تازہ ترین
حکمران اپنی ذمہ داری پوری کریں تاکہ ہمیں مداخلت نہ کرنا پڑے، چیف جسٹس

حکمران اپنی ذمہ داری پوری کریں تاکہ ہمیں مداخلت نہ کرنا پڑے، چیف جسٹس

لاہور: (12 اکتوبر 2018) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے لاپتہ افراد کیلئے بنچ قائم کردیا۔ ان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس آئی اور چاروں آئی جیز سے حلف نامے مانگے ہیں۔ حکمران اپنی ذمہ داری پوری کریں تاکہ ہمیں مداخلت نہ کرنا پڑے۔

لاہور میں سپریم کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ناانصافی سے معاشرہ قائم نہیں رہتا، نااہل عدلیہ اور وکلاء مل کر سائلین کا استحصال کر رہے ہیں۔ منشا بم جیسے لوگ جائیدادیں ہڑپ کر جاتے ہیں، ہرکوئی کھا رہا ہے۔ حکومت کچھ نہ کرے تو عدالت کو ایکشن لینا پڑتا ہے۔

چیف جسٹس نے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جتنی نتخواہ لیتے ہیں اتنا کام بھی کریں۔ ایک جج پر یومیہ پچپن ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ مقدمات کے فیصلوں کو وقت پر ہونا چاہیے کیونکہ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے قوانین اور نظام میں ترامیم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں ہیں، پاکستان کسی نے بھیک یا تحفے میں نہیں دیا، اس کیلئے قربانیاں دی گئیں۔ انصاف میں تاخیر بھی ناانصافی ہے۔ بابا رحمتے کا کردار معاشرے کے بڑے اور منصف کا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قربانیاں دینے والوں کو پاکستان کی قدر کا اندازہ ہے، یہ ایک آزاد ملک ہے اور آزاد ملک جیسی نعمت قسمت والوں کوملتی ہے۔ آج میں ایک استاد سے مخاطب ہوں جس کی معاشرے میں قدر ہےْ میں پہلے اپنے گریبان میں جھانک رہاہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بطور پاکستانی شہری اپنا حق ادا نہیں کیا۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ آج یہ ملک نہ ہوتا تو میں کوئی چھوٹا موٹا وکیل ہوتا کیونکہ اس وقت جو تعلیم کا معیار تھا اس پر قبضہ کیا ہوا تھا اور مسلمان بہت کم تعلیم یافتہ تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں سپریم کورٹ بار کا سب سے پرانا ممبر ہوں۔ جب میں بابا رحمتے کی بات کرتا ہوں تو مذاق میں لیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں پوچھا جاتا کہ بابا رحمتے کا کردار کیا ہے؟ بابا رحمتے کا کردار منصف اور بڑے کا کردار ہے۔ یہ عدلیہ کا مقام ہے اور اس کی عزت و تکریم لازم ہے اور اس کے بغیر معاشرے میں تواز ن قائم نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں جھوٹ سرایت کرگیا ہو تو پھر کیا توقع کیا جاسکتی ہے کہ اس سے ملک کیلئے کیا ڈلیور ہوگا؟ ایک جج کو ایماندار ی سے ان مقدمات کا فیصلہ کرنا ہے جو اس کے سامنے آتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ آج جج کی تنخواہ سب سے زیادہ ہے اور ایک جج کو روزانہ 55 ہزار روپے معاوضہ ملتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا وہ اتنے معاوضے کے مطابق کام کرتا ہے؟انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا کہ کفر کا معاشرے تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ انصاف میں تاخیر کرنا بھی ناانصافی کی ایک قسم ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سوات میں جو ایک انقلاب آیا تھا وہ اس وجہ سے آیا تھا کہ صوفی محمد نے لوگوں سے کہا تھا کہ آﺅ ہم تم کو جلدی انصاف مہیا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز کئی کئی ماہ تک شنوائی نہیں کرتے اور تاریخیں ڈال دی جاتی ہیں۔ ایک خاتون کو 61 سال بعد گھر واپس ملا۔ فیصلوں میں تاخیر عدالتی نظام کیلئے ناسور بن چکی ہے۔ ہم نے قانون کے مطابق انصاف کرنا ہے۔ وہ دور چلا گیا جب مقدمات چلتے کئی کئی پشتیں گزر جاتی تھیں، لوگوں کو جلد انصاف چاہیے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ قانون شہادت کا قانون آج کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ ججوں کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے لیکن قانون کی تجدید بھی کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جج جب اکیڈمی میں آتے ہیں تو میں ان سے سول قانون کے اصول پوچھتا ہوں جو ان کو نہیں آتے۔ بڑے بڑے وکیل آج بھی موجود ہیں، ان کو چاہیے کہ کوئی قانون کی کتاب ہی لکھ دیں۔ ہم کو کھل کر اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک مثبت معاشرہ دے کر جائیں گے۔ اگر نہیں دے کر جائیں گے تو پھر وہی حال ہوگا جس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دنیا کیوں اہم ہے؟ کیا اس کا مطلب یہی ہے کہ ایک کیڑا پیدا ہو گیا اور اس نے پیدا ہو کر چلا جانا ہے۔ انسان کے دو حقوق ہیں، پہلا اس کا حق شخصیت کا حق ہے اور دوسرا حق جائیداد کا حق ہے، یہ بنیادی حقوق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر میرے پا س آکر روتا ہے کہ اس کے بیٹے کو جو ڈاکٹر ہے اٹھا کر غائب کردیا گیا ہے، جس پر میں نے کئی اجلاس بلائے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ایک بیرون ملک پاکستانی کے مکان پر اس کا کرایہ دار قبضہ کرلیتا ہے اور وہ مقدمات کی طوالت سے کسی تیسری پارٹی سے تھوڑے سے پیسے لے کر راضی ہوجاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کہ سرکاری اسپتالوں کے مریضوں کو سہولیات نہیں دی جارہیں۔ کیا یہ ان کا بنیادی حقوق نہیں کہ ریاست ان کو صحت کی سہولیات فراہم کرے؟ منشا بم جیسے لوگ دیگر افراد کی جائیدادیں کھا جاتے ہیں، کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ کیا صاف پانی کا ملنا اور بنیادی تعلیم سب کا بنیادی حق نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ یہاں پر سراسر بے انصافی ہورہی ہے۔ ایک آدمی کا نقشہ فوری پاس کردیا جاتاہے اور دوسرے کے نقشے پر اعتراضات لگا لگا کر اس کی مت ماردی جاتی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاق نثار نے کہا کہ انصاف میں تاخیر عدلیہ کی نااہلی ہوسکتی ہے۔ یہ ناانصافی ہے۔

انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ذمہ داری پوری کرنا شروع کریں، عدلیہ مداخلت نہیں کرے گی۔ ہم تو خلا کو پر کرنے کیلئے آتے ہیں۔ آج شناخت اور ملکیت جیسے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہیں ہے۔ ہم نے جو بھی کیا ہے وہ انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کے تحت کیا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو بھی اللہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کر یں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لاپتہ افراد کیلئے میں نے ایک بنچ مختص کردیا ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی اور چاروں صوبوں کے آئی جیزکو بلاکر کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات دیں اور اگر آپ کو پتہ نہیں تو پھر آپ حلف نامے دیں تاکہ اگر بعد میں یہ غلط ثابت ہو تو آپ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، بہت جلد اچھا وقت آئے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ججز کا احتساب شروع ہوچکا، چیف جسٹس کے ریمارکس

بلاول اور آصف زرداری اپنا پیسہ تھر میں خرچ کریں ، چیف جسٹس کے ریمارکس

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top