تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت آئندہ آٹھ ماہ کا صوبائی بجٹ پیر کو پیش کریگی

خیبرپختونخوا حکومت آئندہ آٹھ ماہ کا صوبائی بجٹ پیر کو پیش کریگی

پشاور:(12 اکتوبر 2018) خیبرپختونخوا کی حکومت مالی سال دوہزاراٹھارہ انیس کے آئندہ آٹھ ماہ کا صوبائی بجٹ پیرکو پیش کرے گی۔

اس سے قبل گذشتہ روز خیبر پختونخواہ اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا جسے بعد میں ملتوی کر دیاگیا تھا۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

یہبات پشاور میں سیکرٹری صوبائی اسمبلی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہی گئی تھی۔

اس سے پہلے خیبرپختونخوا کی نگران حکومت نے موجودہ مالی سال کے پہلے چارماہ کے لئے ایک سواٹھانوے ارب روپے کابجٹ پیش کیاتھا۔

اس سے قبل اٹھارہ ستمبر دو  ہزار اٹھارہ کو وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں فنانس بجٹ پیش کیا۔

قومی اسمبلی میں منی بجٹ تقریر میں میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے1800 سی سی سے اُوپر والی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھادی ہے ،سگریٹ پر مزید ٹیکس عائد کردیاہے جبکہ  منی بجٹ میں موبائل فون پر ڈیوٹی بڑھانے اور ای او بی آئی کی کم سے کم پنشن 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں فنانس بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور خسارہ 27 سو ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مد میں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں،1800 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں پر 20 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی، 8276 گھروں کی تعمیر کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے، پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔فنانس بل کے مطابق، چار لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، چار سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 1 ہزار ٹیکس ہوگا، آٹھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے ٹیکس ہوگا، اسی طرح 12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 5 فیصد ٹیکس ہوگا، 30 سے 40 لاکھ روپے آمدن پر ڈیڑھ لاکھ روپے فکسڈ ٹیکس ہوگا، 30 سے 40 لاکھ روپے آمدن کو فکسڈ کے علاوہ 20 فیصد ٹیکس بھی دینا ہوگا۔

بل کے مطابق، 40 سے 50 لاکھ روپے آمدن والوں کو ساڑھے 3 لاکھ روپے فکسڈ ٹیکس دینا ہوگا، 40 سے 50 لاکھ روپے آمدن والوں کو 25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، 50 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 6 فکسڈ اور 29 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبوں کا مجموعی خسارہ 18 ارب روپے تھا، جو بجٹ پیش کیا گیا اس میں محصول کی ادائیگیوں کےہدف میں 300 ارب کا فرق ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کی آسانی کیلئے کھاد کی ترسیل بڑھارہے ہیں، وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جائے، انصاف کارڈ کے تحت علاج کیلئے 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک اخراجات دیئے جائیں گے، مزدوروں کے لیے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، 8276 گھروں کی تعمیر کے لیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں فنانس بل کی منظوری دی گئی۔ بل میں بجٹ خسارہ 6 اعشاریہ 6 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی

یہ بھی پڑھیے

حکومت نے منی بجٹ پیش کردیا، موبائل فون پر ڈیوٹی بڑھادی گئی

کابینہ نے منی بجٹ کی منظوری دے دی

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top