تازہ ترین
بھارت مسلسل مذاکرات سے انکار کررہا ہے، میجرجنرل آصف غفور

بھارت مسلسل مذاکرات سے انکار کررہا ہے، میجرجنرل آصف غفور

راولپنڈی:(06دسمبر،2018)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ سال دوہزار اٹھارہ میں بھارت کی جانب جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے،بھارتی فوج شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے، جنگ بندی معاہدے پر دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے میڈیابریفنگ دیتے ہوئے کہا آج کی بریفنگ میں سرحدوں اورملک کی موجودگی صورتحال شیئرکروں ، اور پہلے لائن آف کنٹرول سے متعلق آگاہ کروں گا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

Posted by Abbtakk on Thursday, December 6, 2018

لائن آف کنٹرول کی صورت حال

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیزلائن کی خلاف ورزی میں اضافہ ہوا، پچھلے دو سالوں میں ایل اوسی پر سیزفائر کی خلاف ورزی میں اضافہ ہوا ہے، سیزفائرکی خلاف ورزیاں دوہزار سترہ اور اٹھارہ میں زیادہ ہوئیں، بھارت کی جانب سےسیزفائرکی خلاف ورزی کاگراف تیزی سےاوپرجارہاہے۔صرف دوہزار اٹھارہ بھارتی اشتعال انگیزی کے باعث پچپن شہری شہید جبکہ تین سو زخمی ہوچکے ہیں۔

بلوچستان کے حالات کا ذکر

تفصیلات کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے، پچھلے سالوں کی نسبت سال دوہزار اٹھارہ میں دو سو سے زائد فراریوں نے ہتھیار ڈالے اور خود کو قومی دھارے میں شامل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پہاڑوں پربیٹھےلوگ واپسی کی طرف آرہےہیں، پہاڑوں پربیٹھےلوگ قومی دھارےمیں شامل ہوں اورترقی میں کرداراداکریں، پہاڑوں پر بیٹھےلوگوں نے بیرون ممالک بیٹھےعناصرسےقطع تعلق کرناشروع کردیاہے۔

کراچی آپریشن کا تذکرہ

نیوز بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے، جس کا کریڈٹ پاکستان رینجرز سندھ کو جاتا ہے، جس نے جانفشانی سے کام کیا ہے اور اس شہر کی روشنیاں واپس لوٹائی ہیں جبکہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی ایک زمانے میں جرائم کی شرح کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب یہاں صورتحال بہت بہتر ہے، اور یہاں دہشت گردی میں 99 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں بریفنگ

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پشتون تحفظ قومی موومنٹ کی جانب سے تین مطالبات کئے گئے تھے، جن میں چیک پوسٹس میں کمی، کلیئر قرار دئیے گئے علاقوں سے مائنز کی صفائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پندرہ سال جنگ لڑی، جس کے دوران بہت سے دہشت گرد مارے بھی گئے، اس وقت بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی فورس وہاں بیٹھی ہے تو یہ کیسے ثابت ہوگا کہ لاپتہ افراد ان کی فورس میں شامل نہ ہوں، یا کسی اور جگہ لڑائی ہیں استعمال نہ ہورہے ہوں۔جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ میں بتایا کہ ہماری تحقیقات جاری ہیں کہ پی ٹی ایم کیسےچل رہی ہے، بہت جلدبتائیں گےپی ٹی ایم کیسےچل رہی ہے، بہت سےلوگوں نےکہاپی ٹی ایم پرپاک فوج نےہلکا ہاتھ رکھا ہے، ہم نےپی ٹی ایم سےبات چیت کی۔

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم نےغلط باتیں ضرورکیں لیکن ابھی تک پرتشددکارروائیاں نہیں کیں، پی ٹی ایم سےدرخواست ہےان کے مطالبات پر کام ہورہاہے، احساس ہےپی ٹی ایم کےلوگ بھی دہشت گردی سےمتاثرہ ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ستر ہزار پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لڑتےہوئے شہید یا زخمی ہوئے، وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں،ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ریاست نے پی ٹی ایم والوں کے ساتھ تعاون کیا، لیکن یہ لوگ جس طرف جارہے ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ وہ لائن کراس کرلیں، جس کے بعد ریاست کو اپنا زور لگا کر صورتحال کو قابو کرنا پڑے۔

آپریشن رد الفساد کے دوران کی گئی کارروائیاں

ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے دوران کی گئی کارروائیوں کے اعدادشمار بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت چوالیس بڑے آپریشن کیے گئے،اس دوران ملک سے بتیس ہزار سے زائد ہتھیار چھوٹے بڑے ہتھیار کیے گئے۔

