تازہ ترین
حکومت کرنے کیلئے جیلیں کاٹنی پڑتی ہیں، حمزہ شہباز

حکومت کرنے کیلئے جیلیں کاٹنی پڑتی ہیں، حمزہ شہباز

لاہور: (05 اکتوبر 2018) حکومت کرنے کیلئے بہت مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں، جیلیں کاٹنی پڑتی ہیں، اپوزیشن کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے تو جیل کاٹی ہے لیکن عمران خان دو دن جیل نہیں کاٹ سکتے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ ابھی تو دھاندلی کے زخم ماند  نہیں پڑے، ابھی تو بہت کچھ دیکھنا ہے۔ حکومت کرنے کیلئے بہت مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں، جیلیں کاٹنی پڑتی ہیں، اپوزیشن کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب اسمبلی میں کون موجود ہے؟ وہ لوگ جن کا کوئی کرادر نہیں۔ کیا ایسے لوگ ہماری قوم کیلئے اہل ہیں؟

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہمارے دور میں ترقی ہوئی جس کی گواہی چین بھی دیتا ہے۔ ہم نے قوم کو فائدہ پہنچایا اور اب بھی فیصلہ عوام ہی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ آج تک ایسا طرز حکومت نہیں دیکھا جیسا کہ اب دیکھ رہے ہیں۔ عوام نے بھی دیکھ لیا کہ کتنے دعوے پورے ہوئے اورکتنے نہیں۔ آج حقیقت سب کے سامنے ہے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ آج سب کے سامنے حقائق رکھے ہیں تاکہ سب جان سکیں کہ کیا ہورہا ہے۔ پشاور میڑو بس منصوبے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ جب پارلیمانی کمشین بنے کا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج باقی ملزمان کو کوئی کیوں نہیں پوچھتا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو کوئی کیوں نہیں پوچھتا؟حمزہ شہباز نے کہا کہ چند ووٹ زیادہ لے کر حکومتیں بچا نہیں کرتیں۔ ہم اس حکومت کو نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ٹی کا ٹھیکہ کس کو دیا گیا؟ نیب پوچھے؟ سب کے سامنے ساری صورتحال ہے۔ جعلی مینڈیٹ کو بے نقاب کیے بنا سکون سے نہیں رہیں گے۔

اس سے قبل نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو نیب نے آج طلب کیا تھا، اور وہ بیان ریکارڈ کرانے نیب لاہور کے دفتر پہنچے جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی باضابطہ گرفتاری کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ رولز کے تحت قومی اسمبلی کے ممبر کی گرفتاری کی صورت میں اسپیکر کو اطلاع دی جاتی ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

نیب نے شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو کل احتساب عدالت لاہور میں پیش کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی شہباز شریف کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

شہباز شریف کی حراست کی خبر نشر ہونے کے بعد کچھ لوگ نیب کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے پہنچے تاہم انہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے واپس جانے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ نیب آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں۔

نیب پنجاب نے شہباز شریف کو 20 اگست کی صبح 11 بجے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں بیان ریکارڈ کرنے کیلئے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور: نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

مزید بڑی گرفتاریاں ہونے والی ہیں، فواد چوہدری

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top