تازہ ترین
دل میں چبھے کانٹے اور شمیم اختر۔۔۔

دل میں چبھے کانٹے اور شمیم اختر۔۔۔

قیام پاکستان سے قبل اردو صحافت میں مسلم خواتین نے سماجی و ثقافتی پابندیوں اور دشواریوں کے باوجود بڑا اہم کردار سرانجام دیا۔ راشد الخیری اور اس دور کے دوسرے مشاہیر نے اپنے جرائد اور اخبارات میں خواتین میں بیداری اور شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا خاص طور پر ماہانہ عصمت اور حور نے ادب کی دنیا میں خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ۔ اس زمانے میں خواتین صحافت کا اثر و نفوذ صرف پڑھے لکھے مسلم خاندانوں یا صرف اردو لکھ اور پڑھ لینے والی خواتین تک محدود تھا ۔ عورتوں کے رسائل میں سماجی و معاشرتی کہانیاں شائع ہوتی تھیں ۔ برصغیر کے مسلمانوں میں جیسے جیسے سیاسی شعور بیدار ہوتا گیا خواتین بھی اس میں دلچسپی لینے لگیں، حقیقت یہ ہے کہ مسلم خواتین میں خواتین رسائل نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔  اس دور کی خواتین ادیب اور سیاستدان کسی بھی صورت میں صنف مخالف سے کم نہیں رہیں جن کی ادبی و سیاسی خدمات کا اعتراف آج بھی دل کی گہرائیوں سے کیا جاتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی اردو صحافت میں پہلی مرتبہ خواتین کو پروفیشنل خاتون جرنلسٹ سے متعارف کرانے کا اعزاز روزنامہ مشرق کے بانی جناب عنایت اللہ مرحوم کو حاصل ہے ۔ اردو صحافت کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کرنے کے علاوہ روزنامہ مشرق کو قومی زندگی کے تمام شعبوں میں ہونے والی تعمیری سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کی غرض سے بارہ صفحات پر رنگین فوٹو آفسیٹ اخبار شائع کیا اس میں پہلی مرتبہ خواتین، لیبر، طالبعلموں، صنعت و تجارت اور فلمی صفحات شائع کیئے جاتے تھے جن میں قومی زندگی کے تمام شعبوں کی سرگرمیوں کی خبریں و مضامین شامل ہوتے تھے۔ روزنامہ مشرق اپنے اجرا کے چند دنوں بعد ہی ملک کا مقبول ترین اور کثیرالاشاعت اخبار بن گیا ۔ یوں تو فلمی اور تعلیمی صفحات کا قارئین بڑی دلچسپی سے مطالعہ کرتے تھے لیکن اخبار خواتین نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ۔ اس صفحے کی ادارت جناب فرہاد زیدی اور رپورٹنگ کے فرائض محترمہ مسرت جبیں کے سپرد تھے ۔ خواتین کے صفحے پر بھی الفاظ میں تحریر ہوتا تھا کہ اس کو مرد حضرات بھی پڑھ سکتے ہیں۔ روزنامہ مشرق میں اخبار خواتین کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے جناب عنایت اللہ نے خواتین کا مکمل ہفتہ وار اخبار کراچی سے شائع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جناب فرہاد زیدی اور مسرت جبیں کے سپرد ہفتہ وار اخبار خواتین کا مدیر مقرر کیا، جناب فرہاد زیدی اور مسرت جبیں کے بعد اخبار خواتین کی ادارت محترمہ شمیم اختر کے سپرد ہوئی جن کی صحافتی زندگی کی ابتدا اور انتہا دونوں اخبار خواتین میں ہوئیں ۔ شمیم اختر قابل ، محنتی اور ملنسار طبیعت کی مالک ہیں، اس زمانے میں اخبار خواتین میں نصف درجن سے زائد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لڑکیوں نے تربیت حاصل کرکے اردو صحافت میں نام پیدا کیا ان میں آج کی مقبول ترین دانشور کالم نگار زاہدہ حنا، ریحانہ افتخار،طلعت اشارت ،ش فرخ، نوشابہ زبیری، انیس ہارون اور ولایت علی اصلاحی شامل ہیں۔ شمیم اختر کی اس ہونہار ٹیم نے اخبار خواتین کو پاکستان کا مقبول ترین ہفت روزہ رسالہ بنادیا جس کا گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین بھی بڑی بے چینی سے انتظار کرتی تھیں ۔ شمیم اختر نے صحافت میں اپنی صلاحیت و اہلیت کا لوہا منوانے کے علاوہ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ آج سے ساٹھ سال قبل صوبہ سرحد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین خال خال ہی نظر آتی تھیں ، خوش قسمتی سے شمیم اختر کو ایسے والدین نصیب ہوئے جو پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلانے پر یقین رکھتے تھے جیسا کہ شمیم اختر کا خود کہنا ہے کہ وہ بچپن سے گمنامی کی زندگی بسر کرنا نہیں چاہتی تھی اس کی ہمیشہ خواہش تھی کہ بے پناہ شہرت حاصل کی جائے اور اس کے لئے اس نے کوئی آسان اور غلط راستہ اختیار نہیں کیا ۔ اپنی اس روش کی بنا پر اس نے پاکستان کے حکمرانوں کی ناراضگی کا بھی بڑی جرات کیساتھ مقابلہ کیا ۔ وہ ابھی چہارم جماعت کی طالبہ تھی کہ اس وقت سے اسکی ورکنگ ویمن بننے کی خواہش رہی اپنی سخت محنت اور جانفشانی کی بدولت وہ آج کی کامیاب ورکنگ ویمن میں شمار ہوتی ہیں ۔ شمیم اختر زمانہ طالب علمی سے ترقی پسند خیالات کی حامل تھیں، صحافت کے شعبے میں ان کو بڑے بڑے نامی گرامی ترقی پسند صحافیوں کیساتھ کام کرنے کا موقع ملا لیکن ان کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ بڑے بڑے اجتماعات میں یہ ترقی پسند لچھے دار گفتگو کرتے ہیں لیکن جہاں ان کا ذاتی مفاد ہوتا ہے تو ان میں اور قدامت پرستوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ شمیم اختر کو اپنے ترقی پسند دوستوں کے ہاتھوں کیسے کیسے زخم لگے اس کا تھوڑا تذکرہ ان کی کتاب ’’دل میں چھبے کانٹے‘‘ میں وہ یوں کرتی ہے کہ 1970 میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی دس روزہ ہڑتال میں حصہ لینے کے باوجود ترقی پسند ساتھیوں کے رویے کی بنا پر وہ پی ایف یو جے اور کے یو جے کی سیاست سے دستبردار ہوگئیں ۔ 1970 کی صحافیوں کی ہڑتال پی ایف یو جے کے ناعاقبت اندیش رہنماوں کے غلط فیصلوں اور اقدامات کے نتیجے میں قومی اہمیت کے چار کثیر الاشاعت اخبار حالات کے جبر کے ہاتھوں نیشنل پریس ٹرسٹ کی تحویل میں چلے گئے تھے۔روزنامہ مشرق، اخبار خواتین، پاکستان ٹائمز اور مارننگ نیوز جیسے اقتصادی اور سرکولیشن کے لحاظ سے مضبوط اخبارات مالی خسارے کا شکار ہونا شروع ہوگئے  ۔ جہاں تک ٹریڈ یونین کا تعلق ہے تو یہ ادارے انتہا پسند دائیں بازو کی سیاست کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے ۔ نجی ملکیت کے اخبارات اور رسائل میں ٹریڈ یونین کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ پہلے ویج بورڈ میں مزید یونین کے رہنماوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب ان کی چالاکیاں اور غلط سیاسی سوچ کی وجہ سے صحافیوں پر ان کی گرفت کمزور ہوجائے گی چنانچہ اپنی افرادی قوت بڑھانے کے لئے اخبارات میں کام کرنے والے کاتبوں کو بھی پہلی مرتبہ ورکنگ جرنلسٹس قرار دے کر اخبارات کو مالی طور پر بحران سے دوچار کردیا گیا چنانچہ کافی عرصہ تک روزنامہ جنگ اور نوائے وقت کے مالکان نے ویج بورڈ ایوارڈز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ پی ایف یو جے کے غلط اور صحافی دشمن رویے کی بناپر چند سال کے اندر اندر روزنامہ مشرق، پاکستان ٹائمز، مارننگ نیوز اور اخبار خواتین مالی لحاظ سے دیوالیہ ہوکر بند ہوگئے ۔ اخبارات کی یہ رام کہانی اس وجہ سے مختصراً بیان کرنی پڑی کہ شمیم اختر اپنے ترقی پسند دوستوں کی زخم خوردہ ہیں۔شمیم اختر کی کتاب ’’دل میں چبھے کانٹے‘‘ پڑھ کر اور ان کیساتھ گزارے ہوئے وقت سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بھرپور بچپن گزارا ہے ،شرارت اور تعلیم دونوں کا سنگم اگر دیکھنا ہے تو شمیم اختر کی زندگی کے واقعات گواہی دینگے کہ ماہرین طب کے مطابق ’’دل میں چھبے کانٹے‘‘ عموماً جان لیوا ہوتے ہیں لیکن شمیم اختر نے عملی صحافت کے میدان میں جہاں عروج دیکھا وہاں اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں اپنے دل و جگر دونوں کو مجروح کرایا ۔ اس میں ترقی پسند یا رجعیت پسند کی کوئی تخصیص نہیں ہے اس شعبے میں دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں ۔ آج کل پاکستان کی صحافت اور عامل صحافیوں کی تنظیمی سرگرمیوں اور موجودہ انتشار و افتراق کی صورت میں خود ساختہ صحافی رہنماوں اور ان سے وابستہ افراد نے تاریخ کو مسخ کرنے کی منظم کوشش شروع کررکھی ہے ۔ اگر پی ایف یو جے اور کے یو جے کے عہدیداران اور ان کے سرپرستوں کو سوچ و فکر کا ان کے کردار سے موازنہ کیا جائے تو سوائے سازش جوڑ توڑ اور خود اپنے ساتھیوں کی مخبری کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ جھوٹی تاریخ پر مشتمل کتابوں کی آج کل مارکیٹ میں بھرمار ہے اگر آپ ایوب خان سے آج تک کی صحافت کا جائزہ لینا چاہے تو شمیم اختر کی کتاب ’’دل میں چبھے کانٹے‘‘ کا مطالعہ لازمی کریں اور جہاں تک صحافت کے پیشے میں شمیم اختر کو چبھنے والے کانٹوں کا تعلق ہے تو اس نے خود اعتراف کیا کہ وہ بڑی سخت جان ثابت ہوئی ہیں ۔بچپن میں ٹی بی کا شکار ہوئی بعد میں کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دی، اپنے عظیم شوہر عرفان صاحب اور اپنی بہن کی ناگہانی موت بھی اس کے جنون اور جذبے کو شکست نہ دے سکی ۔ ایماندار، محنتی اور فرض کی ادائیگی کو فوقیت دینے والے عامل صحافیوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی تیس چالیس برس نذر کرچکے ہوتے ہیں تو اخبارات و رسائل مالکان ان کو دودھ میں سے مکھی کی طرح دفتر سے نکال باہر کردیتے ہیں ۔ پاکستان کی صحافت اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے، شمیم اختر صرف اخبار خواتین کی ایڈیٹر نہیں تھی بلکہ ایک تحریک تھی ان کی تحریروں اور ادارت میں شائع ہوئے اخبارات خواتین نے نوجوان لڑکیوں، بوڑھی خواتین اور یہاں تک کہ رسالے کی پیشانی پر تحریر شدہ سلوگن ’’اخبار خواتین‘‘ جیسے سمجھ دار مرد بھی بڑھ سکتے ہیں ۔بلاشبہ اخبار خواتین عنایت اللہ صاحب، فرہاد زیدی اور مسرت جبیں کی سوچ و فکر کا عکاس تھا جس کو ان تمام ذہین افراد کی غیر موجودگی میں شمیم اختر اور اس کی ٹیم کے ارکان نے صحافت کی دنیا میں بلند ترین مقام تک پہنچایا ۔ شمیم اختر کی اخبار خواتین سے رخصت کے بعد ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ شعور،علم و ہنر اور خواتین کی بیداری کی شمع زمانے کے تیز جھکڑوں میں اپنا وجود قائم نہ رکھ سکی ۔ کہنے کو تو آج بے شمار جدید ترین ٹیکنالوجی اور معلومات سے بھرپور خواتین کے انگریزی اور اردو کے جرائد شائع ہورہے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی زخم خوردہ اخبار خواتین کی جگہ نہ لے سکا ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top