تازہ ترین
جمال خشوگی کا قتل، امریکہ نے 17 سعودی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کردیں

جمال خشوگی کا قتل، امریکہ نے 17 سعودی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کردیں

واشنگٹن:(16 اکتوبر 2018) امریکا نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ملوث 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خشوگ کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ ان افراد میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سابق مشیر سعود القحطانی اور استنبول میں تعینات سعودی قونصل جنرل محمد العتیبی بھی شامل ہیں۔

امریکا نے سعودی شہریوں پر پابندیاں ماگینتسکی ایکٹ کے تحت عائد کی ہیں، جو عام طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے یہ افراد ایک ایسے صحافی کو نشانہ بنانے اور بہیمانہ طور پر قتل کرنے میں ملوث ہیں، جو امریکا میں مقیم تھا اور یہاں کام کر رہا تھا۔ انہیں اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔

واضح رہے کہ مقتول صحافی جمال خشوگی کی غائبانہ نماز جنازہ آج مسجد النبوی اور مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی۔سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے اعلان کے بعد مقتول کے بیٹے صلاح خاشقجی نے تین ٹوئٹس جاری کی ہیں جس میں انہوں نے جدہ میں واقع رہائش گاہ میں تعزیتیں قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روز سعودی عرب کے نائب پراسیکیوٹر نے تسلیم کیا تھا کہ معروف صحافی جمال خشوگی استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں مارے گئے۔ گرفتار 11 ملزمان میں سے پانچ کو سزائے موت دینے کی سفارش کردی گئی ہے جبکہ ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خشوگی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔امریکی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے ریاض سے جاری بیان میں کہا کہ یہ درست ہے کہ جمال خشوگی ترکی شہر استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں جھگڑے کے دوران مارے گئے اور ان کی لاش کے ٹکڑے کردیے گیے۔ ان کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا کام مقامی شخص کو دیا گیا۔

پراسیکیوٹر نے مقامی شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن ترک حکام کی کوشش ہے کہ مقامی ترک شہری کو تلاش کرلیا جائے اور اس سے معلومات حاصل کی جائے۔

جمال خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے سے منگیتر سے شادی کیلئے دستاویزات دستخط کرانے گئے تھے اور اسی روز قونصل خانے کی عمارت کے اندر ہی لاپتہ ہوگئے تھے۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے جمال کو قتل کرنے کا الزام قبول کیا اور پانچ ملزمان کو سزائے موت کی تجویز دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب کو علم ہے خاشقجی کو کس نے قتل کیا ہے، طیب اردوان

والد کی لاش ہمارے حوالے کی جائے، جمال خاشقجی کے بیٹوں کی درخواست

Comments are closed.

Scroll To Top