تازہ ترین
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا دورہ برطانیہ سے معذرت کا اظہار

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا دورہ برطانیہ سے معذرت کا اظہار

اسلام آباد: (03 اگست،2018) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سات روزہ دورہ برطانیہ سے معذرت کرلی ہے، معزز جج کا کہنا ہے کہ اکتیس جولائی کو جاری کئے گئے شوکاز نوٹس کے باعث دورے پر نہیں جا سکتا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس شوکت صدیقی کو برطانیہ میں ورکشاپ میں شرکت کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم معزز جج کا کہنا ہے کہ اکتیس جولائی کو جاری شوکاز نوٹس کے باعث دورے پرجانا ممکن نہیں، مجھے اور میری فیملی کو جان کے خطرات ہیں، خطرات اور دباوٴ کی کیفیت میں فیملی کو چھوڑ کر برطانیہ نہیں جا سکتا۔

اس سے قبل ترجمان اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیئے گئے مراسلہ میں کہاگیاتھاکہ جسٹس شوکت صدیقی ہل یونیورسٹی یوکے میں سات روزہ ورکشاپ میں شرکت کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو شوکاز نوٹس جاری

اکتیس جولائی کو سپریم جوڈیشل کونسل نے راولپنڈی بار سے خطاب کرنے پراسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا،سپریم جوڈیشل کونسل نے حکم دیا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنا جواب اٹھائیس اگست تک جمع کرائیں۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو شوکاز نوٹس اکیس جولائی کو راولپنڈی بار کے خطاب پر دیا ہے، مذکورہ خطاب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نے حساس ادارے پر الزامات عائد کیے تھے۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ملک میں خوف اور جبر کی فضا کا پچاس فیصد ذمہ دار عدلیہ کو سمجھتا ہوں، موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمے داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے، پاکستان کا موازنہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کیا جا سکتا ہے، بھارت ہم سے اس لئے آگے ہے کیونکہ وہاں ایک دن بھی مارشل لا نہیں لگا اور نہ ہی سیاسی عمل رکاجسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ ہماری مرضی کے فیصلے دیں گے تو آپ کو چیف جسٹس بنا دیں گے، آج میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، ان کی آزادی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے، جب بھی کوئی فیصلہ آتا ہے میرے خلاف مہم شروع کر دی جاتی ہے، میں نے اپنے بڑوں سے کہا کہ میرا ان کیمرہ نہیں بلکہ میڈیا کے سامنے کھلی سماعت میں احتساب کریں، میرا بہتر احتساب میری بار ہی کر سکتی ہے، بار کے لوگ میرے گھر چلیں اگر کرپشن کے الزمات درست ہوں تو استعفی دینے کیلئے تیار ہوں

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید کہا کہ وکلا جرائم میں کمی کی وجہ بنیں، جرائم میں اضافے کے سہولت کار نہ بنیں، ابھی تک قانون کے طلبا کو نہیں معلوم کہ جسٹس منیر نے کیا کردار ادا کیا تھا، جسٹس منیر کا کردار ہر کچھ عرصے بعد سامنے آتا ہے

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

چیف جسٹس کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے الزامات کی تحقیقات کو حکم

بائیس جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے  کہا تھا کہ وہ سختی کے ساتھ واضح کر رہے ہیں کہ عدلیہ  پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

 چیف جسٹس ثاقب نثار کاکہناتھا کہ کسی میں جرات  نہیں کہ عدلیہ پہ دباؤ ڈال سکے عدلیہ پوری طرح آزاد اور خود مختار ہیں ہم قانون کی بالادستی اور آئین کے تحت کام کر رہے ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

جسٹس ثاقب نثارنے کہا بطور عدلیہ سربراہ میں یقین دلاتا ہوں ،ہم پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں۔انکا مزید کہناتھا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا، بہت افسوس ہوا اس طرح کے بیانات ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہیں اس معاملے پر قانونی کارروائی کریں گے اور حقائق قوم کے سامنے لائیں گے ،عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے پھر بھی حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

پاک فوج کاچیف جسٹس سےعدلیہ کی جانب سے اداروں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

اسی روز پاک فوج نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے عدلیہ کی جانب سے قومی اداروں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ترجمان پاک فوج  جانب سے ٹوئیٹ میں ہائیکورٹ کے جج کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر سریم کورٹ سے ضروری کارروائی کی درخواست کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے کاکہناتھا کہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریاستی اداروں پر الزامات لگائے اس صورتحال میں تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ریاستی اداروں کا وقار و احترام یقینی بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بار اور لاہور ہائیکورٹ بار کا جسٹس شوکت صدیقی کے ٹرائل کا مطالبہ

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہوگا، چیف جسٹس

Comments are closed.

Scroll To Top