تازہ ترین
دہشت گردی اور خونریزی فساد فی الارض اور حرام ہیں ،صدر ممنون حسین

دہشت گردی اور خونریزی فساد فی الارض اور حرام ہیں ،صدر ممنون حسین

اسلام آباد: (16 جنوری 2018) صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا ہے کہ خودکش حملے اور دہشت گردی فساد فی الارض ہے، ان حملوں کے خلاف علما کا فتویٰ اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہے جس پر عملدرآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیغام پاکستان کی رونمائی کی تقریب ہوئی، صدر مملکت ممنون حسین نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے مسئلے پر جمع ہوئے جس نے ہمارے ملک تین دہائیوں سے متاثر کر رکھا ہے، پاکستان کے عوام اس مسئلے پر سنجیدہ ہیں اورعوام اتحاد سے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرے گی۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان ہی نہیں مسلم امہ اس مسئلے سے متاثر ہو رہی ہے۔ اسلام امن، رواداری، انصاف کا دین ہے۔ خودکش حملے، دہشت گردی فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں۔ خوشی ہے متفقہ فتوے کو اداروں کی تائید بھی حاصل ہے۔

ممنون حسین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم غیر معمولی سنجیدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کیا۔،عہد کرلیں ایسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی جس سے ہمارا نقصان ہو۔صدر ممنون کا کہنا تھا کہ پیغام پاکستان ملک میں امن کی جانب اہم قدم ہے، قومیں ان مسائل کا جائزہ لیتی ہیں جن سے انہیں مشکلات ہوتی ہیں، فرائض کی عدم ادائیگی کے باعث ملک میں مسائل بڑھے،انہوں نے مزید کہا کہ دوسروں کی رائے کا احترام نہ ہونے پر فرقہ واریت جنم لیتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے 1829 علمائے کرام نے خودکش حملوں سے متعلق فتوے دئیے تھے، جسے پیغام پاکستان’ کا نام دیا گیا ہے۔

فتوے کے اہم نکات

فتوے میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے۔

فتوے میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے۔فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام مسالک کے علماء شرعی دلائل کی روشنی میں خودکش حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست پاکستان ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔

فتوے کے مطابق جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کیے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔فتوے میں مزید کہا گیا کہ طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا بھی شریعت کے منافی اور فساد فی الارض ہے اور حکومت اور اس کے ادارے ایسی سرگرمیوں کے سدباب کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیے

قصور واقعہ: 50 سے زائد جید مفتیان کرام نے فتویٰ جاری کردیا

غیرت کےنام پرخواتین کا قتل گناہ کبیرہ ہے، سنی اتحاد کونسل کا فتویٰ

 

Comments are closed.

Scroll To Top