تازہ ترین
دکھ سہے بی فاختہ کوے انڈے کھائیں۔۔۔

دکھ سہے بی فاختہ کوے انڈے کھائیں۔۔۔

خدا کا شکر ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عنان حکومت کے دو ماہ بعد انتخابی سیاست کے ماحول سے آہستہ آہستہ باہر نکل کر ملک کے درپیش مسائل کو سنجیدگی اور بردباری کے ساتھ حل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں ۔ پاکستان کو درپیش اقتصادی بحران کی وجہ سے عوام میں پائی جانیوالی تشویش اور بے چینی کو کم کرنے اور چھ ماہ میں صورتحال کی بہتری کی توقع ظاہر کرکے عمران خان نے گذشتہ روز الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مالکان اور سربراہان کے اجلاس سے خطاب میں آئی ایم ایف کا ذکر خیر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ابھی آئی ایم ایف کیساتھ قرض لینے کا قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے، کچھ دوست ممالک سے مالی تعاون کرنے کے سلسلے میں گفتگو ہورہی ہے اگر یہ کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر آئی ایم  ایف سے قرض نہیں لیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت نے ابھی تک آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے تو پھر وفاقی وزرا نے اس مسئلے پر آپس میں بیانات کی بوچھاڑ کیوں شروع کی ،اس کے نتیجے میں مالی اداروں خاص طور پر اسٹاک ایکسچینج میں پیدا ہونیوالی والی افراتفری کے نتیجے میں اربوں روپے ڈوب گئے، منافع خوروں نے ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا ۔ وزرا اور اپوزیشن کے درمیان اقتصادی بحران پر شور و غوغا وزیراعظم کے دو ٹوک اعلان کے باوجود جاری ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں اور تاجر رہنماوں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے اعلانات اور بیانات کی ساکھ اپنی یوٹرن پالیسی کی وجہ سے کھوچکی ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاہور میٹرو بس کی سبسڈی ختم کرکے کرائے کی موجودہ شرح میں چار گنا اضافہ کرکے غریب عوام کے پیٹ پر لات مارنے کا فیصلہ کسی بھی صورت سے مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا۔عوام سے وصول کیے جانے والے بھاری ٹیکسوں کی مد میں سے اگر چند ہزار روپے غریب عوام کے مسائل کم کرنے پر خرچ کیے ہوتے ہیں تو اس پر شورو غوغا کیوں؟ اگر بچت کرنی ہے تو سرکاری ملازمین کو دی گئی ٹرانسپورٹ نجی استعمال پر پابندی لگائی جائے جو دن رات سرکاری افسروں کے اہل و عیال کے سیرو سپاٹے اور شاپنگ مال آنےجانے پر خرچ ہونے والے پیٹرول سے ہوتی ہے ۔ سال 2007 سے 2012 تک پاکستان کی سیاست پر کالے کوٹ والے چھائے رہے ان کی تحریک کے نتیجے میں عدالتی نظام کیساتھ ساتھ سیاسی و اقتصادی بحران پیدا ہوا ملک کی سرزمین کو ماں سے تشبیہ دے کر اس وقت کے حکمرانوں کو للکارتے رہے عوام نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا ۔ آج جبکہ ملک کے غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہیں تو ان کے لب خاموش ہیں ۔ دیہی علاقوں کے عوام جو پہلے ہی بڑے بڑے زمینداروں، جاگیرداروں اور لینڈ مافیا کی چیرہ دستیوں کا شکار رہے ان کی داد رسی کیلئے  اگر عدالت عالیہ محترک ہوتی ہے تو یہی ان کی عظمت کے گیت لکھنے اور گانے والے کالے کوٹ رہنما استحصالی افراد کو غریب عوام کا نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے غریبوں کی اراضی پر قبضہ کرکے اربوں روپے ہڑپ کرنے والوں کو انسان دوست قرار دینے میں اپنی تمام قانونی اعلیٰ صلاحیتیں اور چرب زبانی استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ جن افراد کی اراضی پر ملک کے سب سے بڑے لینڈ مافیا نے قبضہ کرکے عالیشان بنگلے اور پلازہ تعمیر کیے ہیں وہ کس حال میں ہیں ۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماوں کا تعلق ہے تو وہ ملک کے غریب عوام کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹنے میں دلچسپی لیتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت موجود نہیں جو کرپشن میں ملوث نہ ہو۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور قوم پرست لسانی جماعتیں تو اس سلسلے میں کافی بدنام ہیں لیکن تحریک انصاف کے رہنما بھی اس سے مبرا نہیں ہیں ۔ اقتدار میں آنے سے قبل اس کے بعض رہنماوں کا نام بڑے لینڈ مافیا گروپ میں لیا جاتا تھا ،کراچی میں حال ہی میں سرجانی ٹاون کی اسکیم تیسر ٹاؤن میں تحریک انصاف کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے درمیان تصادم تازہ مثال ہے ابھی تو اقتدار کی ابتدا ہے”آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف منعقدہ اجلاس کی کارروائی میں شریک افراد نے ایک دوسرے پر نام لیئے بغیر الزامات کی جو بوچھاڑ کی ہے اس کو دیکھ اور سن کر ذی شعور عوام کا سرتو شرم سے جھک گیا لیکن جدی پشتی لوٹوں اور موقع پرست سیاستدانوں کے چہروں پر پھیلی ہوئی سیاہی بھی صاف نظر آرہی تھی کیونکہ یہ لوگ وفاداریاں تبدیل کرنے کے عادی ہیں اور ان کی آنکھوں کی شرم کا پانی خشک ہوچکا ہے ۔ جب تک ہمارا معاشرہ اخلاقی کرپشن کا شکار رہے گا ہمارے مقدر میں ایسے ہی ترجمان موجود رہیں گے۔وزیراعظم عمران خان بذات خود ایماندار اور ملک سے مخلص ہیں لیکن وہ تنہا کرپٹ مافیا سے جنگ نہیں جیت سکتے کیونکہ آج جو لوگ ان کے اردگرد موجود ہیں ان کی اکثریت ماضی کے بدعنوان اور عوام کی دولت لوٹنے والوں کیساتھ اور مدد گاررہ چکی ہے ، ان کے اخلاص اور وفاداری پر ان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے مشکل سے یقین کیا جاسکتا ہے ۔ موقع پرستوں نے ہمیشہ اپنی ریشہ دوانیوں کے ذریعے مخلص ، وفادار اور جماعت کے لئے بیش بہا قربانیاں دینے والوں کو گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top