تازہ ترین
تبدیلی کا کھلونا

تبدیلی کا کھلونا

پاکستانی قوم کو تبدیلی کے 90 دن مبارک ہوں، اس عرصے میں قوم کے چہرے پر جولائی کے انتخابات سے قبل جو تھوڑی بہت مسکراہٹ کی رمک باقی تھی وہ بھی تقریباً ماند پڑچکی ہے ۔ اس مدت میں قوم کو مہنگائی، بے روزگاری، یوٹرن اور واحد این آر او کے علاوہ کچھ نہ ملا، 90 دن کی تکمیل سے ایک دن قبل قوم کو وزیراعظم عمران خان نے اپنی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وعدہ فرداً کی نوید سنائی ہے جس میں ایک بار پھر سنہرے خوابوں کا اعادہ کیا گیا ہے ۔ ہر ملک میں اس کی پارلیمان کو آزادی اظہار کا سب سے اہم ستون تصور کیا جاتا ہے، پارلیمان کے اندر اس کا رکن بلاکسی خوف و خطر اپنا معافی الضمیر بیان کرسکتا ہے، ایوان کے اندر کہے ہوئے کسی لفظ کی پکڑ کا اختیار کسی بھی عدلیہ کوحاصل نہیں ہوتا ۔ پارلیمان کا حسن بھی یہی ہے کہ اس کے ارکان کو اپنے نظریات و فکر کا کھل کر اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں ملک کا یہ ادارہ بھی سچ ، انصاف اور حقائق کی جگہ جھوٹ، منافقت اور مصلحت کا شکار ہوچکا ہے ۔1970 کے بعد سے اب تک جتنی بھی قومی و صوبائی اسمبلیاں یا پارلیمنٹ وجود میں آئیں ان سب میں مصلحت کا شکار اراکین اور وزرا کی اکثریت رہی ہے ، سینیٹ کے گزشتہ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے درمیان جو افسوسناک واقعہ رونما ہوا اس کی تازہ مثال ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ان کے رویے کی بنا پر سینیٹ کی مزید کارروائی میں شرکت کرنے سے روک دیا بعد میں وفاقی وزیر اطلاعات نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم عمران خان کو سینیٹ واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی وفاقی وزیر کی بے عزتی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ، انہوں نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو ہدایت کی کہ وہ چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کرکے اس معاملے کو حل کریں۔وزیراعظم کے ان ریمارکس پر سینیٹ اراکین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور محمد علی نے سینیٹ کو مطلعہ کیا کہ کابینہ اجلاس میں سینیٹ چیئرمین کے رویے سے متعلق کسی قسم کی کوئی بات زیر بحث نہیں آئی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے نجی ٹی وی کو اطلاع دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وزیر پارلیمانی امور محمد علی جھوٹ بول رہے ہیں ، فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں وفاقی وزرا میں سے کون سچا اور کون جھوٹا  لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ سینیٹ اپنے اگلے اجلاس میں یہ بات زیر بحث لائے گی یا نہیں اور وزرا کے جھوٹ سے سینیٹ اجلاس کا استحقاق مجروح ہوا یا نہیں البتہ ایک بات واضح طور پر نظر آرہی ہے کہ یوٹرن کی اصل حقیقت کیا ہے ۔گزشتہ چند برسوں سے آزادی اظہار کے نام پر ملک عزیز میں جو گل کھلائے جارہے ہیں اس کے نتیجے میں سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے خاص طور پر بعض ٹی وی اینکرز نے دروغ گوئی ، حجان انگیزی اور اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے تجزیہ کاروں کی خدمات حاصل کررکھی ہے۔ایسے ہی کسی معروف اور قیامت سے ڈرانے والے اینکر کو مالی بدعنوانیوں کے الزام میں جیل کی ہوا کھانی پڑی ہے، موصوف اپنے ہر دوسرے تیسرے پروگرام میں یہ نوید سناتے رہتے تھے کہ ابھی تو شریف برادران زد میں آئے ہیں ابھی مزید بڑے لوگوں کی گرفتاریاں جلد ہونے والی ہیں ۔ پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں اینکر پہلے میڈیا پرسن ہے جنہیں اپنے عہدے سے ناجائز مالی فائدہ اٹھانے کے الزام میں سرکاری مہمان بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے البتہ ابھی تک مزید گرفتاریوں کی ان کی پیشگوئی شرمندہ تعبیر ہونے کو باقی ہے ۔ موجودہ صحافت خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا اور سیاست دانوں نے تہمت اور الزام تراشیوں کو اپنی کامیابی کی کونجی بنارکھا ہے، پرنٹ میڈیا بھی اس کارخیر میں برابر کا شریک ہے، اس طرز سیاست اور گفتگو سے الزام تراشیوں میں ملوث ٹی وی چینلز اور اخبارات کی آمدنی میں تو اضافہ یقینا ہوا ہے ، الزام تراشی میں ملوث ٹی وی اینکرز کی ذاتی زندگی کے حقائق جانے جائیں تو ان کی بدعنوانیوں کے بہت سے حقائق سامنے آئیں گے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top