس لیے ہماری سیاسی قیادت کو اس بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آج چیف جسٹس کے ساتھ مل کر ان سے بات کرنی ہے اور ان کے ڈیم فنڈ کے ساتھ وزیراعظم کا ڈیم فنڈ اکٹھا کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس ڈیم فنڈ میں انہوں نے اب تک 180 کروڑ روپے اکٹھے کیے ہیں اور اب میں بیرون ملک مقیم تمام پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے مستقبل کیلئے اس ڈیم فنڈ میں پیسہ دینا شروع کردیں۔عمران خان نے کہا کہ وہ بیرون ملک پاکستانی جنہوں نے میری شوکت خانم بنانے اور نمل یونیورسٹی بنانے میں مدد کی۔ شوکت خانم اسپتال میں غریبوں کے 70 فیصد مفت علاج کے باعث ہر سال خسارہ ہوتا ہے اور آدھا خسارہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی پورا کرتے ہیں۔ میں ان پاکستانیوں سے مخاطب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک تقریباً 80 سے 90 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور اگر سب یہ سوچ لیں کہ ہر پاکستانی ایک ہزار ڈالرز بھیجے تو ہمارے پاس یہ ڈیم بنانے کیلئے بھی پیسہ ہو گا اور ڈالرز بھی آ جائیں گے تاکہ کسی سے قرض نہ مانگنا پڑے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ریزروز کم ہیں اور ڈالرز کی کمی ہے، بیرون ملک پاکستانی پیسہ بھیجیں گے تو ڈالرز بھی آجائیں گے اور ڈیم بھی بن جائے گا۔ ہم پانچ سال میں یہ ڈیم بنا سکتے ہیں کیونکہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے دیر لگتی ہے اور دیر ہونے کی وجہ سے لاگت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی جو مزدوری کرتے ہیں وہ جتنی مرضی رقم بھیجیں لیکن امریکہ، انگلینڈ اور یورپی ممالک میں مقیم افراد ایک ہزار ڈالرز لازمی بھیجیں اور اگر وہ بھیج سکتے ہیں تو اس سے زیادہ رقم بھی بھیجیں۔عمران خان نے کہا کہ یہ ڈیم پاکستان کے مستقبل کیلئے سب سے ضروری چیز ہے کیونکہ ساری چیزیں ایک طرف اور ڈیم ایک طرف۔ میں سب سے اپیل کر رہا ہوں، ایک دفعہ مصر کے لوگوں نے بھی ایسے ہی ڈیم بنایا تھا کیونکہ انہیں قرضہ نہیں مل رہا تھا۔ ہم پر بھی اتنا قرض ہو چکا ہے کہ واپس کرنا بھی مشکل ہے اور اب مزید قرض ملے گا بھی نہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے یہ ڈیم بنانا ہے اور ہم بنا سکتے ہیں، بس ارادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے بھیجے ہوئے تمام پیسے کی حفاظت میں خود کروں گا اور سارا پیسہ ڈیم میں جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

سابق وزیراعظم نے ڈیم کا قیام ملک کیلئے ناگزیر قرار دے دیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top