کرتارپور راہداری پر موقف

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سےکرتارپورراہداری کھولی گئی، پاکستان کا کرتارپورراہداری کھولنادوستی کی طرف قدم ہے، کرتار پور راہداری میں انٹری پوائنٹ سے فینس کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کرتارپورراہداری ون وےمنصوبہ ہےجس میں سکھ یاتریوں کی آمدہوگی، منصوبےکےتحت چارہزار سکھ یاتری روزانہ پاکستان آسکیں گے۔

لاپتہ افراد کے بارے میں بریفنگ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاپتہ افراد کے حوالے سے بتایا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن بنااوروہ روزانہ کی بنیاد پرسماعت کرتاہے، دوہزار دس اور دوہزار گیارہ میں لاپتہ افرادکے تقریباًسات ہزارکیسزآئے، سات ہزار کیسز میں سے چار ہزارسےزائد کیسزحل ہوچکے ہیں ، جبکہ کمیشن میں تین ہزارکیسزکی سماعت جاری ہے۔

میجرجنرل آصف غفور نے بتایا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی جس میں بہت سےدہشت گردمارےبھی گئے، افغانستان میں دہشت گردگروپس موجود ہیں، کیا اس تناظرکونہیں دیکھاجاتاکہیں وہ ان گروپس کاحصہ بنےہوں، کوئی بھی پاکستانی کسی وجہ سےلاپتہ ہےوہ ہمیں بھی اتناہی عزیز ہے۔

فوج میں احتساب پر بریفنگ

نیوز کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آرنے بتایا کہ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے، آج کل کھلےعام پاک فوج پرتنقیدکی جاتی ہے، مگر آپ کو بتاتاچلوں کہ پاک فوج میں صرف دو سال میں چار سو افسران کو مختلف جرائم پرسزائیں ہوئیں، جن میں سپاہی سے لیکر افسران تک شامل تھے، بلکہ کئی کو جیل بھی ہوئی۔

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں بھی قانون کےمطابق سزائیں دی جاتی ہیں، پاک فوج میں ایک فوجی افسرکو دس ہزارروپےکی کرپشن کرگھربھیج دیاگیا۔

نیوز کانفرنس میں ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ پاکستان قدرتی وسائل سےمالامال ہے، پاکستان ایک نازک دورسےگزرکردوسرےاورپھرتیسرےنازک دورمیں آیا، ان نازک دورمیں پاکستان کیسےآیاکون ذمہ دارہےبہت بحث ہوتی ہے، بھارت سمیت مختلف ممالک کےساتھ ہمارےایشوزہیں، بھارت کیساتھ ہماراسب سے پہلاایشومسئلہ کشمیرہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جمہوریت ہویاڈکٹیٹرشپ اورجمہوریت میں باریاں لینا ان ایشوزکودیکھناہوگا، مسائل کیوں ہیں اس پربھی توجہ دینےکی ضرورت ہے، کبھی مسلک توکبھی مذہب کےنام پرلڑوایاگیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ آج ہم نازک دورمیں نہیں،آج اچھاوقت ہے، ترقیاتی کام بھی ہورہے اورترقی کی طرف بھی جارہےہیں، فیصلہ ہم نےکرناہےکیاترقی کی طرف جاناہےیانازک دورمیں ہی رہناہے، پاک فوج نےوہ حالات بھی دیکھےہیں جب ساتھی اپنےہی ہاتھ میں دم توڑرہاہوتاتھا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کےتمام اداروں نےکام کیاہے،دہشت گردی کیخلاف بھرپورجنگ لڑی ہے، آگےہمیں کیسے چلناچاہیے، اللہ کی رسی کومضبوطی سےتھامنااورتفرقہ نہیں کرناچاہیے، ترقیاتی کاموں پرتوجہ دینی چاہیے،آپس کےاختلافات کوپس پشت ڈالناچاہیے،۔نیوز بریفنگ کے بعد سوالات کا سیشن شروع ہوا، جہاں صحافی نے سوال کیا کہ کرتارپورمنصوبے کے سنگ بنیاد کے بعد بھارت کو مذاکرات کی دعوت بھی دی گئی لیکن جواب مثبت نہیں آیا، بھارتی آرمی چیف نے جواباً کہاکہ پاکستان سیکولر ریاست بنے۔

اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس کا جواب پہلے ہی دفترخارجہ دے چکا ہے، ہماری ریاست ہی اسلام کے نام پر بنی اور ہم مسلمان ہیں، بھارت کو ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں، وہ خود پہلے سیکولر بن جائیں، وہاں دو سو ملین مسلمانوں کی کیا حالت ہے ، ہم نے دوسرے مذہب کا احترام کرتے ہوئے کرتارپورراہداری کھول دی ، پاکستان میں موجود مندروں کوبھی سیکیورٹی دیتے ہیں، ہم جیسے ہیں، ویساہی ہمیں برداشت کریں۔ اس پر شرکابھی مسکرادیئے۔

Comments are closed.

Scroll To Top