تازہ ترین
توسل شاہ ۔۔۔۔نئی لٹل اسٹار

توسل شاہ ۔۔۔۔نئی لٹل اسٹار

وہ حاضر جواب ہے ۔بہت ذہین ہے ۔اُس کے اندر ایک ہمہ جہتی آرٹسٹ موجود ہے ۔وہ بہترین مقررہ ہے لیکن اتنی ننھی منی کہ تقریر کے لیے عام مقرروں والے مائیک کے پاس پہنچتی ہے تو اُس کے لیے کوئی کرسی منگوانی پڑتی ہے تاکہ لوگ وہ مائیک تک اپنی آواز پہنچاسکے اور سامعین اس کاچہرہ دیکھ سکیں ۔بہت اچھی ہوسٹ ہے ۔اُس کے لہجے میں تہذیب ،شائستگی اور فطری ذہانت کی خوب صورت آمیزیش ہے ۔اُس کی اردو کمال کی ہے ۔وہ الفاظ کو پوری صحت،تلفظ اور درست مخارج کے ادا کرتی ہے ۔سنا ہے اُسے گائیکی کا بھی شوق ہے ۔وہ ماڈلنگ سے بھی شغف رکھتی ہے ،جانے وہ اور کیا کیا ہے ۔سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ اُس کی عمر ابھی صرف چار سال ہے ۔جی ہاں ! آپ نے ٹھیک پڑھا، وہ ابھی صرف چار سال کی ہے اور چار سال کی یہ شہزادی جب بڑے بڑوں سے مخاطب ہوتی ہے تو اُن کے ہوش اُڑادیتی ہے ۔اس ننھی شہزادی کا نام توسل شاہ ہے ۔یہ نام بھی توسل شاہ کی طرح بڑا خاص ہے ،بل کہ وہ اتنی ننھی سی عمر میں کئی حیران کُن جوہر رکھنے والی توسل کی طرح تھوڑا پُر پیچ ،گہرا اور پیارا ہے۔اس نام کے معنی وسلے اور ذریعے کے ہیں اور اس حوالے سے دعائے توسل کی فضیلت بھی پیش نظر رکھی گئی ہے ۔لوگ توسل کا نام پکارنے میں غلطی کر بیٹھیں تو وہ بڑے سلیقے سے اپنے نام کی درستی کرتی ہے، ساتھ ساتھ یہ شکوا بھی کرتی ہے اکثر لوگ اُس کا نام درست طور پر نہیں لے پاتے اور توسل کے قریب قریب والے تلفظ والے ناموں سے اُسے پکارنے لگتے ہیں ۔توسل کا تعلق کراچی ہے ۔توسل سے میری ابھی تک بالمشافہ ملاقات تو نہیں ہوئی ۔تاہم میں توسل کے والدِ گرامی یعنی نوجوان آغا شیرازی سے ضرور واقف ہوں اور نہ صرف واقف ہوں بل کہ اُن سے دوستی کا دعوے دار بھی ہوں ۔آغا شیرازی خود بھی ثقافتی حلقوں کے ساتھ میڈیا کی معروف ایک شخصیت ہیں ۔چند برس کے دوران وہ آرٹس کونسل کے ثقافتی پروگراموں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے کمپیئرنگ اور آرگنائزیشن کے جوہر دکھاتے نظر آ ئے ہیں جب کہ وہ سرکاری ٹی وی چینل کے ساتھ بعض دیگر نجی چینلز پر بھی مختلف پروگراموں کی کمپیئرنگ بڑی خوش اسلوبی سے کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔آغا شیرازی کی بنیادی خوبیوں میں جو خوبیاں مجھے ذاتی طور پر پسند ہیں ۔اُن میں درست اردو بولنے کی مشق ،لفظ کو اُس کی مکمل صحت کے ساتھ ادا کرنے کا شوق اور خاص طور پر مختلف عربی اور فارسی الفاظ کے مشکل مخارج کی قابلِ داد ادائی شامل ہے ۔کم وبیش یہی چیزیں آغا شیرازی نے اپنی ننھی شہزادی کی ابتدائی تربیت میں بڑی خوش سلیقگی کے ساتھ یوں سموئی ہیں کہ وہ بڑی خوب صورت سی ننھی پری توسل کی اپنی فطری معصومیت ،نو عمری ،برجستگی ، خوش آوازی اور خوش اندازی میں گھل مل کے ایک نئی حیرت کا سامان بن گئیں ہیں ۔