تازہ ترین
دادو میں ’’مرشد دی بلی’’ کا مزار بنادیا گیا

دادو میں ’’مرشد دی بلی’’ کا مزار بنادیا گیا

کراچی (16 فروری 2018) دادو سے تقریباً 70 کلومیٹر دور اندرون سندھ میں ”مرشد دی بلی“ کا مزار بنا دیا گیا۔ یہ بلی پیر گجی شاہ کی تھی جس کے مزار پر بہت سے لوگ ’حاضری‘ دیتے ہیں۔ پیر گجی شاہ کلہورو سولہویں صدی کے ایک پیر اور ملٹری کمانڈر گزرے ہیں۔

پیر شاہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور پنجاب میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور ان کی یاد میں ہر سال 3 روزہ عرس بھی منایا جاتا ہے۔ گجی شاہ کے ایک مرید کے مطابق گجی شاہ اپنی بلی سے بہت پیار کرتے تھے اور وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتی تھی۔

وہ اپنے آقا کی سخت آواز پر رک گئی اور موقع پر ہی مرگئی۔ گجی شاہ کے مرید ناصرف ان کے اونٹ کا عرس مناتے ہیں بلکہ بلی کا عرس بھی منایا جاتا ہے۔ خدمت گزار نے نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم ہر اس چیز کا احترام کرتے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں جو گجی شاہ کے قریب رہی۔

لیکن تعلیم کی کمی کے باعث بہت سے لوگ بلی کی قبر کے سامنے جھکتے بھی ہیں۔ حالانکہ انہیں ایسا کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ یہ بلی ”جنوں کی بادشاہ“ کے طور پر بھی مشہور تھی اور بہت سے لوگ جنوں بھوتوں سے چھٹکارے کے لئے بھی یہاں آتے ہیں۔

کھوسو نے بتایا کہ ”جن لوگوں پر جن حاوی ہوجاتے ہیں وہ علاج کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ایسے لوگ مزار کے احاطے میں مقامی آلہ موسیقی ’سوراندو‘ کی دھن پر اپنے سروں کو زور زور سے اس وقت تک گھماتے رہتے ہیں جب تو حوش و ہواس نہ کھو بیٹھیں۔

دوسری جانب ایک ریسرچ اسکالر عزیز کنگرانی اس حوالے سے مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ”پیر گجی شاہ درویش نہیں تھے۔ غازی کھوسو الیاس گجی شاہ کو اس وقت کے کلہورو حکمران میاں ناصر محمد کلہورو نے بلوچستان کے ساتھ سندھ کی سرحد کی حفاظت کے لئے تعینات کیا تھا۔

غازی 1691 میں خضدار کے بروہی قبیلے اور کلہورو فوج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مارے گئے جس کے بعد انہیں یہاں دفنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

گزشتہ 10ماہ کی جرائم کے اعدادوشمار:گزشتہ سال کی نسبت جرائم میں اضافہ

دادوخیل: تیہرے قتل میں ملوث ملزمان کو سزا سنادی گئی

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top