تازہ ترین
بیوروکریسی اور سیاستدان

بیوروکریسی اور سیاستدان

آج کل پاکستان کی بیورو کریسی گومگو کی صورتحال سے دوچارہے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اپنے سرکاری فرائض کس طرح انجام دیں اگر حکمرانوں کی مرضی کے خلاف قوائد و ضوابط پر عمل پیرا ہوتے ہیں توصاحبان اقتدار کے غیض وغضب کا شکار ہوتے ہیں ، اگر غیر قانونی اور زبانی احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو سپریم کورٹ کی گرفت کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں ۔ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ وزیر اعظم اور انکے وزرا بیورو کریسی کو اپنی مرضی اور خواہشات کے تابع رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پاکپتن کے ڈی پی او سے شروع ہونے والا خواہشوں کا یہ سفر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ ہمارے موجودہ حکمران بیورو کریسی کی ریاست سے وفاداری کے بجائے حاکم وقت کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ اس صورتحال پر چوراہے پر گلا پھاڑ پھاڑ کر دانش وری بھگارتے ہوئے حیران و پریشان نظر آتے ہیں اور اب وہ بھی کہنے لگے ہیں کہ پاکستان تیزی سے نئے پاکستان کی طرف جارہا ہے جبکہ انکے دوسرے ساتھی دانشوروں کا کہنا ہے کہ عمران خان وہی کچھ کررہے ہیں جو سابقہ حکمران کرتے تھے۔  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کے تبادلے کے زبانی اقدام کو درست تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیراعظم کو کسی بھی سرکاری ملازم کو تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کو اس طرح نہیں چلنے دیں گے ، پاکستان کسی کی ڈکٹیشن یا دھونس پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق چلے گا ، سرکاری افسر ریاست کے ملازم ہیں کسی کے ذاتی ملازم نہیں ،غلط احکامات ماننے سے انکار کردیں۔بلاشبہ ملک کے وزیر اعظم کو آئین و قانون کے مطابق انتظام و انصرام کو چلانے کے کلی اختیارات حاصل ہیں ۔ ملک کا آئین کسی بھی سربراہ حکومت کو من مانی کارروائیاں کرنے کا اختیار نہیں دیتا ۔ ملک کی حالیہ تاریخ میں صرف ایک واقع ایسا ملتا ہے جب ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار کو غفلت اور فرائض سے لاپرواہی برتنے کے الزام میں وزیر اعظم کے حکم پر موقع پر ہی ہتھکڑی لگادی گئی تھی ، اس واقع پر ملک بھر میں سخت احتجاج کیا گیا جس کی وجہ سے وزیر اعظم کو اپنا حکم واپس لینا پڑا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے مختصر عرصہ اقتدار کے دوران راتوں رات ماورائے قانون احکامات جاری کرنے کے ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔انسپکٹر جنرل اسلام آباد کی حالیہ تبدیلی کے تنازعے میں بنیادی کردار بااثر لینڈ مافیا کا ہے جو بنی گالہ سے ملحق شہزاد ٹاون کے قیمتی قطعہ اراضی پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایک وفاقی وزیر نے اس قطعہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرکے اس کے ایک بڑے حصے کو اپنے فارم ہاؤس میں شامل کرلیا ہے جبکہ بقیہ حصے پر ایک قبائلی خاندان آباد ہے۔یہ اراضی کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی ملکیت ہے ۔ اپنے ناجائز قبضے کو قانونی شکل دینے کے لیے وہ سی ڈی اے کو درخواستیں بھی دے چکیں ہیں ۔ وفاقی وزیر اور قبائلی خاندان کے درمیان متنازعہ اراضی کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ اس میں وزیر اعظم ،وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر اطلاعات کے علاوہ سرکاری ملازمین کو بھی ملوث کرکے جگ ہنسائی کا سامان مہیا کرکے اپنا دامن چھڑا کر ایک طرف بیٹھ گئے ہیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top