تازہ ترین
بھارت کے بعد پاکستان میں بھی ’می ٹو‘ کا آغاز، جنید اکرم پر الزام عائد

بھارت کے بعد پاکستان میں بھی ’می ٹو‘ کا آغاز، جنید اکرم پر الزام عائد

ویب ڈیسک:(11 اکتوبر 2018) گزشتہ چند ہفتوں سے پڑوسی ملک بھارت کی خواتین ’می ٹو‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرکے اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملات کو سامنے لا رہی ہیں۔

اب پاکستان میں بھی اس حوالے سے مہم کا آغاز ہوچکا ہے اور آغاز میں ہی ملک کے ایک سوشل میڈیا اسٹار پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔اگرچہ پاکستان میں تین دن قبل ہی سابق نیوز اینکر اور ٹی وی ہوسٹ رابعہ انعم نے ایک مبہم ٹوئیٹ کرکے ‘می ٹو’ مہم کو پاکستان میں شروع کرنے کا آغاز کردیا تھا۔

تاہم اب اس حوالے سے مزید بہادر خواتین سامنے آئی ہیں اور انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات سے پردہ اٹھایا ہے۔

رابعہ انعم نے 9 اکتوبر کو ٹوئیٹ کی تھی ’کچھ لڑکیاں ایک نامور سوشل میڈیا صارف اور کامیڈین کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں جس نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا، اس شخص نے نہ صرف درجنوں لڑکیوں سے جھوٹ کہا بلکہ انہیں خاموش رہنے پر بھی مجبور کیا ہے، کچھ لڑکیاں میرے پاس مدد کے لیے بھی آئیں ہیں، کیا کرنا چاہیے؟‘

انہوں نے ایک اور ٹوئیٹ میں کہا کہ تقریباً ہر لڑکی کے پاس اس کامیڈین کے خلاف ثبوت موجود ہیں لیکن وہ پبلک میں سامنے آنے سے صرف اس لیے ڈر رہی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔

بعد ازاں رابعہ سے ان کی ٹوئیٹ پر صارفین نے سوال کیا کہ وہ اس کامیڈین کا نام سب کے سامنے لائیں، جبکہ کئی افراد نے انہیں اس معاملے کو آگے بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کی اس ٹوئیٹ کے بعد کئی افراد نے کامیڈین اور سوشل میڈیا اسٹار جنید اکرم کا نام بھی لیا۔

سدرا عزیز نامی صارف نے لکھا کہ یہ لوگ جس متعلق بات کر رہے ہیں، وہ جنید اکرم ہی ہے۔

جنید اکرم کی جانب سے مبینہ طور جنسی ہراساں کی جانے والی لڑکیوں نے بتایا کہ جنید اکرم کس طرح ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتے تھے اور کس طرح ان سے واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے ہونے والی چیٹنگ کے دوران انہیں فحش پیغامات بھیجتے تھے۔

جنید اکرم پر الزامات لگانے والی خواتین کا دعویٰ تھا کہ کامیڈین ان کے ساتھ نہ صرف برا سلوک کرتے رہے، بلکہ ان کے ساتھ نامناسب رویہ اور حرکتیں کرنے سمیت ان سے فحش زبان میں گفتگو بھی کرتے تھے اور مختلف قسم کے مطالبات بھی کرتے تھے۔جنید اکرم پر الزامات لگانے والی خواتین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ جن دنوں میں انہیں کامیڈین نے جنسی طور پر ہراساں کیا، اس وقت وہ محض 16 سال کی تھیں اور انہوں نے اپنا او لیول مکمل کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ جنید اکرم کو بہت پسند کرتی تھیں، اس لیے وہ ان کی پوسٹ پر کمنٹس کرتی رہتی تھیں، لیکن بعد ازاں کامیڈین نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا، کیوں کہ بقول ان کے ایسا کرنے سے کچھ عمر رسیدہ افراد لڑکی کو ہراساں کریں گے۔

دوسری جانب الزامات سامنے آنے کے بعد جنید اکرم نے ٹوئیٹ کے ذریعے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ انہیں بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

اپنی مختصر ٹوئیٹ میں انہوں نے بتایا کہ وہ بلیک میلر یا کسی کو ہراساں کرنے والے انسان نہیں ہیں، بلکہ وہ بہت ہی ملنسار شخص ہیں۔

جنید اکرم کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر انہیں بدنام اور ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، جس کے لیے انہوں نے قانونی ٹیم کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں۔

ٹوئیٹ کے علاوہ نجی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے جنید اکرم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ وہ سوشل میڈیا اسٹار ہیں اور وہ ہر قسم کے لوگوں سے بات کرتے ہیں، تاہم ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں اور لگائے گئے الزامات کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک کسی کو بلیک میل اور ہراساں نہیں کیا۔

جنید اکرم نے کہا کہ الزامات لگائے جانے کے بعد انہوں نے قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کرلی ہیں اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا جواب دینے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اداکار عامر خان کا جنسی ہراسانی میں ملوث ہدایتکار کی فلم چھوڑنے کا اعلان

اداکار عمران خان بھی جنسی ہراسانی کیخلاف بول پڑے

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top