تازہ ترین
حکومت نے آغاز میں ہی ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل دیا ، مولانا فضل الرحمان

حکومت نے آغاز میں ہی ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل دیا ، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: (10 ستمبر 2018) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے آغاز سے ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ملک اور بین الاقوامی سطح پر قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوگیا ہے۔ ایم ایم اے نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے اے پی سی بلائی جائے گی۔

سربراہ ایم ایم اے مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں ملکی حالات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ موجودہ حکومت نے آغاز سے ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ملک اور بین الاقوامی سطح پر قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوگیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم ایم اے نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے اے پی سی بلائی جائے گی۔ حکومت کی اقتصادی مشاورتی کونسل میں عاطف میاں کی شمولیت ان کی ذہنی فکری ترجیحات کی سمت کا تعین کرتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ سی پیک پر نظرثانی کی جارہی ہے، پاک چین تعلقات ہر پاکستانی کی آواز ہے۔ مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ آج پوری قوم مہنگائی کی وجہ سے کرب میں مبتلا ہے۔

سربراہ ایم ایم اے نے کہا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ آج حکومت کشمیر کے مسئلے کو نظرانداز کررہی ہے۔ حکومت بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہی ہے۔ دینی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا۔ دینی مدارس کو ختم کرنے کا بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ اس ایجنڈے پر کسی صورت عمل نہیں ہونے دیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی بحران پیدا کیا گیا ہے۔ ملک کبھی چندوں سے نہیں چلتے، پالیسیاں بناؤ نمائش مت کرو۔ ہم کسی صورت حکومت کی مدارس اصلاحات کو تسلیم نہیں کریں گے۔ چین کا اعتماد پاکستان میں سیاسی بحران کے باعث کم ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرائی جنگ کا آغاز خود عمران خان کررہے ہیں۔ سفارتی محاذ پر جس طرح بچپنے کا اظہار کیا جارہا ہے اس سے کیا توقع کریں گے؟ اقتصادیات چندوں سے نہیں چلا کرتیں، اس حوالے سے حکومت بیٹھ کر پالیسی تشکیل دے۔

یہ بھی پڑھیے

مدارس میں مداخلت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑدینگے، مولانا فضل الرحمان

الیکشن کمیشن نے مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ مسترد کردیا

 

Comments are closed.

Scroll To Top