تازہ ترین
ثقافتی ورثے کا عالمی دن

ثقافتی ورثے کا عالمی دن

ویب ڈیسک:(18 اپریل 2018) ثقافتی ورثا کسی بھی قوم کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ثقافتی ورثے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کی مختلف قدیم تہذیبوں کی ثقافت، ورثا اور آثار قدیمہ کو محفوظ کرنا،اس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے سولہ نومبر انیس سو بہتّرکو پہلی مرتبہ قدیم تہذیبوں، ثقافت اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کی منظوری دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا میں قدیم اور جدید تہذیبوں کے آثار قدیمہ اور ثقافت کو محفوظ بنایا جائے۔

اقوام متحدہ نے پاکستان میں جن مقامات کو تاریخی ورثا قرار دیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

موئن جو ڈرو موئن جو دڑو لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور، وادی سندھ کے اہم مرکز ہڑپہ سے چار سو میل دور واقع ہے یہ شہر چھبیس سو سال قبل مسیح میں موجود تھا، موئن جو دڑو کو انیس سو بائیس میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا اور ان کی گاڑی آج بھی موئن جو دڑو کے عجائب خانے کی زینت بنی ہوئی ہے، یہ شہر اقوام متحدہ کے ادارہ ثقافت یونیسکو نے انیس سو اسی میں عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا تھا۔

شاہی قلعہکہا جاتا ہے کہ شاہی قلعہ زمانۂ قدیم میں بھی موجود تھا مگر صحیح معنوں میں اس کی دوبارہ تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم کے عہد میں ہوئی اور اب یہ قلعہ لاہور کی شان بھی سمجھا جاتا ہے، اس قلعے کی توسیع اکبر اعظم کے بعد کئی بادشاہوں نے کرائی جس کی وجہ سے یہ مغلیہ فن تعمیر کا شاندار نمونہ بن گیا ہے، قلعے کے اندر واقع چند مشہور مقامات میں شیش محل، عالمگیری دروازہ، نولکھا محل اور موت مسجد شامل ہیں جو دیکھنے والے کو مسحور کر دیتے ہیں، انیس سو اکیاسی میں یونیسکو نے اس قلعے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

شالا مار باغ لاہورشالامار باغ مغل بادشاہ شاہ جہان نے تعمیر کرایا جسے جنوبی ایشیاء کا خوبصورت ترین باغ بھی قرار دیا جاتا ہے اور یہاں فارسی و اسلامی روایات کا خوبصورت امتزاج دیکھنے میں آتا ہے جبکہ یہ اسی ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، انیس سو اکیاسی میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے شاہی قلعے کے ساتھ شالا مار باغ کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا تھا۔

تخت بائیتخت بہائی پشاور سے تقریباً اسی کلومیٹر کے فاصلے پر بدھ تہذیب کے عروج کے کھنڈرات پر مشتمل ایک یادگار ہے، جو کہ پہلی صدی قبل مسیح کے عہد کے ہیں، اس مقام کو تخت قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے جبکہ اس کے ساتھ ایک دریا بہتا تھا جس کی وجہ سے تخت کے ساتھ بہائی لگا دیا گیا، اس جگہ کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یونیسکو نے انیس سو اسی میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

مکلی قبرستانٹھٹھہ کے قریب واقع ایک چھوٹا سا علاقہ مکلی اپنے تاریخی قبرستان کی بدولت دنیا بھر میں معروف ہے، چھ میل رقبے پر پھیلے ہوئے اس قبرستان کے ساتھ ایک صدیوں پرانی تہذیب منسلک ہے، اس میں چودھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک کے مقبرے اور قبریں موجود ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جہاں مغل، ترخان اور سمہ دور کی قبریں موجود ہیں، قبروں کے تعویز اور ستونوں پر اتنا خوبصورت کام کیا گیا ہے کہ دیکھنے والا کاریگروں کی صناعی کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے انیس سو اکیاسی میں اس مقام کو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ٹیکسلاضلع راولپنڈی میں واقع ٹیکسلا ایک تاریخی شہر ہے، جس کی جڑیں گندھارا دور سے ملتی ہیں اور اس عہد میں یہ اہم بدھ اور ہندو مرکز سمجھا جاتا تھا جس کی کئی یادگاریں اس کی شان بڑھا رہی ہیں، یہاں گوتھک سٹائل کا ایک عجائب گھر ہے، جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے، دس ہزار سکے زیورات، ظروف اور دیگر نوادرات رکھے ہیں، اس شہر کے بیشتر مقامات کوانیس سو اسی میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

قلعہ روہتاسپوٹھو ہار کے پتھریلے سطح مرتفع پر یہ حیرت انگیز قلعہ شیرشاہ سوری نے تعمیر کرایا تھا، اس کی تعمیر میں ترک اور ہندوستانی فنِ تعمیر کا امتزاج نظر آتا ہے اور یہ ایک چھوٹی پہاڑی پر فوجی نقطۂ نظر کے تحت تعمیر کیا گیا تھا تاکہ ہر وقت بغاوت کے لیے تیار رہنے والوں کو کنٹرول میں رکھا جاسکے، اقوام متحدہ کے ادارے یونسکو نے انیس سو ستانوے میں اس مقام کو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں آج دستور کا قومی دن منایا جارہا ہے

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ارتھ آور منایا گیا

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top