تازہ ترین
خواجہ سراؤں کو وراثت میں حق دے دیا گیا

خواجہ سراؤں کو وراثت میں حق دے دیا گیا

اسلام آباد: (08 مئی 2018) شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے، حیوانات پر ظلم کرنے والے اور تیزاب و آگ سے لوگوں کو جلانے والے ہوشیار ہو جائیں۔ قومی اسمبلی نے شنکجہ تیار کرلیا ہے۔ خواجہ سراؤں کو بنیادی حقوق دینے کا بل بھی ایوان سے منظور کرلیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں مختلف ایشوز پر قانون سازی کرکے منفرد روایت قائم کی گئی ہے۔ شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے والوں کیلئے نیا قانون منظور کرایا گیا ہے جس کے مطابق شراب پی کرغل غپاڑہ کرنے والے کو اب 24 گھنٹے کی بجائے ایک ہفتہ تک قید اور جرمانہ بڑھا کر ایک لاکھ کردیا گیا ہے۔

سینیٹ میں حکومتی رکن چوہدری تنویر کا پاس کردہ بل قومی اسمبلی میں نوید قمرنے پیش کیا۔ گدھا گاڑی اور گھوڑا گاڑی سمیت مختلف حیوانات پر ظلم کرنے والے افراد کے خلاف نیا قانون منظور کرتے ہوئے جرمانوں میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔ حیوانوں پر ظلم کرنے پر پچاس روپے جرمانہ کی حد ایک لاکھ اور 500 روپے جرمانے کی حد کو تین لاکھ روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔پاکستان میں پہلی بارخواجہ سراؤں کو قانونی وارثت میں حق دیتے ہوئے انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت خواجہ سراؤں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو معاشرے میں مرد و خواتین اور بچوں کو حاصل ہیں۔ خواجہ سراء انتخابات لڑنے کے خواہشمند ہوں تو کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ تیزاب یا آگ سے جلانے کی صورت میں سزاؤں کا بل بھی منظور کیا گیا ہے۔ دانستہ طور پر تیزاب پھینکنے یا جلانے اور زخمی کرنے کی صورت میں 7 سال قید بامشقت کی سزا ہوگی۔نئے  قانون کے مطابق تیزاب اور آگ سے جلائے جانے کے جرم کی نگرانی کا بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ متاثرہ افراد کی بحالی اور مفت علاج و معالجہ و قانونی امداد سرکار کے ذمہ ہوگی۔ تیزاب یا آگ لگانے کے باعث موت واقع ہونی کی صورت میں مجرم کو سزائے موت سنائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی میں لیگی وزراء کیخلاف مذمتی قرارداد منظور

قومی اسمبلی کی آئینی مدت 31 مئی کو مکمل ہوگی

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top