تازہ ترین
دل کے بہلانے کو یہ خیال

دل کے بہلانے کو یہ خیال

مبارک ہو ناجائز تعمیرات و تجاوزات کیخلاف تحریک انصاف کی حکومت، عدلیہ اور صوبائی حکومت کی عملی اور غیر مشروت حمایت کی بدولت اپنے سو دن کی حکمرانی کے دوران حکومتی رٹ قائم کرنے میں کامیاب ہورہی ہے اور یہ تادم تحریک قائم ہے۔ کراچی میں ناجائز تعمیرات شدہ مکانات اور بازاروں کی پختہ عمارات کو زمین بوس کرکے کراچی کے حسن کو بحال کرنے کیساتھ بے روزگاری کے سونامی میں تبدیل کردیا البتہ اسلام آباد کے نواح میں آباد جدید ترین بستی جس میں آمر حضرات ہمارے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین عالیشان بنگلوں اور فارم ہاوسز میں رہائش پذیر ہیں ان کی غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے بجائے ریگولرائز کرنے کی پالیسی اختیار کرکے ایک بار پھر ثابت کیا گیا کہ پاکستان میں غریبوں اور امیروں کے تعزیرات قوانین علیحدہ علیحدہ ہیں۔ پاکستان میں اگرکوئی غریب آدمی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کیلئے جیل کی صعوبتیں ہیں، امیر آدمی جیل میں ڈالا جائے تو اس کو فائیو اسٹار ہوٹل کی سہولتیں میسر کی جاتی ہے، ان کے لیے جیل میں دختر انگور کا شربت پہنچانے کیساتھ رات کو سیر سپاٹے اور ذاتی گھروں میں وقت گزارنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔ عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے فوری بعد سنہرے خواب دیکھانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے عوام کو یقین دلایا تھا کہ ان کی حکومت کے سو دن کی کارکردگی سے عوام کو اندازہ ہوجائے گا کہ ان کی حکومت پانچ سال کے دوران ترقی کی منازل کس تیزی اور خوش اسلوبی کیساتھ انجام دے سکتی ہے لیکن سو دن کی حکمرانی کے دوران بے بس اور مجبور عوام کے چہروں پر مسائل اور مصائب کی لکیریں مزید بڑھ گئیں ہیں خاص طور پر ناجائز تعمیرات کے انہدام سے بے گھر ہونے والوں کی بحالی کا کوئی منصوبہ یا بندوبست نہیں کیا گیا۔ موسم کے سرد تھپیڑوں میں متاثرہ خاندانوں کو کھلے آسمان کے نیچے راتیں بسر کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، متاثرہ علاقوں کے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ بھی منقطع ہوگیا ہے رہ گیا پانی کا مسئلہ تو کراچی کی نصف سے زائد آبادی سمندر کا کھارا پانی پینے کی وجہ سے پیٹ اور جلد سمیت دیگر امراض کا شکار ہے۔ پانی کے منصوبوں کیساتھ سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ وفاقی حکومتیں بھی بس سیاست کررہی ہیں، ٹینکرز مافیا کی سب باتیں کرتے ہیں لیکن مافیا کیخلاف کارروائی کے سوال پر حکمرانوں کے ہاتھ پیر کانپنے لگتے ہیں۔ جہاں تک تحریک انصاف کی سو دن کی اعلیٰ کارکردگی کا تعلق ہے تو اس میں جو 48 وعدے کیے تھے ان میں سے صرف اور صرف 11 پورے ہوئے ہیں 12 پر تو سرے سے کسی بھی قسم کا عمل نہیں ہوا جبکہ 21 تاحال زیر تکمیل ہیں اور بقیہ 4 پر جزوی طور پر عملدرآمد ہوا ہے۔جہاں تک حکومتی اداروں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو داخلی محاذ پر انسپکٹر جنرل پولیس کے عہدوں پر فائز افراد کی تقرری و تبادلے بتارہے ہیں کہ سابق حکمرانوں اور عمران خان کی طرز حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے، امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں دوبارہ مخدوش ہوتی نظر آرہی ہے۔ گذشتہ ہفتے بیک وقت کراچی کے چینی قونصلیٹ اور اورکزئی کے بازار میں دہشتگردوں کے حملے ، اسلام آباد جیسے حساس شہر سے اعلیٰ پولیس افسر کا اغوا اور افغانستان میں اس کا قتل موجودہ حکومت کے دعووں کا پول کھول رہی ہیں البتہ سو دن کے اندر ملک کو مالی خسارے سے نجات دلانے کے لیے وزیراعظم ہاوس کی بھینسوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے ملک کے خزانے کے خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کو سنہری الفاظ کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ تحریک انصاف نے سو دنوں کے دوران بلاشبہ کرپشن کیخلاف بھرپور مہم چلائی، اندرون اور بیرون ملک وزیراعظم سے لیکر ان کے وزیراطلاعات نے کوئی پلیٹ فارم نہیں چھوڑا جہاں پاکستان کو لوٹنے والے چوروں اور لٹیروں کا گلہ پھاڑ پھاڑ کر ذکر نہ کیا ہو، شاید اس سے متاثر ہوکر بیرون ملک کے حکمرانوں سے کچھ رقم مل جائے اس میں بھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی اور ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگا۔ کرپشن کے معاملے میں حکومت کا امتیازی سلوک نمایاں رہا، کرپشن میں ملوث حکومت کے حمایتی سیاست دان حکومت اور نیب دونوں کو نظر ہی نہیں آئے البتہ ایک ادارہ ایسا ہے جس نے بلاتفریق کرپشن لوگوں کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی اس کی تازہ مثال وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کے اثاثوں کی چھان بین ہے۔ پانی جیسے اہم مسئلے کا اگر عدالت عالیہ کا چیف جسٹس نوٹس نہ لیتے تو بھاشا اور دیامیر ڈیم بھی آج حسب معمول واپڈا کی فائلوں کے نیچے دبے ہوئے ہوتے بہرحال ہمارے موجودہ حکمران اس بات پر خوش اور مگن ہے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے اور قوم کو بھی ماضی کی طرح مستقبل میں اچھی کارکردگی کی توقع رکھنی چاہیے کیونکہ خواب دیکھنا اب ہماری عادت بن چکی ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top