تازہ ترین
جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت 17 ستمبر کو ہوگی

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت 17 ستمبر کو ہوگی

اسلام آباد :(15ستمبر 2018)ایف آئی اے نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس گرفتار ملزمان انور مجید اور عبدالغنی مجید کے طبی معائنے کیلئے سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا ہے جبکہ  چیف جسٹس نے سترہ ستمبر کو مذکورہ کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتار انور مجید اور عبدالغنی مجید کے طبی معائنے کیلئے ایف آئی اے نے اعلی اختیاراتی میڈیکل بورڈ کی تشکیل کیلئے سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

خط میں کہا گیا کہ دونوں ملزمان کو پندرہ اگست کو گرفتار کیا گیا تھا، انور مجید سترہ اگست سے کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ عبدالغنی مجید بھی ستائیس اگست سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پہلے ہی ان کا معائنہ پمز یا الشفاءہسپتال سے کروانے کا کہہ چکے ہیں، لہذا ملزمان کے میڈیکل بورڈ میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم شامل کی جائے۔

دوسری جانب خط نے ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت سترہ سمتبر کو سماعت کے لئے مقرر کردی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤئنٹس کیس کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی نےکراچی کے علاقے گلستان جوہر میں اپناسیکریٹریٹ قائم کیا تھا، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق جےآئی ٹی کے سربراہ ہیں، اس سے قبل جےآئی ٹی ارکان نےاسلام آباد کی جگہ کراچی میں سیکریٹریٹ بنانےپراتفاق کیاتھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

گذشتہ روز ہی جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے منتقلی کیس پر بنائی گئی نئی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس بھی کراچی میں ہوا، اجلاس کی صدرات جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے کی تھی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں جعلی اکاؤنٹس کا تمام ریکارڈ نئی جے آئی ٹی کے حوالے کیا گیا اس کے علاوہ اجلاس میں تفتیش کو آگے بڑھانے اور ملزمان کو طلب کرنے کا طریقہ کار طے کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سات ستمبر کو سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی،ایڈیشنل ڈی جی کرائم ونگ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) احسان صادق کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

چھ رکنی جے آئی ٹی میں اسٹیٹ بینک سے ماجد حسین، نیب سے نعمان اسلم، ایس اسی سی پی سے محمد افضل، آئی ایس آئی سے بریگیڈیئر شاہد پرویز اور انکم ٹیکس سے عمران لطیف منہاس شامل کیے گئے تھے۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ حکمنامے میں پابند کیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی ہر پندرہ دن میں سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کرے گی،سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کہیں بھی اپنی آسانی کو سامنے رکھ کر سیکریٹریٹ بناسکتی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس معاملے کی تحقیقات کیلئے تمام پی آر پی قوانین کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے اور جے آئی ٹی، نیب و ایف آئی اے اینٹی کرپشن قوانین کے تحت تفتیش کرے گی۔

عدالت کے احکامات کے تحت ملک بھر کی ایگزیکٹو اتھارٹی اور ایجنسی جے آئی ٹی کی مدد و سپورٹ کریں گے۔ ہر 15 دن میں جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی اور پہلی رپورٹ 15 دن کے اندر جمع کرائی جائے گی۔ جے آئی ٹی کو تحقیقات شفاف بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے ڈی جی رینجرز کو پابند کیا تھا کہ تمام تفتیش کرنے والوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ گواہوں کو ضرورت کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے گا اور جے آئی ٹی تحقیقات سے متعلق کوئی بھی پریس ریلیز و معلومات جاری نہیں کرے گی۔

سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کی تفتیش اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جاری کردہ فیصلے میں لکھا ہے کہ اگر حالات ایسے پیدا ہوگئے تو تفتیش اسلام آباد منتقل کرنے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ جعلی بینک اکاؤنٹ کیس، زرداری گروپ کی دو نئی کمپنیوں کا انکشاف

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top