توسل کو نوعمری ہی سے میڈیااورعام لوگوں کی توجہ حاصل ہو رہی ہے ۔اُس کی شہرت کا دائرہ بھی تیزی سے پھیل رہا اور مزید پھیلے گا کیوں کہ اُس میں لٹل اسٹار ہمہ جہتی خوبیاں موجود ہیں اور جیسے جیسے وہ اپنے تربیتی عمل میں مزید پختہ ہوتی جائے گی اور شعور کی ابتدائی منزلوں میں اپنے لیے ،اپنی راہ کا خود انتخاب کرنے کے قابل ہو گی ،اُس کی فنی، تخلیقی اور تعمیری قوتوں میں مزید گہرائی اور وسعت بھی پیدا ہوگی ۔چند دنوں قبل آغا شیرازی سے ایک اتفاقی ملاقات ہوئی تو ہماری گفت گو کا محور توسل شاہ ہی تھی ۔آغا شیرازی نے اسی دن توسل کا تفصیلی تعارف مجھ سے کرایا اور اس لٹل اسٹار کی مصروفیات اور متاثر کُن خوبیوں کے بارے میں بھی بتایا ۔یہ بھی قرار پایا کہ کسی دن اس لٹل اسٹار سے ملاقات بھی کرائی جائے گی ۔بات آئی گئی ہوگی ۔اِدھر دو تین دن قبل کراچی کی ایک معروف کہانی کار اور شاعرہ شاہدہ عروج خان نے ایک شام مجھے ایک وڈیو واٹس اَپ کی اور ساتھ تاکید بھی کی کہ اس لٹل اسٹار کو ضرور دیکھوں ۔سچ کہوں تو میں دوستوں کی بھیجی ہوئی نوئے فی صد وڈیوز دیکھے بغیر ڈی لیٹ کر دیتا ہوں ۔اس کا سبب تقریبا ایک جیسی وڈیوز کی بھرمار اور وقت کی تنگی ہے ۔تاہم شاہدعروج خان جیسی سنجیدہ تخلیق کار کی تاکید کو مدِ نظر رکھے ہوتے ،میں نے اس وڈیو کو دیکھا اور یوں میری ملاقات اس لٹل اسٹار یعنی توسل شاہ سے ایک متاثر کُن ملاقات ہوگئی ،نگاہوں میں آغا شیرازی کو تمتماتا ہوا ،پُر جوش اور پُر شوق چہرہ بھی گھوم گیا،جب وہ اپنی شہزادی کا تعارف کرارہے تھے اور پوری وڈیو کلپ دیکھنے کے بعد مجھے توسل شاہ پر بے اختیار پیار آیا اور دل سے اُس کے لیے بہت سی دعا ئیں بھی نکلیں ۔ اس ضمن میں آغا شیرازی سے کیا ہوا اپنا ایک سوال بھی یاد آگیا کہ بھائی چار سال کی بچی کو آپ نے اسٹار تو بنا رہے ہو ،یہ بڑی خوشی کا مقام ہے ،خدا اُسے اور ترقی دے لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اُس بچی سے اُس کی معصومیت ،اُس کا بچپن اور اُس کی فطری آزادی تو نہیں چھین رہے ۔یہ ایک بڑانازک سوال ہے اور آغا شیرازی نے جو جواب دیا،وہ کسی حد اطمئنان بخش ضرور تھا ۔تاہم توسل شاہ کے اس وڈیو کلپ کو دیکھنے کے بعد اس سوال کی نزاکت ایک بار پھر مجھ میں جاگ اٹھی ۔بہ ہر حال آغا شیرازی ایک سمجھ دار شخص ہیں اور وہ یقیناً توسل شاہ کی فطری اٹھان ، نازک شخصیت اور نوعمری کے تقاضوں کو بعض بھاری توقعات کے نیچے دبنے نہیں دیں گے تاکہ توسل نفسیاتی طور پر مضبوط رہے اور فطری اٹھان کے ساتھ بڑی ہو ،باقی تو سب اچھا ہی نہیں اعلا بھی ہے ۔ایک بات جو اس ضمن میں مجھے اور کہنی ہے کہ توسل شاہ کو وڈیوکلپ میں سنائے گئے کم سے کم دو تین پٹے پٹائے لطیفوں میں نہیں پھنسانا چاہیے کہ چار سال کی بچی یہ کہے کہ میں آج کل بڑے مزے میں ہوں ،خوب شاپنگ کر رہی ہوں ، کیوں کہ میری شادی جو ہونے والی ہے ۔