تازہ ترین
بُگل بج گیا۔۔

بُگل بج گیا۔۔

پاکستان کی جمہوری اور انتخابی تاریخ میں عام انتخابات کے انعقاد کے تین ماہ کے اندر اندر اتنی بڑی تعداد میں ضمنی انتخابات ہونا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی میں ملک کے سیاسی اور اقتصادی حالات کا بڑا عمل دخل رہا ہے اس کے علاوہ خلائی مخلوق کی خفیہ کارستانیاں بھی شامل رہی ہیں ۔ عام انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف انکی صاحبزادی مریم اور داماد پر پراسرار طور پر سزائیں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی نہ لگائی جاتی تو صورتحال یقینا یکسر مختلف ہوتی۔تحریک انصاف کو کھلا میدان کامیابی حاصل کرنے کے لیے حاصل تھا  اس گمان کو حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف نے یقین میں تبدیل کردیا اور ان کو سو فیصد یہ امید اور گمان تھا کہ وہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر عام انتخابات کی طرح آسانی کے ساتھ کامیابی حاصل کرلیں گے  وہ ہوا کا رخ پہچاننے میں بری طرح ناکام رہے۔ ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کی ناکامی کی یوں تو بہت سی وجوہات ہیں لیکن اقتصادی اور سیاسی مسائل کو مرکزیت حاصل ہے۔ گیس، پیٹرول اور ضروریات زندگی کی ہوش ربا مہنگائی نے عوام کو تحریک انصاف سے بد ظن کرنے اور انکے وعدوں پر سے اعتبار اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے ترجمان اور انکے مرکزی رہنما عوام کو صبر و شکر کے ساتھ مہنگائی، بے روزگاری اور پینے کے پانی کے مسائل کو خاموشی سے برداشت کرنے کی تلقین کرتے رہے اسکے ساتھ یہ نوید بھی سناتے رہے کہ آئندہ چند دنوں میں مذید مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔عمران کان نے عوام سے سو دنوں کے اندر ملک میں بڑی تبدیلیاں لانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس مدت کے خاتمے پر یقینا تبدیلی کو عملی طور پر محسوس کریں گے ۔ عمران خان کے سو دنوں کی مہلت کے ساٹھ دن مکمل ہونے والے ہیں اس مدت میں اقتصادی شعبے میں جو افراتفری دیکھنے میں آئی اسی کے تحت قوم نے سو دنوں میں رونما ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی کا اظہار ضمنی انتخابات کے نتائج کی شکل میں دے دیا ہے۔ حکومتی ترجمان اپنی شکست کو یہ کہہ کر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں کہ اگر ہمارے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں حصہ لیتے تو ضمنی انتخابات کے نتائج یقینا عام انتخابات کی ہی طرح ہوتے۔ اگر اس دلیل کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو مسلم لیگ ن بھی یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوگی کہ اگر انکے رہنما نواز شریف اور مریم آزاد ہوتے تو عام انتخابات میں نتائج یقینا تحریک انصاف کے حق میں نہ ہوتے ۔ رائے عامہ کی سوچ و فکر اور رجحان کی تبدیلی کا اندازہ حکومت کے ترجمان اعلیٰ فواد چوہدری کے حلقہ انتخاب میں ہونے والے صوبائی ضمنی انتخاب کے نتیجے میں تحریک انصاف کے امیدوار کی شکست سے لگایا جاسکتا ہے ، یاد رہے کہ یہ حلقہ خود فواد چوہدری کی جیتی ہوئی نشست کا ہے ۔ پنجاب کی صورتحال کا اندازہ ہر شخص کو محسوس ہورہا ہے خود وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ وہ بولتے کم ہیں کام زیادہ کرتے ہیں ،انکی اعلیٰ کارکردگی اور سیاسی سوجھ بوجھ کا اندازہ عہدء سنبھالنے کے تین یا چار دنوں بعد سے ہونے لگا تھا جس وقت پاکپتن کے ڈی پی او کی راتوں رات غیر قانونی طریقے سے تبدیلی عمل میں لائی گئی۔اس سارے ڈرامے کی گونج عدالت عالیہ میں بھی سنی گئی جہاں چیف جسٹس آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ کو آئندہ محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے وارننگ دی کہ مستقبل میں ایسی کوئی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ اس واقع کے بعد صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس پر اپنی مرضی کے تبادلوں کے سلسلے میں دباو کو تسلیم نہ کرنے کے جرم میں تبدیل ہونا پڑا ۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بیورو کریٹس آئین و قانون کے مطابق فرائض انجام دینے میں آزاد ہیں اور انکو کسی قسم کا سیاسی دباو قبول نہیں کرنا چاہیے لیکن بقول وفاقی حکومت کے ترجمان کہ اگر اعلیٰ افسران نے اپنے عہدوں پر برقرار رہنا ہے تو انکو حکومت کے فیصلوں پر بغیر کسی چو چرا کے عمل کرنا ہوگا اور جو افسر ایسا نہیں کریں گے انکو بوریا بسترا لپیٹ کر اپنے گھروں کو جانا ہوگا۔اس دھمکی آمیز رویے یا فیصلے کے بعد بیوروکریٹس سے یہ توقع کرنا کہ وہ ایمانداری اور قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں گے محض خام خیالی ہوگا۔ تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے ابھی تین ماہ ہوئے ہیں بقیہ ساڑھے چار سال کے دوران وہ کیا گل کھلائے گی اسکا بخوبی اندازہ اسکی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے تضادات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ چین ،سعودی عرب اور ایران ہمارے انتہائی قریبی اور برے وقت کے دوست ہیں ، آج انکو بھی ہمارے رویے سے شکایات پیدا ہوچکی ہیں ۔ سی پیک کے معاملات اور چین کے ساتھ کیے جانے والے مالی امداد کے معاہدوں تک آئی ایم ایف کو رسائی دینے پر چین کی ناراضگی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔قوم کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور سنہرے خواب دیکھا کر یوٹرن لینے پر قوم نے اپنے غم و غصے کا اظہار ابتدائی تین مہینوں میں مؤثر انداز سے کرنا شروع کردیا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ عوام میں جو غم و غصہ سیاسی و اقتصادی وجوہات سے پیدا ہورہا ہے اسکا فی الحال سڑکوں پر عوامی احتجاج کی شکل میں مظاہرہ نہیں ہورہا لیکن وہ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار آئینی حق استعمال کرتے ہوئے حکمرانوں کو آگاہ کررہے ہیں کہ بگل بج گیا ہے، پگڑی سنبھال جٹا،پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top