تازہ ترین
جمہوریت بذریعہ آرڈیننس

جمہوریت بذریعہ آرڈیننس

پاکستان کے عوام کو توقع تھی کہ عام انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا اور نئی برسراقتدار آنیوالی حکومت یکسوئی کیساتھ عوام کے مسائل کو حل کرے گی البتہ بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں ہنگ  پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ تحریک انصاف وفاق اور صوبوں میں سوائے خیبر پختونخوا کے کہیں بھی اکثریت حاصل نہیں کرپائی، نئی سوچ اور فکر کی دعویدار سیاسی جماعت کے سربراہ ماضی میں عوام کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کی مدد سے ایوان اقتدار میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اس کے باوجود تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل نہ ہوسکی۔ دوسروں کی بیساکھوں کے سہارے برسراقتدار آنیوالی حکومت اپنے اقتدار کے 100 مکمل ہونے کے باوجود کسی قسم کی قانون سازی نہ کرسکی۔ قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن اور تحریک انصاف کے عقابوں کی موجودگی میں اب تک جتنے اجلاس منعقد ہوئے وہ کشیدگی اور شور وغوغا کی نذر ہوگئے یہاں تک کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو وفاقی کابینہ کے اہم رکن پر ایوان میں داخلے پر پابندی لگانا پڑی۔ سینیٹ میں صورتحال قومی اسمبلی سے اور بھی زیادہ مختلف ہے اگر قومی اسمبلی میں تحریک انصاف جوڑ توڑ کے ذریعے کوئی قانون منظور بھی کروالیتی ہے تو سینیٹ سے اس کی منظوری نہ ممکن نظر آتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں تحریک انصاف اپنے منشور اور وعدوں کو عملی شکل دینے میں مشکلات محسوس کررہی ہے اس کے علاوہ انتظامی معاملات میں بھی عمران خان کی حکومت اپنے آپ کو بے دست و پا محسوس کرتی ہے وہ اپنی اس مشکل کو عوامی سطح پر آشکار تو نہیں کرتے لیکن اشاروں کناتوں میں اکثر بات نکل جاتی ہے۔  ہردور میں اسلام آباد میں موجود حکومت کے منظور نظر ٹی وی اینکرز سے اپنی ملاقات کے دوران وزیراعظم نے طویل سیشن میں ملک کو در پیش چبھتے ہوئے سوالات کے جوابات دیئے۔ وزیراعظم نے اس طویل سیشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ملک میں قبل ازوقت الیکشن کا بھی اشارہ کیا ہے جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں بار بار یہ اعلان کرچکی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی وہ اس لئے ایسا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کو برسراقتدار لانے والی قوت اور خود تحریک انصاف کے رہنما عوام میں مکمل طور پر بے نقاب ہوجائیں اور اپنی ناکامی کے زخم تاحیات چاٹتے پھریں۔ تحریک انصاف کے 100 دنوں کی کارکردگی پر شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے تبصرہ کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کو خدشہ ہے کہ موجودہ حکومت زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتی ، اس کے علاوہ ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی بھی موجودہ حکومت کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے۔ اپوزیشن کے بار بار اعلانات کے باوجود وہ حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتی اس کے باوجود عمران خان کی حکومت خود کو دباو میں محسوس کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں جب بھی موقع ملتا ہے تو یہ کہتے رہتے ہیں کہ اپوزیشن چاہے جتنا شروع مچائے وہ ان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دینگے۔ انٹرویو کے دوران صحافیوں نے این آر او سے متعلق دریافت کیا کہ آپ سے اس حوالے سے بات کس نے کی ہے ؟ اپوزیشن کے دونوں بڑے مرکزی رہنماوں کیخلاف مقدمات نیب یا سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور یہ دونوں اعلیٰ ادارے آپ کے دائر کار سے باہر ہیں۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل کہا تھا کہ اگر ان کی جماعت برسراقتدار آئی تو وہ ایک ماہ کے اندر اندر جنوبی پنجاب کا صوبہ بنادینگے لیکن ایسا کرنا اب ان کے لئے ممکن نہیں رہا ہے اس صورتحال سے نکلنے کے لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلم لیگ یا پیپلزپارٹی کا تعاون حاصل کریں ، ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی عمران خان کا ہاتھ ملنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا اس کے علاوہ تحریک انصاف کو یہ بھی خوف ہے کہ سرائیکی صوبے کے قیام کے بعد پنجاب کی حکومت ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی جہاں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہے اور وہ پنجاب کی حکمران بن جائے گی اس سے ان کے لئے سنگین پیچیدگیاں پید اہوسکتی ہے، اس کے علاوہ بیورو کریسی کا ہاتھی بھی ان کے ہاتھ میں نہیں آرہا ہے۔ملک کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آرہا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز بیورو کریٹس حکومت کے لئے چیلنج بن رہے ہیں۔ ان مشکلات سے نکالنے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی میں ناکام رہنے کے بعد وزیراعظم عمران خان ماضی کے حکمرانوں کی قائم کردہ بدنام زمانہ روایت حکومت بذریعہ آرڈیننس کرنے کے طریقے کا عندیہ دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے مفاہمت کے بجائے قانون سازی صدارت آرڈیننس کے ذریعے کرینگے لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ آرڈیننس کا نفاذ بھی صرف چند ماہ کے لئے ہوتا ہے اس کے بعد آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے پاس کرانا لازمی ہے جہاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن موجود ہوگی ، ویسے بھی آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی کرنے والی حکومتوں کا جمہوری کردار مشکوک اور جمہوریت دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top