میں نے اس سلسلے میں ایک لسٹ بھی بنانا شروع کر دی ہے کہ کس کس کو بلانا ہے اور اس میں ابو امی شامل نہیں ہیں کیوں کہ اُنہوں بھی تو مجھے اپنی شادی میں نہیں بلایاتھا ۔اسی طرح اردو شاعری میں محبوب کے لیے مذکر کا استعمال ہی کیوں ہوتا ہے مونث کا کیوں نہیں ہوتا ۔اس کے لیے مومن خان مومن کا مذکورہ شعر پڑھنا :تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اور پھر شرارت کے ساتھ اس شعر میں تھوڑی سی تحریف کے ساتھ ،یوں پڑھنا :
تم مرے پاس ہوتی ہو گویا
جب کوئی دوسری نہیں ہوتیپھر یہ بھی ظاہر کرنا گویا ،یہ نکتہ خود ہم نے دریافت کیا حالاں کہ یہ نکتہ عام طور پر فراق صاحب کے مشہور لطائف میں بیان ہوتا ہے اور بھی کئی ناموں کے ساتھ سامنے آتاہے اور خاصا پراناہے ۔دوسری جانب ترقی پسندوں کے دور ہی میں محبوب کے مونث کے ڈول ڈالے جانے شروع ہوگئے تھے ،غزل میں کم لیکن نظموں میں فیض صاحب اور ن م راشد سمیت کئی قد آور شعرا نے اس کو رائج کیا : اے میری ہم رقص مجھ کو تھام لے
زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
(ن م راشد )
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
(فیض احمد فیض )
فیض صاحب کی نظم تو اسی طرح ہے ،تاہم اس نظم کو میڈم نور جہاں نے فلمی ضرورت کے مطابق گایا تو ’مری ‘کو میرے کر دیا گیا ۔
یہ تو خیر ایک دو ایسی باتیں تھیں جو مجھے محسوس ہوئیں اور آغا
شیرازی کو توسل کی تربیت میں ایسی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا ۔مومن کا شعر پڑھنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ یہ نکتہ اساتذہ نے بیان کیا ہے اور میں یہاں اسی نکتے کو دہرارہی ہوں ۔جب کہ اس سے پہلے والے لطیفے سے تو لازماً بچنا چاہیے۔مزاح میں گراوٹ تو یوں بھی کوئی شائستہ رویہ نہیں جب کہ یہ بیان ایک چار سالہ مہذب شہزادی کا ہو تو ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے ۔توسل کی کمپیئرنگ ابھی میں نے نہیں دیکھی وہ یقیناًاچھی کمپیئر ہوگی ،تاہم یہ ٹیلنٹ بھی وقت کے ساتھ مزید نکھرے گا ۔وہ شعر بڑے اچھے انداز اور دست مخارج کے ساتھ پڑھتی ہے اور اُس کا سب سے بڑا کمال اس کم سنی میں کمال کا حافظہ بھی ہے ۔وہ اقبال ،جوش اور دیگر اساتذہ کے ساتھ نئے عہد کے شاعروں کے اچھے شعر اپنے حافظے میں رکھتی ہے اور انہیں بر محل استعمال بھی کر تی ہے ۔یہی چیز اُس کی تقریر کے فن میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہوگی ۔سو سل شاہ دور ہی سے سہی تم کو دیکھ کے ،تم سے مل کے بہت اچھا لگا،بہت خوشی بھی ہوئی ،کئی دعائیں تمھارے لیے دل سے
نکلیں یقیناًآنے والا کل تم جیسے لٹل اسٹارز ہی کاہے اور تم جیسے لٹل اسٹارز ہی کل کے سپر اسٹارز بھی ہو۔
کچی عمر میں کل کے دکھوں سے آج الجھنا ٹھیک نہیں
پہلا ساون بھیگنے والو ، شاد رہو ،آباد رہو

شوقین مزاج ڈاکڑ اور وومن پاور

’پوروں پہ آسمان ‘ ناہید عزمی کا عزم

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top