تازہ ترین
ترقی پسند اور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کا 107 یوم پیدائش منایا جا رہا ہے

ترقی پسند اور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کا 107 یوم پیدائش منایا جا رہا ہے

ویب ڈیسک: ( 13 فروری 2018) فیض احمد فیض ایک ترقی پسند انقلابی شاعر تھے 13 فروری 1911 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ فیض احمد فیض کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے ذکر کے بغیر اردو ادب کی تاریخ ادھوری ہے۔دنیائے ادب کے ایک جگمگاتے ستارے،شاعر انقلاب آٹھ کتابوں کے مصنف،درجنوں مشہور نغمات کے خالق،ترقی پسند شاعرفیض کا مختصر تعارف ہے۔

آپ کو ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا شرف مولوی شمش الحق سے بھی ہوا جو علامہ محمد اقبال کے بھی استاد تھے۔آپ نے عربی اور فارسی بھی سیکھی۔بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور اسی کالج سے 1932 ء میں ایم اے انگلش کیا۔اس کے بعد عربی میں ایم اے اورنیٹل کالج لاہور سے کیا۔پی ایچ ڈی کی تیاری نہ کر سکے اسے چھوڑ دیا۔ فیض احمد فیض کو سترہ برس کی عمر میں ایک افغانی لڑکی سے پیار ہوا جسے وہ حاصل نہ کر سکے ان کی کتاب نقش فریادی عشق میں ناکامی کی شاعر ی سے بھری پڑی ہے۔اس عشق کی ناکامی سے دو کام ہوئے اول اردو ادب کو ایک بہت بڑا شاعر ملا اور دوم فیض کی رگ رگ میں مایوسی اتر گئی جس نے پوری زندگی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔

ان کو یوں تو شاعر انقلاب کہا جاتا ہے،لیکن ان کی شاعر ی میں یاسیت زیادہ ہے، فیض کی رومانوی طبعیت کی حسن پرستی کی،حسن کی کشش نے ان کو ایلس کیتھرین جو کہ ایم اے او کالج امرتسر کے پرنسپل کی سالی تھیں سے ملوایا پھر اسی کے ہو گئے، اس کو دل دیا اور ان کا انجام شادی ہوا۔ایلس کیتھرین نے اسلام قبول کیا تو اس کا اسلامی نام کلثوم رکھا گیا۔لیکن ایلس کو یہ نام پسند نہ آیا اس لیے اس نے اپنے لیے ایلس ہی کہلانا پسند کیا اور اسی نام سے شہرت حاصل کی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا نام کلثوم رکھا گیا تھا۔

فیض نے صحافت میں قدم رکھا اور پاکستان ٹائم،امروز،لیل ونہار میں کام کیا۔راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہونے کے شبہ میں آپ کو 9 مارچ 1951 ء کو گرفتار کر لیا گیا۔چار سال آپ نے جیل میں گزارے۔آپ کو 2 اپریل 1955 ء کو رہا کر دیا گیا۔ زندان نے فیض کو مشہور شاعر بنایا۔فیض نے تو آج کی دنیاکے جملہ سیاسی، سماجی، اقتصادی، معاملات کو سامنے رکھ کر شاعری کی ہے۔ ان کی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔نقش فریادی، سر وادی سینا، دست صبا، شام شہر یاراں، مرے دل مرے مسافر،نسخہ ہائے وفا(کلیات)،زنداں نامہ،دست تہ سنگ۔ زنداں نامہ کی بہت سی غزلیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔فیض کی شاعری کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوئے،سب سے زیادہ روس میں آپ کی شاعری کو سراہا گیا۔

غم دنیا کے شاعر نے فرسودہ روایات سے انحراف کیا،بغاوت کی،اور شاعر انقلاب کہلائے۔فیض کی شاعری ان کے بارے میں ہے،جو کامیابی کے لیے پوری زندگی گزار دیتے ہیں،لیکن کامیابی کہیں نظر نہیں آتی،ایسے لوگ ایک پل کے سکون کے لیے پوری عمر بے سکونی میں گزار دیتے ہیں۔

فیض کو چار بار نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔لینن پیس پرائز 1962 ء کو حاصل کیا۔فیض احمد فیض نے نشان امتیاز،نگار ر ایوارڈ،بھی حاصل کیا۔فیض کی مجموعی شاعری یاسیت کا رنگ لیے ہوئے ہے۔کہیں کہیں عشق ومحبت جھلکتا ہے۔ان کی شاعری میں انسانیت سے محبت،دوسروں کا درد،زندگی کی بنیادی ضروریات،غربت،محرومی،ان کو بے چین رکھتی تھی۔

 

فیض احمد فیض کے دل میں 20 نومبر1984 ء کو تکلیف ہوئی جو بڑھتی ہی گئی، شدید تکلیف کی وجہ سے ان کو میو اسپتال داخل کروایا گیا جہاں پر ان کا انتقال ہو گیا۔ ماڈل ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top