تازہ ترین
جتنا مرضی شور مچائیں کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا، عمران خان

جتنا مرضی شور مچائیں کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا، عمران خان

لاہور: (07 اکتوبر 2018) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جتنا مرضی شور مچائیں کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا۔ شہبازشریف کی گرفتاری پر شور مچانے والے زیادہ دیر جیل سے باہر نہیں رہیں گے۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار اس علاقے سے آئے ہیں جہاں سے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ وہاں سے کوئی وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکتا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ تبدیلی یہ ہے کہ عثمان بزدار نے علاج کروانے باہر نہیں جانا اور یہ ایک عام انسان کا درد رکھتے ہی۔ یہ ایک ایماندار آدمی ہیں اور اس حوالے سے میں بے خوف ہوں کہ عثمان بزدار کرپشن نہیں کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ عثمان بزدار تبدیلی کا نام ہے۔ پنجاب کا ڈویلپمنٹ فنڈ تینوں صوبوں سے زیادہ ہے۔ عثمان بزدار ایک عام آدمی ہیں اور ان میں عاجزی ہے اور سب سے ملتے ہیں۔ پچھلے وزیر اعلیٰ کسی ایم پی اے سے بھی نہیں ملتے تھے۔ عثمان بزدار کو پتہ ہے کہ آلودہ پانی پینے سے کتنے لوگ مرجاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ وقت دیں پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ عثمان بزدار پنجاب کے سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی پریس کانفرنس کررہا ہوں کیونکہ میں قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تجربہ دار سیاستدانوں نے ملک کو چھوڑا کہاں ہے؟وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پالیسیوں کے اثرات سو دن میں نظر آئیں گے اور پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ اس کے کتنے اثرات ہوئے ہیں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ پنجاب اسپیڈ تھی اور بڑی ترقی ہوئی لیکن اگر آپ کو قرضے لینے پڑتے ہیں اور آمدنی کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حالات برے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک پر اتنا قرضہ چڑھا دیا گیا ہے کہ حالات بہت برے ہیں۔ بجلی کا گردشی قرضہ بارہ سو ارب روپیہ ہے، گیس سیکٹر جس میں کبھی خسارہ ہی نہیں تو اس پر بھی آج اربوں روپیہ قرضہ چڑھا ہوا۔ اسٹیل ملز پر 187 ارب، گیس پر 157 ارب اور پی آئی اے پر 360 ارب روپے قرضہ چڑھا ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اتنی چیزیں ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ ملک بہت تیز ی سے اوپر اٹھے گا، ہر چیز یہاں پر دستیاب ہے اور سرمایہ کار ملک میں آنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں آج ہمیں چھوڑا ہوا ہے تو اس مشکل وقت سے گزرنا پڑے گا۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کریں گے تو ملک پر قرضہ اور چڑھ جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے آج شہبازشریف کو نیلسن منڈیلا بنتے دیکھا اور دیکھا کہ کیسے ان کی گاڑی کے گرد نعرے مار رہے ہیں تو اس لیے میں یہ پریس کانفرنس کر رہاہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب قوم پر قرضے چڑھتے جارہے تھے تو کسی نے سوچا تھا کہ یہ قرضے واپس کیسے کرنے ہیں؟ میٹر و اور اورنج ٹرین کیلئے قرضے لیے جارہے تھے اور پھر وہ مزید خسارے میں جارہی ہیں۔ کیا ان کو سمجھ نہیں تھی کہ یہ قرضے کیسے واپس کرنا ہے؟ پاکستان میں صرف 70 ہزار لوگ ہیں جو ٹیکس دیتے ہیں، اس بات کا کیا ان کو پتہ نہیں تھا؟ اب اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ چیزیں مہنگی ہوگئی ہیں، تو چیزیں تو مہنگی ہونی ہیں جب قرض پر قرض لیتے جائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ صرف ایک طریقہ ہے کہ ہم قرض واپس کریں اور چیزیں بھی مہنگی نہ ہوں اور وہ یہ ہے کہ لوٹا ہوا پیسہ وطن واپس لایا جائے۔ کیا سابق حکومت کا فرض نہیں تھا کہ نو ارب روپیہ جو ملک سے باہر گیا ہے اس کا پتہ لگایا جائے کہ یہ پیسہ کیسے باہر گیا ہے؟ اس کی کسی نے کوشش نہیں کی لیکن ہم کررہے ہیں۔ ہم نے دبئی سمیت بیرون ملک دس ہزار جائیدادیں پکڑی ہیں اور 300 لوگوں کو نوٹسز دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑی عجیب چیزیں ہورہی ہیں۔ کسی فالودے والے کے پاس کروڑوں روپیہ نکل آیا ہے، یہ پہلے بھی ہوسکتا تھا لیکن یہ اب ہم کر رہے ہیں۔ اس سے بھی کافی پیسہ اکٹھا ہوگا۔ ہم نے بیرون ملکی ریکوری کیلئے ایک خصوصی یونٹ بنا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف کی گرفتاری پر کہا جارہا ہے کہ سیاسی انتقام لیا جارہا ہے لیکن یہ مقدمات تو دس دس ماہ قبل بنائے گئے تھے۔ یہ مقدمات بہت پہلے ختم ہوجانے چاہیے تھے۔ اگر نیب میرے نیچے ہوتی تو ابھی 50 لوگ جیلوں میں ہونے تھے۔ یہ شکر کریں کے میرے نیچے نیب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور آئی بی میرے نیچے ہے اور میں ان کو دیکھ رہا ہوں۔ میں شہبازشریف کے نیچے دیکھ رہا تھا کہ کیسے معصوم معصوم شکلیں بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان کو پتہ ہے کہ ہمارے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ میں نے ایک ایک کو پکڑنا ہے اور کسی کو نہیں چھوڑنا، جتنا مرضی شور مچاﺅ۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے بچوں کو خوراک پوری نہیں ملتی اور اسپتالوں میں عورتیں مرتی ہیں۔ میں قوم سے کہتا ہوں کہ بے فکر ہوجائیں، ہم نے کسی کو نہیں چھوڑنا۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے پانامہ اٹھایا تو میرے اوپر 33 ایف آئی آر درج کروائیں۔ سپریم کورٹ میں میرے اوپر کیس چلا اور میں نے سپریم کورٹ میں جواب دیا لیکن میں نے لوگوں کو اکٹھا نہیں کیا حالانکہ میں لوگوں کو اکٹھا کر سکتا تھا کیونکہ پاکستان میں اسٹریٹ پاور صرف تحریک انصاف کے پاس ہے۔عمران خان نے کہا کہ زرداری اور شریفوں کی کرپشن یونین بنی ہوئی ہے۔ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی نورا کشتی ہے۔ اندر سے یہ آپس میں بھائی بھائی ہیں، اب یہ آپس میں ملکر الیکشن لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کو پکڑ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب سے کہتا ہوںکہ اگر ان کو کسی قسم کی معاونت کی ضرورت ہے تو حکومت ان کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔ ہم ایک قانون نکال رہے ہیں جس کے تحت جو بھی کرپشن کی نشاندہی کرے گا ، اس کا 20 فیصد کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب تک چار ہزار 647 ایکڑ زمین ہم نے پکڑی ہے جس کی قیمت تین سو ارب روپیہ ہے۔ پنجاب میں اب تک دو ہزار ایکڑ زمین پکڑی جا چکی ہے جس میں ایک سیاستدان 24 سو کینال زمین پر قبضہ کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ ابھی کچھ پکڑے گئے ہیں، آنے والے دنوں میں قوم مزید خوشخبریاں سنے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم جو بلدیاتی نظام لے کر آرہے ہیں وہ گاﺅں کی سطح پر طاقت منتقل کرے گا۔ ہم ابھی دیکھ رہے ہیں کہ کرنا کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے۔ جب ہم موجودہ حالات سے نکل جائیں گے تو ہم کو کسی سے قرض نہیں مانگنا پڑے گا اور نہ کسی سے مدد مانگنا پڑے گی کیونکہ اس ملک میں سب کچھ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب تک پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے۔ مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے جب میں مختلف قسم کے تبصرے سنتاہوں۔  وہ ایک شریف آدمی ہیں اور لوگ ان کی شرافت کا غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔ ہمیں بادشاہوں کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف کا ماہانہ خرچ 55 لاکھ تھا جو اب آٹھ لاکھ پر آگیا ہے۔ ایک طرف آپ تبدیلی چاہ رہے ہیں اور ایک طرف بادشاچاہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا خسارہ ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے قیمتیں تو بڑھیں گی، اس سے بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ پیسہ ریکور کیا جائے۔ پاکستان پورے برصغیر سے پیچھے رہ گیا ہے۔ غریب ممالک کی وجہ کرپشن ہے، وہاں وسائل کی کمی نہیں ہوتی۔ کرپشن سے یہ ہوتا ہے کہ جو پیسہ عوام پر خرچ کرنا ہوتا ہے وہ ملک سے باہر نکل جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنے کیلئے ادارے تباہ کرتے ہیں، اس سے ڈبل نقصان ہوتا ہے۔ ہم اداروں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان میں 90 فیصد ٹیکس چیزیں مہنگی کرکے عوام سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اب ہم پیسے والے لوگوں سے ٹیکس لینے کا نظام لے کر آرہے ہیں لیکن اس میں وقت لگا۔ قوم تین ماہ، چھ ماہ یا ایک سال میں تبدیلی دیکھے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک سو دن کے بعد عوام کوبتائیں گے کہ ہم نے کیا کہا تھا اور کیا کیا۔ سو دن کے بعد ہم وزراء کی کارکردگی دیکھیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ کونسے وزیر آگے چلیں گے اور کونسے وزیر وں کوتبدیل کرنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں قوم سے بائیس سال سے وعدہ کررہا تھا کہ میں نے بڑے بڑے ڈاکوﺅں کو پکڑنا ہے۔ میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں نے ایک آدمی کو نہیں چھوڑنا چاہے جنہوں نے قوم پر کھربوں کا قرض چڑھایا ہے۔ نوازشریف نے 65 کروڑ کے دورے کیے ہیں۔ مجھے بھی باہر بلاتے ہیں میں تو نہیں جاتا۔ میں اس وقت جاﺅں گا جب مجھے پتہ ہوگا کہ میرے باہر جانے سے قوم کو فائدہ ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اب شہباز شریف کی گرفتاری پر جو شور مچارہے تھے میں دیکھ رہا تھا کہ کتنی دیر جیل سے باہر رہیں گے؟ وہ زیادہ دیر باہر نہیں رہیں گے، انشاءاللہ

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کی سرکاری اراضی پر کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کی ہدایت

ہم کوئی ایساوعدہ نہیں کریں گے جس پر بعد میں معذرت کرناپڑے، وزیراعظم عمران خان

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top