تازہ ترین
آئندہ مالی سال کیلئے 5500 ارب روپے کا بجٹ پیش

آئندہ مالی سال کیلئے 5500 ارب روپے کا بجٹ پیش

اسلام آباد: (27 اپریل 2018) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئندہ مالی سال 19-2018ء کا بجٹ پیش کردیا ہے جس کے تحت یکم جولائی سے سول و فوجی ملازمین کیلئے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں معیشت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 14-2013ء میں ایک تباہ شدہ معیشت ملی تھی لیکن حکومتی کارکردگی کی وجہ سے معاشی ترقی کی شرح 13 سال کی بلند ترین سطح پر رہی جو اب 5 اعشاریہ 8 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ (ن) لیگ نے حکومت سنبھالی تو ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں تھی اور دہشتگردی کا سامنا تھا۔ 2013 ء میں مسلم لیگ (ن) نے معیشت میں بہتری کیلئے اقدامات کیے اور ذاتی مفادات کو کبھی ترجیح نہیں دی۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 19-2018ء کے وفاقی بجٹ کا حجم 5 ہزار 932 ارب سے زائد ہے۔ بجٹ میں بجلی کی گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشنز پر عائد 16 فیصد کسٹم ڈیوٹی واپس لینے کی تجویز کی گئی ہے۔ جبکہ ایل ای ڈیز کی تیاری کیلئے مختلف پارٹس کی درآمد پر عائد 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی واپس لینے اور گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی کم کر کے 25 فیصد اور 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

بجٹ 19-2018ء میں سرکاری ملازمین کے ہاؤس رینٹ میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور بڑے افسران کی کارکردگی کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سول و عسکری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد کا ایڈہاک ریلیف، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 124 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تفصیلات

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں پنشن کیلئے 342 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ، دفاع کیلئے 1100 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ اور سبسڈیز کیلئے 174 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں وفاق کے اخراجات کا تخمینہ 5 ہزار 246 ارب روپے ہے، جبکہ قرضوں اور سود کیلئے ایک ہزار 620 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ ترقیاتی بجٹ ایک ہزار 67 ارب روپے ہوگا۔ ٹیکس آمدن کا ہدف 4 ہزار 435 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدن کا ہدف 771 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا بجٹ 19-2018ء میں تنخواہ اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ فیملی پنشن کو 4 ہزار 500 سے بڑھا کر 7 ہزار 500 روپے کیا جا رہا ہے۔ 75 سال سے زیادہ کے عمر کے پنشنرز کو 15 ہزار روپے ماہانہ دیا جائے گا۔ جبکہ کم سے کم پنشن 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار کی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گذشتہ سال مجموعی ترقی کی شرح میں 5.4 فیصد رہی، پانچ سال میں 33 ہزار 285 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ ترسیلات زر 20 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 11 ارب ڈالرز سے تجاوز کر جائیں گے۔

بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ مالی سال 19-2018ء میں تنخوا دار طبقے کیلئے بڑا ریلیف دیتے ہوئے سالانہ 12 لاکھ کمانے والے کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 سے 4 لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں پر 10 فیصد جبکہ 4 لاکھ سے زائد ماہانہ آمدن پر 15 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ سالانہ 24 لاکھ سے اور زائد 48 لاکھ سے کم کمانے والے پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ سالانہ 24 لاکھ سے زائد اور 48 لاکھ سے کم تنخواہ والوں کو ٹیکس کے علاوہ 7 ہزار روپے بھی ادا کرنے ہوں گے۔ سالانہ 48 لاکھ سے زائد کمانے والوں پر 15 فیص ٹیکس لاگو ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں جائیداد کی خرید وفروخت پر ایف بی آر کے مقرر کردہ نرخ ختم کرنے اور جائیداد کے سودوں کے اندراج میں فریقین کے مابین باہمی معاہدے میں طے کردہ قیمت ہی تصور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی قرضے 800 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے جبکہ نجی قرضے 441 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ برآمدات میں 13 فیصد جبکہ درآمدات میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال شرح نمو 5.8 فیصد رہی جو گزشتہ 13 سال میں بلند ترین سطح ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کا حجم 34 ہزار ارب سے بڑھ چکا ہے۔ حالیہ سال زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 3.58 فیصد رہی۔ کسانوں کو مختلف قسم کے مراعات دی گئیں جس سے زراعت میں ترقی ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح 3 اعشاریہ 8 فیصد رہی جبکہ مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک محدود رہے گا۔ 5 ارب روپے سے ایگریکلچر فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مالیاتی خسارہ 8.2 فیصد سے کم کر کے 5.5 فیصد پر لے آئے۔ 5 سال میں ٹیکس وصولیوں میں 2 ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا۔ معشیت کا حجم 34 ہزار ارب سے بڑھ چکا ہے۔ آج ہم دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 9 ماہ میں برآمدات میں 13 فیصد جبکہ گذشتہ ماہ برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی درآمدات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال کے آخر تک ترسیلات زر 20 ارب ڈالرز کا ریکارڈ عبور کریں گی۔ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ کا سرمایہ 100 ارب ڈالرز ہوگیا۔ گذشتہ 5 سال میں 223 ارب ڈالرز کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں زرعی قرضوں کا ہدف ایک ہزار 100 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ زرعی شعبے کو 800 ارب روپے کے قرضے دے رہے ہیں۔ زرعی شعبے کیلئے مراعات جاری رکھی جائیں گی۔ کھادوں پر جنرل سیلز ٹیکس 2 فیصد لا رہے ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد ہوگا۔ آئندہ 3 سال میں مالیاتی خسارہ بتدریج کم کیا جائے گا۔ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 435 ارب جبکہ اقتصادی شرح نمو کا ہدف 6.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو 2 ہزار 500 ارب منتقل ہوئے ہیں۔ عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کیلئے خطیر رقم رکھی گئی ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مزید بتایا کہ آئندہ بجٹ میں بی آئی ایس پی کیلئے 125 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ جبکہ وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کیلئے 10 ارب مختص کیے گئے ہیں اور سماجی تحفظ کے پروگرام کو جاری رکھا جائے گا۔

Comments are closed.

Scroll To Top