تازہ ترین
دہشت گردی اور سیاست

دہشت گردی اور سیاست

پاکستان گذشتہ تیس سال سے دہشتگردی کا شکار ہے، قانون کی حکمرانی کے نفاذ کے ذمے دار اداروں نے دہشتگردوں کا جس جرات اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ صوبہ خیبرپختونخوا (سرحد) اور بلوچستان کے بعد کراچی کو بھی دہشتگردوں نے اپنا خاص نشانہ بنارکھا تھا ۔ ملک دشمن عناصر نے امن وامان تباہ کرنے کے لیے اپنا ہر مذموم حربہ استعمال کیا، کبھی مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنایا، کبھی بازاروں میں خریداری کرنے والے نہتے شہریوں پر دھماکا خیز مواد کے ساتھ حملے کیے گئے، دہشت زدہ علاقوں کے عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں نے بڑی جرات، ہمت اور صبر و تحمل کے ساتھ ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔گذشتہ روز کراچی اور اورکزئی کے بازار کلایا میں بیک وقت دہشتگردوں نے حملہ کرکے ملک کے امن وامان کو تباہ کرنے کی سازش کے ساتھ پاکستان اور چین کی دوستی کے مضبوط رشتے میں بھی دراڑ ڈالنے کی سازش کی تھی جس کو سیکیورٹی اداروں نے ناکام بناکر ایک بار پھر ثابت کردیا کہ پاکستان کے عوام کو فرقہ واریت، زبان اور علاقائیت کے نام پر تقسیم کرنے کی سازش کو ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہونے دینگے۔پاک چین دوستی کے رشتے کو دہشتگرد اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے سبوتاژ نہیں کرسکتے۔ کراچی میں دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے میں پولیس اور رینجرز نے جس تیزرفتاری اور مہارت کے ساتھ کارروائی کی اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں بھی ہنگامی صورتحال کے دوران کراچی پولیس اسی جذبے اور جرات کا مظاہرہ کرے گی۔گجرات کے چوہدری  برادران اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ وہ ہر قسم کے سیاسی موسم میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایوب خان سے لے کر سوائے بھٹو اور بینظیر کے ہر صاحب اقتدار کے شریک سفر رہے ہیں البتہ نواز شریف کی آخری وزارت عظمیٰ کے دوران اقتدار سے محروم ہونے کی وجہ سے نواز شریف اور ان کی پارٹی مسلم لیگ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے میں مصروف رہے ۔ اقتدار کے بھوکے چوہدری برادران کے ہاتھوں لگنے والے زخموں کو سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف آج تک چاٹ رہے ہیں ۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے زوال میں چوہدری برادران نے اپنے سازشی کردار کا بھرپور حصہ ڈالا ۔ 2013 کے عام انتخابات میں گجرات کے چوہدری برادران کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا، 2018 کے انتخابات میں عمران خان کے ساتھ چوہدری برادران کو بھی خلائی مخلوق کی حمایت سے کامیابی حاصل ہوئی ۔ عمران خان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں چوہدری برادران کی پارٹی مسلم لیگ ق کے گنتی کے چند اراکین کی حمایت سے قائم ہے۔عمران خان کو پارلیمنٹ میں ماضی میں اپنے بدترین دشمن متحدہ قومی موومنٹ اور چوہدری برادران کی درون پردہ صلاحیتوں کا احساس ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہروقت اپنے کمزور حریفوں کے بجائے ملک کی اپوزیشن جماعتوں پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کی حکومت گرانے کی سازشیں کررہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے گورنر چوہدری سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے باہمی تعلقات سے متعلق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی، وفاقی وزیر ہاوسنگ طارق بشیر چیمہ اور جہانگیر ترین کے درمیان ہونے والی ٹیپ سے معلوم ہوتا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی اپنی عددی حیثیت کی اہمیت کا عمران خان کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو غصہ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے نکلتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی نگاہیں صوبے کی وزارت اعلیٰ پر لگی ہوئی ہیں، ان کا خیال ہے کہ بینظیر بھٹو کے دور میں منظور وٹو بارہ اراکین اسمبلی کے بل بوتے پر وزیراعلیٰ پنجاب بن سکتا ہے تو چوہدری پرویز الٰہی جس کے پاس طاقت کا توازن ہے کیوں وزیراعلیٰ پنجاب نہیں بن سکتا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مسلم لیگ (ق) کےاراکین اسمبلی کی حمایت کے بغیر بزدار حکومت پنجاب میں ایک دن بھی قائم نہیں رہ سکتی ۔ عمران خان جو دن رات اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں ق لیگ کی اس بلیک میلنگ سے نجات حاصل کرنے کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہیٰ جن کو نیب کی انکوائری کا سامنا ہے ان کو وفاقی وزیر صنعت و پیداوار بنانے کی تجویز پر غور کررہے ہیں ۔خدا کا شکر ہے کہ پیپلزپارٹی کے وزیراعظم پرویز اشرف کی کابینہ کی طرح مونس الٰہیٰ کو ڈپٹی وزیراعظم بنانے کی پیشکش نہیں کی ۔ موقع پرستی کی اگر سیاست سیکھنی ہے تو نومولود سیاست دانوں کو چوہدری برادران کے دامن سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top