تازہ ترین
بیگم کلثوم نواز انتقال کرگئیں

بیگم کلثوم نواز انتقال کرگئیں

اسلام آباد: (11ستمبر 2018) سابق وزیراعظم کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے باعث لندن کے ہارلے اسٹریٹ میں انتقال کر گئیں ہیں۔

کلثوم نواز انتقال کر گئیں

واضح رہے کہ بیگم کلثوم نواز کو آج طبیعت خرابی کے باعث ہارلے اسٹریٹ کلینک منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں اور خالق حقیقی سے جاملیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ترجمان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔ ان کے بیٹے حسن نواز، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ لندن کی دستیاب فلائٹ سے وہ روانہ ہوجائیںگے،خاندانی ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی تدفین پاکستان میں ہی ہوگی اور جیسے ہی لندن میں مجسٹریٹ سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ ملے گا، میت کو وطن لانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو پے رول پر رہائی دی جائیگی

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو پے رول پر  رہائی دے دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق چیف کمشنر وزارت داخلہ کی مشاورت سے تینوں سزا یافتہ قیدیوں کو پے رول پر رہا کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ تینوں سزا یافتہ قیدیوں کو کلثوم نواز کے جنازے اور تدفین میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے وکیل کی جانب سے باضابطہ درخواست کی روشنی میں رہائی کی اجازت ملے گی۔

وزیراعظم کا اظہار افسوس

وزیراعظم عمران خان نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن کو غمزدہ خاندان کو ہر ممکن معاونت کی ہدایت کی ہے۔

آرمی چیف کا افسوس کا اظہار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے۔

بلاول بھٹو کا اظہار افسوس

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اورشریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہارافسوس کیا ہے، اپنے تعزیتی بیان میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں انہوں نے جمہوریت کے لئے بہت جدوجہد کی جبکہ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اللہ بیگم کلثوم نواز کو جوار رحمت میں جگہ دے۔

دوسری جانب جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز کو کلثوم نوازکےانتقال سےآگاہ کردیاگیا ہے اور انہیں کانفرنس روم میں بٹھا دیا گیا ہے۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پرنوازشریف، بیٹی اورداماد آبدیدہ ہوگئے۔

سابق خاتون اول کی سوانح حیات


بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔

انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔دو اپریل 1971ء کو بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔
نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ء کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔

وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھیج دیا گیا۔نواز شریف سے عہدہ چھینا تو جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے۔ امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔

انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔ وہ 2002ء میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔

جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی رہ سکا۔

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top